وزیراعظم نے ہر سال 10 مئی کو یوم معرکہ حق منانے کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم شہباز شریف نے ہر سال 10 مئی کو یوم معرکہ حق منانے کا اعلان کردیا۔پاکستان نے بھارتی جارحیت کے جواب میں آپریشن بنیان مرصوص لانچ کیا جو کامیاب ہوا اور دشمن کے دفاعی نظام کو تباہ کیا۔وزیراعظم نے ہر سال 10 مئی کو یوم معرکہ حق منانے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوم معرکہ حق ملک میں جوش و خروش اور جذبہ ملی وحدت سے منایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھاکہ بہادر افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں نے ہمارے سر فخر سے بلند کر دیے ہیں۔
وزیرِ اعظم نے 16 مئی کو افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کرنے اور اللہ کے حضور سجدہ شکر بجا لانے کے دن کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا اور کہا کہ جمعے کے دن یوم تشکر کے تسلسل میں خصوصی نوافل ادا کریں گے، اللہ کی بارگاہ میں سجدہ شکر بجا لائیں گے اور ملک و قوم کی ترقی کیلئے دعائیں کریں گے۔دوسری جانب پاکستان نے آپریشن بنیان المرصوص کی تکمیل کا اعلان کردیا۔ بھارت کے ساتھ 22 اپریل سے 9 مئی تک کے معرکے کو معرکہ حق کا نام دیا گیا جبکہ 10 مئی کی کارروائی آپریشن بنیان مرصوص کے تحت ہوئی۔آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان نے بھارتی فوجی جارحیت اور اپنے شہریوں کے بے رحمانہ قتل کے خلاف انصاف اور بدلہ لینے کا عزم کیا تھا، مسلح افواج نے عوام سے کیا گیا اپنا وعدہ پورا کردیا، بے شمار مدد و نصرت پر اللہ کے حضور انتہائی عاجزی کے ساتھ سجدہ ریز ہیں۔
کانگریس نے ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کو شرمناک، توہین آمیز اور ذلت آمیز قرار دے دیا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: یوم معرکہ حق منانے کا کا اعلان مئی کو
پڑھیں:
امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔
Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…
— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026
انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔
یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔
امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔
یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔
دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔
اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔
مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے