ملتان، سلیم عباس صدیقی ایم ڈبلیو ایم ایمپلائزونگ کے مرکزی صدر نامزد
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
سلیم عباس صدیقی اس سے قبل جماعت میں جنوبی پنجاب کے صوبائی جنرل سیکریٹری اور گذشتہ تین سال مرکزی ڈپٹی جنرل سیکریٹری کے طور پر فرائض انجام دے چکے ہیں۔ سلیم عباس صدیقی زمانہ طالبعلمی میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے وابستہ رہے ہیں، وہ اس وقت ایک وفاقی ادارے میں ملازمت کررہے ہیں، ادارے کی یونین میں کافی سرگرم ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ چیئرمین مجلسِ وحدت مسلمین پاکستان سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے سلیم عباس صدیقی کو مرکزی صدر ایم ڈبلیوایم ایمپلائز ونگ نامزد کر دیا ہے۔اس بات کا اعلان انہوں نے مرکزی کابینہ کے پہلے باضابطہ اجلاس کے دوران کیا، واضح رہے کہ سلیم عباس صدیقی اس سے قبل جماعت میں جنوبی پنجاب کے صوبائی جنرل سیکریٹری اور گذشتہ تین سال مرکزی ڈپٹی جنرل سیکریٹری کے طور پر فرائض انجام دے چکے ہیں۔ سلیم عباس صدیقی زمانہ طالبعلمی میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے وابستہ رہے ہیں، وہ اس وقت ایک وفاقی ادارے میں ملازمت کررہے ہیں، ادارے کی یونین میں کافی سرگرم ہیں، علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے امید کا اظہار کیا ہے کہ سلیم عباس صدیقی شعبہ ایمپلائز ونگ کی ملک بھرمیں تنظیم سازی اور وسعت کیلئے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک