جنگ کی مخالفت پر نامور مسلم صحافی کو دھمکیاں، ہندو انتہاپسندوں کی فحش مہم
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
نئی دہلی: بھارت کی معروف مسلم صحافی عارفہ خانم شیروانی کو جنگ مخالف اور امن پسند مؤقف اختیار کرنے پر ہندو انتہاپسندوں کی جانب سے شدید ہراسانی، دھمکیوں اور فحش پیغامات کا سامنا ہے۔
دی وائر کی سینئر ایڈیٹر اور ایوارڈ یافتہ صحافی عارفہ خانم کو صرف اس وجہ سے ملک دشمن اور غدار قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ انہوں نے حالیہ پاک بھارت کشیدگی پر امن کا پیغام دیا اور جنگ کی مخالفت کی۔
فیکٹ چیکنگ ادارے آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر کا کہنا ہے کہ یہ کوئی اتفاقیہ مہم نہیں، بلکہ "ہندوتوا نائٹ" نامی سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے ذریعے ایک منظم انداز میں مسلم صحافیوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ اکاؤنٹ پہلے بھی کئی مسلم صحافیوں پر نفرت انگیز مہم چلا چکا ہے۔
عارفہ خانم کو ملنے والی دھمکیوں پر بھارتی پولیس اور حکومت نے اب تک کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ ناقدین کے مطابق حکومت کی خاموشی خود اس طرح کی مہمات کو حوصلہ دیتی ہے، جس سے نہ صرف مسلم صحافی بلکہ اقلیتوں میں شدید خوف و ہراس پھیلتا ہے۔
یہ سارا منظرنامہ اس وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان کی کامیاب دفاعی کارروائی 'بنیان مرصوص' کے بعد بھارتی میڈیا اور حکومت سخت بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، اور اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے امن پسند آوازوں کو خاموش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مسلم صحافی
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔