نئی دہلی: بھارت کی معروف مسلم صحافی عارفہ خانم شیروانی کو جنگ مخالف اور امن پسند مؤقف اختیار کرنے پر ہندو انتہاپسندوں کی جانب سے شدید ہراسانی، دھمکیوں اور فحش پیغامات کا سامنا ہے۔

دی وائر کی سینئر ایڈیٹر اور ایوارڈ یافتہ صحافی عارفہ خانم کو صرف اس وجہ سے ملک دشمن اور غدار قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ انہوں نے حالیہ پاک بھارت کشیدگی پر امن کا پیغام دیا اور جنگ کی مخالفت کی۔

فیکٹ چیکنگ ادارے آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر کا کہنا ہے کہ یہ کوئی اتفاقیہ مہم نہیں، بلکہ "ہندوتوا نائٹ" نامی سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے ذریعے ایک منظم انداز میں مسلم صحافیوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ اکاؤنٹ پہلے بھی کئی مسلم صحافیوں پر نفرت انگیز مہم چلا چکا ہے۔

عارفہ خانم کو ملنے والی دھمکیوں پر بھارتی پولیس اور حکومت نے اب تک کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ ناقدین کے مطابق حکومت کی خاموشی خود اس طرح کی مہمات کو حوصلہ دیتی ہے، جس سے نہ صرف مسلم صحافی بلکہ اقلیتوں میں شدید خوف و ہراس پھیلتا ہے۔

یہ سارا منظرنامہ اس وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان کی کامیاب دفاعی کارروائی 'بنیان مرصوص' کے بعد بھارتی میڈیا اور حکومت سخت بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، اور اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے امن پسند آوازوں کو خاموش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مسلم صحافی

پڑھیں:

سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026

59 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔

اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔

سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت