اسلام آباد:قومی اسمبلی نے گھرکی ادارہ برائے سائنس و ٹیکنالوجی بل 2024 کی کثرتِ رائے سے منظوری دے دی۔

جے یو آئی کی رکن عالیہ کامران کی بل میں پیش کی گئی ترامیم مسترد کر دی گئیں۔

علالیہ کامران نے کہا کہ فیڈرل لیجسلیٹو لسٹ میں محکمہ تعلیم نہیں ہے، یہ بل منظور کیا گیا تو 18ویں آئینی ترمیم کی مخالفت ہوگی اور یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ مین کیمپس تو لاہور میں ہوگا مگر سب کیمپس اسلام آباد میں ہوگا۔

بل کی محرک ثمینہ خالد گھرکی نے کہا کہ اس بل پر چھ ماہ مشاورت ہوئی ہے، ہمارے گھرکی اسپتال کے ساتھ یونیورسٹی بننے کا فائدہ ہوگا۔

پی پی پی آغا رفیع اللہ نے کہا کہ میں پہلے ہی قانون پیش کر چکا ہوں کہ ہر یونیورسٹی میں 25فیصد کوٹہ مستحق طلبا و طالبات مختص کیا جائے، تمام تعلیمی اداروں میں 25 فیصد طلبا کا کوٹہ مختص ہونا چاہیے۔

ثمینہ خالد گھرکی نے کہا کہ ہم 25فیصد مستحق کوٹہ رکھنے کی حمائت کرتے ہیں، جس پر آغا رفیع اللہ کی ترمیم منظور کر لی گئی۔

بین الاقوامی امتحانات بورڈ بل

بین الاقوامی امتحانات بورڈ بل 2024 قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کی صورت میں پیش کرنے کی تحریک پیش کی گئی جس پر حکومت نے بل کی حمایت کر دی۔

بین الاقوامی امتحانات بورڈ بل 2024 رانا قاسم نون نے پیش کیا جس کی شق وار منظوری لی گئی۔ بین الاقوامی امتحانات بل بورڈ بھی قومی اسمبلی سے منظور کر لیا گیا۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: بین الاقوامی امتحانات نے کہا کہ

پڑھیں:

کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی

کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ کے دوسرے روز بھی پاکستان کا جادو سر چڑھ کر بولا، قومی ٹیم نے بنگلادیش کو کسی بھی مرحلے پر سنبھلنے کا موقع نہ دیا اور مسلسل تین سیٹ جیت کر 0-3 سے شاندار فتح اپنے نام کر لی۔

پاکستان نے آغاز سے ہی جارحانہ کھیل پیش کرتے ہوئے پہلا سیٹ 16-25 سے جیتا، دوسرے سیٹ میں بھی سبز ہلالی پرچم بلند رکھا اور 17-25 سے کامیابی سمیٹی۔

تیسرے سیٹ میں بنگلادیش نے بھرپور مزاحمت کی، مگر پاکستانی کھلاڑیوں نے اعتماد اور مہارت کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے 22-25 سے فتح حاصل کی اور میچ بغیر کوئی سیٹ گنوائے تین صفر سے اپنے نام کر لیا۔

قومی ٹیم کی یہ مسلسل دوسری فتح کاوا چیمپئن شپ میں پاکستان کے مضبوط عزائم کا واضح اعلان ہے جبکہ شاندار کارکردگی نے ٹائٹل کی دوڑ میں پاکستان کو مزید مضبوط امیدوار بنا دیا۔

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن