UrduPoint:
2026-07-24@08:48:14 GMT

امدادی بندش: غزہ میں غذائی قلت کے باعث 57 بچے ہلاک

اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT

امدادی بندش: غزہ میں غذائی قلت کے باعث 57 بچے ہلاک

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 13 مئی 2025ء) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بتایا ہے کہ غزہ میں 2 مارچ کو امداد کی فراہمی بند ہونے کے بعد 57 بچے غذائی قلت کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ دیگر کو تاعمر طبی مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔

ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اگر علاقے میں جنگ جاری رہی اور امداد کی ترسیل بحال نہ ہوئی تو آئندہ 11 ماہ میں پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً 71 ہزار بچے غذائی قلت کے نتیجے میں جسمانی عوارض کا شکار ہو جائیں گے۔

Tweet URL

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں 'ڈبلیو ایچ او' کے نمائندے ڈاکٹر رک پیپرکورن نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ غزہ میں بھوک کا بدترین بحران جنم لے رہا ہے۔

(جاری ہے)

ادارے کے پاس شدید درجے کی غذائی قلت کا شکار 500 بچوں کے علاج کا سامان ہی باقی رہ گیا ہے۔ لوگ ایسے حالات میں پھنس گئے ہیں جہاں متنوع خوراک کی عدم موجودگی، غذائی قلت اور بیماریاں ان پر بیک وقت حملہ آور ہو رہی ہیں۔

غذائی تحفظ کے ماہرین خبردار کر چکے ہیں کہ غزہ میں تقریباً پانچ لاکھ لوگوں کو بھوک کا سامنا ہے اور موجودہ حالات برقرار رہنے کی صورت میں 30 ستمبر تک بہت سے علاقوں میں قحط پھیل سکتا ہے۔

بھوک کا بڑھتا بحران

ڈاکٹر پیپرکورن نے بتایا کہ انہوں نے گزشتہ دنوں شمالی غزہ کے کمال عدوان ہسپتال کا دورہ کیا جہاں 'ڈبلیو ایچ او' کی مدد سے چلائے جانے والے غذائیت کے مرکز میں روزانہ 300 سے زیادہ بچوں کا معائنہ کیا جاتا ہے۔ اس دورے میں ہسپتال نے آگاہ کیا کہ طبی معائنے کے لیے لائے جانے والے 11 فیصد سے زیادہ بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہوتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ ہسپتال میں ان بچوں کو خود دیکھ چکے ہیں جن میں ایک کی عمر پانچ برس تھی لیکن وہ ڈھائی برس کا دکھائی دیتا تھا۔

'ڈبلیو ایچ او' غزہ کے 19 طبی مراکز میں غذائی قلت کے علاج میں مدد دیتا ہے تاہم، اسرائیل کی جانب سے امداد کی فراہمی روکے جانے سے ادارے کے لیے اپنا کام جاری رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔

ڈاکٹر پیپرکورن نے خبردار کیا ہے کہ طویل مدتی غذائی قلت کے اثرات بڑھوتری رک جانے اور جسمانی معذوری کی صورت میں تاعمر برقرار رہ سکتے ہیں۔

حسب ضرورت غذائیت والی خوراک، صاف پانی اور طبی نگہداشت تک رسائی بحال نہ ہونے کی صورت میں غزہ کے بچوں کی پوری نسل غذائی قلت کے مستقل منفی اثرات کا شکار ہو جائے گی۔

انہوں نے بتایا ہے کہ 'ڈبلیو ایچ او' اسرائیلی حکام کے سامنے متواتر یہ معاملہ اٹھا رہا ہے۔ ادارے کے 31 امدادی ٹرک رفح کی سرحد سے چند کلومیٹر دور مصر کے علاقے العریش میں کھڑے ہیں جبکہ مغربی کنارے میں بھی امدادی سامان کی بڑی مقدار موجود ہے جسے اجازت ملتے ہیں غزہ میں بھیجا جا سکتا ہے۔

طبی مراکز کو تحفظ دینے کا مطالبہ

ڈاکٹر پیپرکورن نے بتایا کہ جنوبی غزہ کے علاقے خان یونس میں واقع نصر میڈیکل کمپلیکس کے برن یونٹ کو آج اسرائیل کی جانب سے حملے کا نشانہ بنایا گیا جس میں دو افراد ہلاک اور 12 زخمی ہو گئے۔ اس حملے کے نتیجے میں ہسپتال کے شعبہ جراحی میں 18 بستروں کو نقصان پہنچا۔

اطلاعات کے مطابق اس حملے میں ہلاک ہونے والے فلسطینیوں میں ایک صحافی تھا جو قبل ازیں کسی حملے میں زخمی ہونے کے بعد اس ہسپتال میں زیرعلاج تھا۔

ڈاکٹر پیپرکورن نے مطالبہ کیا ہےکہ طبی مراکز کو جنگی کارروائیوں سے تحفظ دیا جائے، غزہ میں امداد کی فراہمی بحال کی جائے، تمام یرغمالیوں کو فوری رہا کیا جائے اور جنگ بندی بحال کر کے مستقل امن قائم کیا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ڈبلیو ایچ او غذائی قلت کے پیپرکورن نے نے بتایا امداد کی کا شکار غزہ کے

پڑھیں:

چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی

چیک ریپبلک کے مشرقی حصے میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہو گئے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چیک وزارتِ دفاع اور فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثہ بدھ کے روز نامیشت ناد اوسلاوو ایئر فورس بیس پر پیش آیا جو دارالحکومت پراگ سے تقریباً 180 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔

حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر UH-1Y Venom تھا، جس میں مجموعی طور پر 5 فوجی اہلکار سوار تھے۔ حادثے میں ایک اہلکار موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا جبکہ تین زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیلی کاپٹر معمول کی فوجی تربیتی سرگرمی کے سلسلے میں پرواز کر رہا تھا، تاہم حکام نے ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے فوج نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی ہیں۔

چیک حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں، آیا حادثہ تکنیکی خرابی، موسمی حالات یا انسانی غلطی کے باعث پیش آیا۔ تحقیقات کے نتائج سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔ 

 

متعلقہ مضامین

  • خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 28 افراد جاں بحق، 29 زخمی
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ