UrduPoint:
2026-06-03@06:58:54 GMT

امدادی بندش: غزہ میں غذائی قلت کے باعث 57 بچے ہلاک

اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT

امدادی بندش: غزہ میں غذائی قلت کے باعث 57 بچے ہلاک

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 13 مئی 2025ء) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بتایا ہے کہ غزہ میں 2 مارچ کو امداد کی فراہمی بند ہونے کے بعد 57 بچے غذائی قلت کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ دیگر کو تاعمر طبی مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔

ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اگر علاقے میں جنگ جاری رہی اور امداد کی ترسیل بحال نہ ہوئی تو آئندہ 11 ماہ میں پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً 71 ہزار بچے غذائی قلت کے نتیجے میں جسمانی عوارض کا شکار ہو جائیں گے۔

Tweet URL

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں 'ڈبلیو ایچ او' کے نمائندے ڈاکٹر رک پیپرکورن نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ غزہ میں بھوک کا بدترین بحران جنم لے رہا ہے۔

(جاری ہے)

ادارے کے پاس شدید درجے کی غذائی قلت کا شکار 500 بچوں کے علاج کا سامان ہی باقی رہ گیا ہے۔ لوگ ایسے حالات میں پھنس گئے ہیں جہاں متنوع خوراک کی عدم موجودگی، غذائی قلت اور بیماریاں ان پر بیک وقت حملہ آور ہو رہی ہیں۔

غذائی تحفظ کے ماہرین خبردار کر چکے ہیں کہ غزہ میں تقریباً پانچ لاکھ لوگوں کو بھوک کا سامنا ہے اور موجودہ حالات برقرار رہنے کی صورت میں 30 ستمبر تک بہت سے علاقوں میں قحط پھیل سکتا ہے۔

بھوک کا بڑھتا بحران

ڈاکٹر پیپرکورن نے بتایا کہ انہوں نے گزشتہ دنوں شمالی غزہ کے کمال عدوان ہسپتال کا دورہ کیا جہاں 'ڈبلیو ایچ او' کی مدد سے چلائے جانے والے غذائیت کے مرکز میں روزانہ 300 سے زیادہ بچوں کا معائنہ کیا جاتا ہے۔ اس دورے میں ہسپتال نے آگاہ کیا کہ طبی معائنے کے لیے لائے جانے والے 11 فیصد سے زیادہ بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہوتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ ہسپتال میں ان بچوں کو خود دیکھ چکے ہیں جن میں ایک کی عمر پانچ برس تھی لیکن وہ ڈھائی برس کا دکھائی دیتا تھا۔

'ڈبلیو ایچ او' غزہ کے 19 طبی مراکز میں غذائی قلت کے علاج میں مدد دیتا ہے تاہم، اسرائیل کی جانب سے امداد کی فراہمی روکے جانے سے ادارے کے لیے اپنا کام جاری رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔

ڈاکٹر پیپرکورن نے خبردار کیا ہے کہ طویل مدتی غذائی قلت کے اثرات بڑھوتری رک جانے اور جسمانی معذوری کی صورت میں تاعمر برقرار رہ سکتے ہیں۔

حسب ضرورت غذائیت والی خوراک، صاف پانی اور طبی نگہداشت تک رسائی بحال نہ ہونے کی صورت میں غزہ کے بچوں کی پوری نسل غذائی قلت کے مستقل منفی اثرات کا شکار ہو جائے گی۔

انہوں نے بتایا ہے کہ 'ڈبلیو ایچ او' اسرائیلی حکام کے سامنے متواتر یہ معاملہ اٹھا رہا ہے۔ ادارے کے 31 امدادی ٹرک رفح کی سرحد سے چند کلومیٹر دور مصر کے علاقے العریش میں کھڑے ہیں جبکہ مغربی کنارے میں بھی امدادی سامان کی بڑی مقدار موجود ہے جسے اجازت ملتے ہیں غزہ میں بھیجا جا سکتا ہے۔

طبی مراکز کو تحفظ دینے کا مطالبہ

ڈاکٹر پیپرکورن نے بتایا کہ جنوبی غزہ کے علاقے خان یونس میں واقع نصر میڈیکل کمپلیکس کے برن یونٹ کو آج اسرائیل کی جانب سے حملے کا نشانہ بنایا گیا جس میں دو افراد ہلاک اور 12 زخمی ہو گئے۔ اس حملے کے نتیجے میں ہسپتال کے شعبہ جراحی میں 18 بستروں کو نقصان پہنچا۔

اطلاعات کے مطابق اس حملے میں ہلاک ہونے والے فلسطینیوں میں ایک صحافی تھا جو قبل ازیں کسی حملے میں زخمی ہونے کے بعد اس ہسپتال میں زیرعلاج تھا۔

ڈاکٹر پیپرکورن نے مطالبہ کیا ہےکہ طبی مراکز کو جنگی کارروائیوں سے تحفظ دیا جائے، غزہ میں امداد کی فراہمی بحال کی جائے، تمام یرغمالیوں کو فوری رہا کیا جائے اور جنگ بندی بحال کر کے مستقل امن قائم کیا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ڈبلیو ایچ او غذائی قلت کے پیپرکورن نے نے بتایا امداد کی کا شکار غزہ کے

پڑھیں:

فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق سیکیورٹی فورسز(security forces) نے 24 مئی 2026 کو پیش آنے والے ریل حادثے کے بعد خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر بلوچستان کے اضلاع مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں کارروائیاں کیں۔

بیان میں کہا گیا کہ ان کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلوں کے دوران بھارتی اسپانسرڈ فتنۃ الہندوستان کے 17 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا اور ان علاقوں میں سرگرم دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بھارتی اسپانسرڈ ہلاک دہشت گردوں کے زیرقبضہ ہتھیار، باردو اور بڑے پیمانے دھماکا خیز مواد اور مواد تیار کرنے کی ڈیوائسز برآمد کرلی گئیں۔

بیان میں بتایا گیا کہ ہلاک دہشت گرد بلوچستان کے ان علاقوں میں دہشت گردی کے کئی اہم واقعات میں ملوث رہے تھے۔

مزید پڑھیں:پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی

آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ علاقے سے دہشت گردوں کے صفایا کرنے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے، سیکیورٹی فورسز اور پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عزم استحکام وژن کے تحت دہشت گردی کے خاتمہ کی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے بیرونی اسپانسرڈ اور تعاون سے جاری دہشت گردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ ہو۔

متعلقہ مضامین

  • کولمبیا میں چھوٹا طیارہ حادثے کا شکار، 4 افراد ہلاک
  • روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر