UrduPoint:
2026-06-03@07:49:48 GMT

غزہ: اسرائیلی حملوں میں شدت سے کئی ہسپتال بند، ڈبلیو ایچ او

اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT

غزہ: اسرائیلی حملوں میں شدت سے کئی ہسپتال بند، ڈبلیو ایچ او

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 26 ستمبر 2025ء) غزہ شہر میں اسرائیل کی عسکری کارروائی شدت اختیار کرنے سے طبی عملے پر دباؤ میں اضافہ ہو گیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بتایا ہے کہ رواں ماہ ہی علاقے میں مزید چار بڑے طبی مراکز بند ہو گئے ہیں جس کے بعد پورے غزہ میں فعال ہسپتالوں کی تعداد صرف 14 رہ گئی ہے۔

'ڈبلیو ایچ او' کے ترجمان طارق جسارویچ نے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ شہر کی آبادی کو متواتر انخلا کے احکامات دیے جا رہے ہیں جن سے طبی مراکز بھی متاثر ہوئے ہیں۔

اگر ہسپتالوں سے انخلا کا حکم نہ بھی دیا جائے تو تب بھی عسکری کارروائیوں کے باعث وہاں تک رسائی ممکن نہیں ہوتی۔ Tweet URL

حالیہ دنوں بند ہونے والے طبی مراکز میں الرنتیسی چلڈرن ہسپتال، اوپتھلمک ہسپتال، سینٹ جان آئی ہسپتال اور حماد ہسپتال برائے بحالی و مصنوعی اعضا شامل ہیں۔

(جاری ہے)

ترجمان کا کہنا ہے کہ جنوبی علاقے میں واقع ہسپتالوں پر بوجھ میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ اس وقت غزہ شہر میں آٹھ جبکہ دیرالبلح اور خان یونس میں تین تین ہسپتال واقع ہیں اور ان میں کوئی بھی پوری طرح فعال نہیں ہے۔ غزہ شہر میں اسرائیلی حملوں سے بڑی تعداد میں ہلاک و زخمی ہونے والے لوگوں کو ہسپتالوں میں لایا جا رہا ہے جہاں انہیں علاج معالجہ مہیا کرنے کے لیے کئی ضروریات سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔

'ڈبلیو ایچ او' کے مطابق، حماد ہسپتال غزہ میں جسمانی معذور افراد کی بحالی کے تین اہم مراکز میں سے ایک ہے۔ یہ ہسپتال 250 مریضوں کو بحالی کی خدمات فراہم کر رہا تھا۔ علاوہ ازیں، یہاں شمالی غزہ میں امداد کے حصول کے دوران زخمی ہونے والے افراد کو بھی طبی مدد مہیا کی جا رہی تھی۔

ہسپتالوں پر تباہ کن حملے

الرنتیسی ہسپتال کو 16 ستمبر کو ایک براہ راست حملے میں شدید نقصان پہنچا جب وہاں 80 مریض موجود تھے۔

یہ غزہ میں خصوصی بچوں کا واحد ہسپتال ہے۔ اس حملے میں کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی لیکن چھت پر لگے پانی کے ٹینک، مواصلاتی نظام اور طبی آلات کو شدید نقصان پہنچا۔

'ڈبلیو ایچ او' کے مطابق حملے کے بعد نصف مریض ہسپتال چھوڑ گئے جبکہ تقریباً 40 اب بھی وہاں موجود ہیں جن میں انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں زیرعلاج چار بچے اور آٹھ نومولود بھی شامل ہیں۔

ہسپتال کا زیادہ تر طبی سامان غزہ شہر میں واقع ہسپتالوں کو منتقل کر دیا گیا ہے۔

'ڈبلیو ایچ او' نے خون کے یونٹ، بیگ اور ٹرانسفیوژن سامان کی شدید قلت کی جانب توجہ دلاتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر اس کی ترسیل بحال نہ کی گئی تو یہ خدمات چند روز میں بند ہو سکتی ہیں۔

طبی سامان کی شدید قلت

طارق جسارویچ نے کہا ہے کہ غزہ کے لوگ بار بار نقل مکانی پر مجبور ہیں۔

علاقے میں طبی سامان کی شدید قلت ہے اور امدادی کارکنوں کے علاوہ مریضوں کو بھی رسائی کے مسائل کا سامنا ہے۔

ترجمان نے ہزاروں شدید بیمار مریضوں کے فوری انخلا کی اپیل کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں غزہ سے باہر خصوصی نگہداشت کی ضرورت ہے۔

اس وقت 15 ہزار سے زیادہ لوگ طبی وجوہات کی بنا پر انخلا کے منتظر ہیں جبکہ انہیں علاقے سے باہر بھجوانے کا عمل انتہائی سست رفتار ہے۔

انہوں نے جنگ بندی اور انسانی امداد تک بلارکاوٹ رسائی فراہم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ باقیماندہ نظام صحت کو طبی سازوسامان، ہنگامی طبی ٹیموں اور دیگر ضروری وسائل کے ذریعے سہارا دینے کی ضرورت ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ڈبلیو ایچ او

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان