Daily Mumtaz:
2026-07-24@13:30:28 GMT

آئرلینڈ کی فٹبالر میگن کیمبل کا تاریخی کارنامہ

اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT

آئرلینڈ کی فٹبالر میگن کیمبل کا تاریخی کارنامہ

آئرلینڈ کی خاتون فٹبالر میگن کیمبل نے تاریخی کارنامہ انجام دے کر اپنا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں درج کرلیا۔

لندن سٹی لایونیسز کی کھلاڑی میگن نے دنیا کی طویل ترین تھرو پھینک کر عالمی ریکارڈ قائم کردیا۔

انہوں نے 30 اپریل کو 37.55 میٹر (123 فٹ 2 انچ) دور گیند پھینک کر یہ شاندار کارنامہ انجام دیا۔

یہ تھرو نا صرف 35 میٹر کی مطلوبہ حد سے آگے تھی بلکہ ایک بلیو ویل مچھلی (جو دنیا کا سب سے بڑا جانور ہے) سے بھی تقریباً 10 میٹر طویل تھی، جس کی اوسط لمبائی 24 میٹر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ تھرو ایک مکمل بولنگ ایلی (19.

16 میٹر) سے تقریباً دو گنا لمبی تھی۔

31 سالہ میگن کیمبل ناصرف یہ اعزاز حاصل کرنے والی پہلی خاتون بن گئی ہیں بلکہ انہوں نے اس پر فخر کا اظہار بھی کیا کہ وہ کسی کو خود سے بہتر کارکردگی دکھانے کی ترغیب دینا چاہتی ہیں۔

میگن نے ہنستے ہوئے کہا کہ مجھے لگتا ہے میرا ریکارڈ شاید ایک ہفتے میں ٹوٹ جائے گا جب کسی کو اس کی خبر مل جائے گی۔

میگن کے مطابق ان کی تھرو کی صلاحیت 12 سے 13 سال کی عمر میں نمایاں ہوئی، جب وہ آئرلینڈ میں لڑکوں کی ٹیم کے ساتھ کھیلتی تھیں اور ان کی تھرو ان لڑکوں سے بھی لمبی ہوتی تھی۔

واضح رہے کہ میگن کیمبل نے ماضی میں مانچسٹر سٹی، لیورپول، اور ایورٹن جیسی مشہور ٹیموں کی نمائندگی کی ہے، وہ ریپبلک آف آئرلینڈ کی قومی ٹیم کے لیے 50 سے زائد میچز بھی کھیل چکی ہیں۔

Post Views: 4

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: میگن کیمبل

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • لاہور میں 4 روز کے دوران کتنی ملی میٹر بارش ہوئی؟ پی ڈی ایم اے رپورٹ جاری
  • کراچی: لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران قدیم مجسمے دریافت
  • کراچی: لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران آثارِ قدیمہ کی موجودگی کا انکشاف
  • تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی میزبانی واپس لے لی گئی
  • بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل