گاڑیوں کے لیے فٹنس سرٹیفکیٹ کا اجرا شروع
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
دنیا بھر میں گاڑی کو سڑک پر لانے کے لیے ایک فٹنس سرٹیفیکیٹ درکار ہوتا ہے جو کچھ عرصے بعد گاڑی کا مکمل معائنہ کرنے کے بعد جاری کیا جاتا ہے تاکہ خراب گاڑی سڑک پر چلنے سے کسی دوسرے کو نقصان نہ پہنچے۔
اس طرح پنجاب حکومت نے اب سے گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کرنے شروع کر دیے ہیں۔ محکمہ انوائرمنٹل فورس نے لاہور کے 9 مقامات پر کیمپ لگائے جہاں گاڑیوں کو چیک کرنے کے بعد انہیں ایک سال تک کے لیے فٹنس سرٹیفکیٹ دیا جارہا ہے۔ جو گاڑی فٹنس کے معیار پر پورا نہیں اترتی، اس کو سڑک پر چلنے سے روکا جا رہا ہے۔ گاڑی کا فٹنس سرٹیفیکیٹ نہ رکھنے والوں کے خلاف محکمہ کارروائی کرے گا۔ مزید جانیے اس ویڈیو رپورٹ میں۔۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔