جکارتہ: انڈونیشیا کا فرانس سے 42 رافیل طیاروں کی خریداری کا 8.1 ارب ڈالر کا معاہدہ اس وقت عوامی اور سیاسی حلقوں میں تنقید کا نشانہ بن گیا ہے جب پاکستان نے حالیہ جھڑپ میں بھارت کے تین رافیل طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

7 مئی کو پاکستان آرمی نے اعلان کیا تھا کہ اس نے بھارت کے پانچ جنگی طیارے مار گرائے ہیں جن میں تین رافیل بھی شامل ہیں۔ یہ فضائی جھڑپ چینی ساختہ J-10C طیاروں کے ذریعے لڑی گئی، جو PL-15 طویل فاصلے کے میزائلوں سے لیس تھے۔

اگرچہ بھارت نے سرکاری طور پر کسی رافیل کے نقصان کی تصدیق نہیں کی، لیکن بھارتی ایئر مارشل اے کے بھارتی نے صحافیوں سے کہا، ’’نقصانات جنگ کا حصہ ہوتے ہیں‘‘۔

سی این این نے بعد میں ایک فرانسیسی انٹیلی جنس اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے کم از کم ایک رافیل کے نقصان کی تصدیق کی، جسے رافیل کا پہلا ممکنہ جنگی نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔

اس پیشرفت نے انڈونیشیا میں رافیل معاہدے پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ تاہم انڈونیشی حکام اب بھی اس معاہدے پر قائم ہیں۔ پارلیمانی کمیٹی کے رکن ڈیوی لکسونو کا کہنا تھا کہ ’’کسی بھی ہتھیار کے نظام کی افادیت کا اندازہ صرف ایک غیر مصدقہ واقعے سے نہیں لگایا جا سکتا۔‘‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ رافیل اب بھی دنیا کے جدید ترین طیاروں میں شامل ہے، اور اس کا کارکردگی کا دارومدار صرف مشین نہیں بلکہ اس کے آپریٹرز کی تربیت پر بھی ہے۔

انڈونیشیا کو پہلے چھ رافیل طیارے 2026 میں ملیں گے، جبکہ پائلٹس کی تربیت فرانس میں جولائی سے شروع ہوگی۔ مزید یہ کہ انڈونیشیا نے بوئنگ سے 24 F-15EX طیارے حاصل کرنے کے لیے بھی معاہدہ کیا ہے تاکہ اپنی فضائی قوت کو جدید بنایا جا سکے۔

Post Views: 6.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے  ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔

کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی