Islam Times:
2026-06-03@07:50:00 GMT

امریکہ غزہ کو فری زون میں بدل دیگا، ٹرمپ کا نیا دعوی

اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT

امریکہ غزہ کو فری زون میں بدل دیگا، ٹرمپ کا نیا دعوی

اُس انتہاء پسند امریکی صدر کہ جسکی مشرق وسطی آمد کے بعد سے غاصب و سفاک صیہونی رژیم نے غزہ کی پٹی میں ہسپتالوں، اسکولوں و عام رہائشی عمارتوں کیساتھ ساتھ بے گھر فلسطینی پناہ گزینوں کے "خیموں" تک پر اپنی وحشیانہ بمباری میں کئی گنا کا اضافہ کر دیا ہے، نے آج قطر کے اپنے دورے کے دوران "غزہ کی پٹی پر امریکی قبضے" کے حوالے سے ایک نیا مطالبہ کیا ہے! اسلام ٹائمز۔ جنگوں کے خاتمے اور غزہ میں فوری جنگ بندی کروانے کے بلند و بانگ دعوے کرنے والے انتہاء پسند امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے بعد قطر کے اپنے دورے کے دوران "ممتاز اسلامی ممالک" کے ساتھ "سینکڑوں ارب ڈالر" کے متعدد معاہدوں پر دستخط کرنے کے بعد جاری ہونے والے اپنے ریمارکس میں غاصب و سفاک اسرائیلی رژیم کے "سنگین جنگی جرائم" کا شکار غزہ کی پٹی پر "امریکی قبضے" پر مبنی تجویز دی ہے۔ اس حوالے سے اپنی گفتگو میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میرے پاس غزہ کے بارے "آئیڈیاز" ہیں جو میرے خیال میں "بہت اچھے" ہیں!

انتہاء پسند امریکی صدر کہ جسکی مشرق وسطی آمد کے بعد سے غاصب و سفاک صیہونی رژیم نے غزہ کی پٹی میں ہسپتالوں، اسکولوں و عام رہائشی عمارتوں کیساتھ ساتھ بے گھر فلسطینی پناہ گزینوں کے "خیموں" تک پر اپنی وحشیانہ بمباری میں کئی گنا کا اضافہ کر دیا ہے، نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ آئیے اسے (غزہ کی پٹی کو) "فری زون" میں بدل دیں.

.! ٹرمپ نے زور دیتے ہوئے مزید کہا کہ برائے مہربانی امریکہ کو اس میں داخل ہونے اور اسے "فری زون" میں بدلنے دیں!!

واضح رہے کہ جاری سال کے آغاز میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کی پٹی پر طویل المدتی قبضے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس (غزہ کی پٹی) کے فلسطینی مالکان کو دوسرے ممالک میں منتقل کر دیا جائے اور تعمیر نو کے بعد اسے "ٹرمپ کے ذاتی سیاحتی مقام" میں بدل دیا جائے!!

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: غزہ کی پٹی کے بعد

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
  • انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید