شام پر عائد امریکی پابندیاں ہٹائے جانے پر پاکستان کا خیرمقدم
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
پاکستان نے امریکا کی جانب سے شام پر عائد پابندیاں ہٹانے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ علاقائی استحکام اور معاشی بحالی کے لیے اہم ثابت ہو گا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ محمد بن سلمان کی درخواست پر شام پر عائد تمام پابندیاں ہٹانے پر رضامند
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق پاکستان نے ہمیشہ تعمیری بات چیت اور مذاکرات کی حمایت کی ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ پابندیاں ہٹائے جانے سے نہ صرف معاشی بڑھوتری میں اضافہ ہو گا بلکہ ضروری خدمات تک رسائی اور شام کی تعمیر نو کی کوششوں کے لیے بھی فائدہ مند ہو گا۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان شام میں امن کی بحالی کے لیے امریکا سعودی عرب، ترکئے اور قطر کی تعریف کرتا ہے جنہوں نے اس سلسلے میں اپنے عزم کا اظہار کیا۔
مزید پڑھیے: شاہ سلمان امدادی مرکز کی ٹیم دل کی سرجری اور کیتھیٹرائزیشن کے لیے شام پہنچ گئی
دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ شام کے مسائل کا حل شامی عوام کی سوچ اور ان کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے اور پاکستان شام کی خودمختاری، جغرافیائی سالمیت اور اتحاد کی حمایت کرتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا پاکستان شام شام پر پابندیاں.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا پاکستان شام پر پابندیاں کے لیے
پڑھیں:
خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
اسحاق ڈار---فائل فوٹونائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو یورپی یونین کی جانب سے سراہا گیا ہے، پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
یورپی یونین کی رہنما کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آخری یورپی یونین وزٹ 7 سال پہلے ہوا تھا، ہم پچھلے سال بھارت پاکستان جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران قریبی رابطے میں رہے، آج ہم نے مشترکہ طور پر اسٹریٹیجیک مذاکرات کی صدارت کی، ہم نے پچھلے سال نومبر میں مشترکہ اسٹریٹیجیک مذاکرات کیے تھے، امریکا ایران تنازع کے دوران یورپی یونین کے تعاون کا مشکور ہوں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ایشوز اور دہشت گردی کے امور پر بھی بات کی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی بات کی، پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، کایا کالاس کا دورہ اس کا واضح ثبوت ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ نے امریکا ایران تنازع کے حل کے لیے پاکستان کےثالثی اقدامات کی تعریف کر دی۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اعلیٰ ترین ادارہ جاتی مکالمہ ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا، جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، اسلام آباد میں پاکستان یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، انڈس واٹرز معاہدہ برقرار ہے، حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، افغان سر زمین سے دہشت گرد عناصر کی پاکستان میں کارروائیاں بدستور ہماری بڑی تشویش ہیں، پاکستان اور یورپی یونین نے دو طرفہ تعلقات کو جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔