پاکستان کی ایٹمی تنصیبات مکمل محفوظ ہیں، انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
انڈین نیشنل ریڈیالوجی سیفٹی ڈویژن کی ابتدائی رپورٹ میں بھی تابکاری کے اخراج کی تصدیق کی گئی ہے، جس سے پاکستان کے اس مؤقف کو تقویت ملی ہے کہ حملے میں دشمن کی حساس دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کا ایک اور بے بنیاد پروپیگنڈا مسترد کرتے ہوئے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی کسی ایٹمی تنصیب پر کوئی حملہ نہیں ہوا۔ آئی اے ای اے کے ترجمان نے بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کو دیے گئے بیان میں کہا کہ پاکستان کے تمام ایٹمی اثاثے محفوظ ہیں اور تابکاری کے اخراج سے متعلق گردش کرنے والی خبریں بھی مکمل طور پر بے بنیاد ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی جوہری تنصیبات بین الاقوامی معیار کے مطابق محفوظ ہیں اور کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق نہیں۔
اس مؤقف کے بعد بھارت کی جانب سے پھیلائی گئی جھوٹی اطلاعات ایک بار پھر بے نقاب ہو گئی ہیں۔ واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں بھارتی میڈیا کی جانب سے پاکستان کی ایٹمی تنصیبات پر حملے اور تابکاری اخراج کے جھوٹے دعوے کیے گئے تھے جنہیں عالمی سطح پر مسترد کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب پاکستانی حملے میں بھارت کے براہموس میزائل ڈپو کو پہنچنے والے نقصان کی تصدیق ہوگئی، بھارتی ریاست پنجاب میں واقع بیس پر تابکاری کے بعد حکام نے الرٹ جاری کر دیا۔
انڈین نیشنل ریڈیالوجی سیفٹی ڈویژن کی رپورٹ نے بھی صورتحال کی سنگینی کی تصدیق کر دی۔ بھارتی پنجاب میں براہموس میزائلوں کے ایک بڑے ذخیرے کو پاکستانی حملے میں شدید نقصان پہنچا، جس کے نتیجے میں علاقے میں تابکاری پھیلنے کے شواہد سامنے آئے۔ انڈین نیشنل ریڈیالوجی سیفٹی ڈویژن کی ابتدائی رپورٹ میں بھی تابکاری کے اخراج کی تصدیق کی گئی ہے، جس سے پاکستان کے اس مؤقف کو تقویت ملی ہے کہ حملے میں دشمن کی حساس دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تابکاری کے پاکستان کی کی تصدیق حملے میں
پڑھیں:
چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
چین کے جنوب مغربی شہر چونگ چنگ میں شدید گرمی کے پیش نظر چونگ چنگ چڑیا گھر نے جانوروں کو محفوظ اور آرام دہ رکھنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ پانڈا، ہاتھی، دریائی گھوڑوں اور دیگر جانوروں کو ٹھنڈے پانی، پھلوں اور جدید کولنگ سسٹمز کے ذریعے گرمی سے بچانے کی کوششیں جاری ہیں۔
سرکاری خبر رساں ادارے شِنہوا کے مطابق چونگ چنگ چڑیا گھر میں دیوقامت پانڈا، ہاتھی، دریائی گھوڑے اور دیگر جانوروں کو شدید گرمی سے بچانے کے لیے ٹھنڈے پانی کے تالاب، مصنوعی بارش (مسٹنگ سسٹم)، سایہ دار مقامات اور خصوصی خوراک کا انتظام کیا گیا ہے۔
چڑیا گھر میں موجود دیوقامت پانڈا دن کے گرم اوقات میں پانی کے تالابوں میں وقت گزار رہے ہیں، جبکہ ان کے باڑوں میں مسلسل پانی کی باریک پھوار چلائی جا رہی ہے تاکہ درجہ حرارت کم رکھا جا سکے۔
اسی طرح دریائی گھوڑوں اور ہاتھیوں کو جسمانی درجہ حرارت متوازن رکھنے کے لیے تربوز اور دیگر پانی سے بھرپور پھل کھلائے جا رہے ہیں، جبکہ ان کے لیے نہانے اور پانی میں رہنے کے اضافی انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پانڈا نسبتاً ٹھنڈے موسم کے جانور ہیں اور شدید گرمی ان کی صحت، خوراک اور روزمرہ سرگرمیوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ اسی وجہ سے چین کے مختلف چڑیا گھروں میں موسمِ گرما کے دوران کولنگ سسٹمز، برف کے بلاکس، ایئر کنڈیشنڈ انڈور حصوں اور پانی سے بھرپور غذا کا استعمال معمول کا حصہ بن چکا ہے۔
چونگ چنگ چین کے گرم ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے، جہاں موسمِ گرما میں درجہ حرارت اکثر 40 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب یا اس سے بھی زیادہ پہنچ جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں شدید گرمی کی لہروں کے باعث مقامی انتظامیہ نے نہ صرف شہریوں بلکہ جنگلی اور قید جانوروں کے تحفظ کے لیے بھی خصوصی منصوبے نافذ کیے ہیں۔
چڑیا گھر کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ موسمِ گرما کے دوران جانوروں کی صحت کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ضرورت کے مطابق ان کے ماحول، خوراک اور طبی نگہداشت میں تبدیلیاں کی جاتی ہیں تاکہ شدید گرمی کے باوجود انہیں کسی قسم کی تکلیف یا صحت کے خطرات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں