عمران پے رول رہائی، مریم نوازسے درخواست کرناہوگی
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
اسلام آباد(طارق محمود سمیر ) پاکستان اور بھارت کے درمیان سیز فائر ہونے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے حل اور نیوٹرل مقام پر
مذاکرات شروع کرانے کے اعلانات کے بعد پاکستان کے اندر امریکی صدر کے بیان پر اطمینان کا اظہار کیا جارہا ہے ، امریکہ کی تمام ایڈمنسٹریشن اورحکومت پاک بھارت کشیدگی کے خاتمے پر زور دے رہی ہے لیکن بھارت کے اندر نریندر مودی جنہیں سرینڈر مودی بھی کہا جارہا ہے وہ بڑے پریشان ہیں اور ان کے خلاف وہی انڈین میڈیا جو 10مئی سے پہلے تک اسلام آباد میں قبضے اور کراچی پورٹ میں تباہی کی باتیں کر رہا تھااور جھوٹا پروپیگنڈا پھیلا رہا تھااب وہی مودی کو آڑھے ہاتھوں لے رہا ہے اور ساری ناکامیوں کا ذمہ دار مودی کو قرار دے رہا ہے ،پاکستان فوج کی کامیابی ،چینی ٹیکنالوجی کو سراہ رہے ہیں اور تعریفیں کر رہے ہیں ،وہی بھارت جو کہتا تھاکہ مسئلہ کشمیر ہم نے 5اگست 2019کو بھارتی آئین میں ترمیم کر کے دفن کردیا اب وہ مسئلہ کشمیر دوبارہ زندہ ہوگیا ہے اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بار بار مسئلہ کشمیر کے حل کی باتیں کر رہے ہیں اور پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی باتیں کر رہے ہیں ۔یہ پاکستان کی بڑی کامیابی ہے اور وہی انڈیا جو پہلے کہہ رہا تھا کہ مسئلہ کشمیر دفن ہوچکا ہے، اب بھارتی دفتر خارجہ کا ترجمان یہ کہہ رہا ہے کہ یہ دوطرفہ معاملہ ہے ،شملہ معاہدے کے تحت ،شملہ معاہدہ اپنی جگہ موجود ہے ، اقوام متحدہ کی قراردادیں اپنی جگہ موجود ہیں ،بھارت کو چاہئے کہ مزید بڑھکیں نہ مارے ،مودی الٹے سیدھے بیانات دینے کی بجائے مذاکرات کا عمل شروع کریں ، عالمی بینک کے صدر اجے بنگا نے بھی بیان دیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ اس طریقے سے معطل نہیں ہوسکتا اوریہ بھی پاکستان کیلئے بڑا خوش آئند بیان ہے ، دورہ سعودی عرب کے دوران امریکی صدر نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کی قیادت کو عشائیے پر اکٹھا بٹھا سکتا ہوں ،پھر سعودی ولی محمد بن سلمان نے بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان سیز فائر معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے اور زوردیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات ہونے چاہیئں ۔ صدر ٹرمپ کا سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ کا دورہ کامیاب جارہا ہے ، سرمایہ کاری کے معاہدے ہو رہے ہیں ،دفاعی معاہدے ہورہے ہیں وہیں شام پر پابندیاں بھی ختم کردی گئی ہیں ، ایران کے حوالے سے بھی کہہ رہے ہیں کہ ایران دہشت گردی کی سرپرستی بند کرے، ہم معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، سعودی قیادت نے یہ بڑا زبردست اقدام اٹھایا کہ غزہ میں مکمل جنگ بندی ہونی چاہئے ،غزہ میں امدادی سامان پہنچنا چاہیے اس پر صدر ٹرمپ کو کوشش کرنی چاہیے اور معاملات کو آگے بڑھانا چاہیے ، پھر وزیراعظم شہبازشریف نے پسرور چھاؤنی سیالکوٹ بارڈر کا دورہ کیا ،آرمی چیف سید عاصم منیر،وزیردفاع خواجہ آصف ،نائب وزیراعظم اسحاق ڈار بھی ان کے ہمراہ تھے ، اس موقع پر انہوں نے پاک فوج کے حوصلوں اورجرات کی تعریف کی اور ٹینکوں کے اوپر کھڑے ہو کر پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگائے ،وزیراعظم کا یہ دورہ بڑا اہمیت کا حامل ہے اور آرمی چیف نے چند روز قبل ایک دورہ کیا تھا اور ٹینکوں پر کھڑے ہو کر بھارت کو للکار ا تھا ، پاک فوج کے جوانوں کی جرات کو پوری قوم سلام پیش کرتی ہے ،وزیراعظم ابھی مزید اس حوالے سے مختلف جگہوں کے دورے کریں گے ،سیاسی محاذ پر فی الحال خاموشی ہے ،پی ٹی آئی کے اندرونی معاملات میں کچھ اختلافات کی باتیں سامنے آرہی ہیں ،جنید اکبر کا معاملہ ہو یا پی ٹی آئی رہنما کنول شوذب کے علیمہ خان کے خلاف بیان کا کہ وہ پارٹی کے اندر کھل کر مداخلت کر رہی ہیں اور پی ٹی آئی کے اندر گروپ بندی ہے ،یہ کوئی ڈھکی چھپی بات بھی نہیں ہے ،ایک بیرسٹر گوہر کا گروپ ہے اوردوسری طرف سلمان اکرم راجہ کا گروپ ہے ، سلمان اکرم راجہ کو علیمہ خان کی حمایت حاصل ہے اور علیمہ خان اتنی مداخلت کر رہی ہیں کہ اسے پارٹی لیڈر شپ پریشان ہوتی ہے ،پی ٹی آئی لیڈر شپ کا کہنا ہے کہ علیمہ خان بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن ہیں اور بہن کی حد تک رہیں پارٹی کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کریں ، جنید اکبر کہہ رہے ہیں کہ تحریک چلانی ہے اس کیلئے متحرک ہو رہے ہیں اور پی اے سی کی چیئرمین شب بھی برقرار رہے گی ،اب دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ چند روز میں عمران خان کے حوالے سے عدالتوں سے کیا فیصلہ آتا ہے ، بہر حال ان کی پے رول پر رہائی کی درخواست کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے مسترد کردیا ہے ، کیونکہ پے رول پر رہائی کا اختیار حکومت کے پاس ہے عدالت کے پاس نہیں اور متعلقہ فورم سے حکومت سے رجوع کیا جانا چاہیے ،پے رول پر رہائی کے احکامات قانون میں بالکل واضح ہیں ،اگر عمران خان پے رول پر رہائی چاہتے ہیں تو انہیں چاہئے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو درخواست دیں اور پھر وزیراعلیٰ پنجاب کے فیصلے کا انتظار کریں ،ماضی میں عمران خان کے دور حکومت میں نوازشریف اور شہبازشریف بھی جیل میں تھے تو انہیں بھی پے رول پر رہا کیا گیا، نوازشریف کی اہلیہ کلثوم نواز کا انتقال ہوا تو انہیں پانچ دن کے پے رول پر رہا کیا گیا تھا اورشہبازشریف جب جیل میں تھے تو ان کی والدہ محترمہ کا انتقال ہوا تو ان دنوں نوازشریف لندن میں تھے اور شہبازشریف کو پے رول پر رہا کیا گیا تھا،فی الحال عمران خان کی طرف سے ایسی کوئی کیفیت نظر نہیں آرہی ،ایک سیاسی ڈیل ہوسکتی ہے اس کیلئے کوئی بات آگے نہیں بڑھ رہی ،اب دیکھنا ہے کہ آئندہ چند روز میں کیا بڑی ڈویلمپنٹ متوقع ہیں ۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پاکستان اور بھارت پے رول پر رہائی پے رول پر رہا مسئلہ کشمیر علیمہ خان کے درمیان پی ٹی ا ئی بھارت کے کی باتیں ہیں اور کے اندر رہے ہیں رہا ہے ہے اور
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔