Daily Mumtaz:
2026-07-24@06:11:46 GMT

عمران پے رول رہائی، مریم نوازسے درخواست کرناہوگی

اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT

عمران پے رول رہائی، مریم نوازسے درخواست کرناہوگی

اسلام آباد(طارق محمود سمیر ) پاکستان اور بھارت کے درمیان سیز فائر ہونے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے حل اور نیوٹرل مقام پر
مذاکرات شروع کرانے کے اعلانات کے بعد پاکستان کے اندر امریکی صدر کے بیان پر اطمینان کا اظہار کیا جارہا ہے ، امریکہ کی تمام ایڈمنسٹریشن اورحکومت پاک بھارت کشیدگی کے خاتمے پر زور دے رہی ہے لیکن بھارت کے اندر نریندر مودی جنہیں سرینڈر مودی بھی کہا جارہا ہے وہ بڑے پریشان ہیں اور ان کے خلاف وہی انڈین میڈیا جو 10مئی سے پہلے تک اسلام آباد میں قبضے اور کراچی پورٹ میں تباہی کی باتیں کر رہا تھااور جھوٹا پروپیگنڈا پھیلا رہا تھااب وہی مودی کو آڑھے ہاتھوں لے رہا ہے اور ساری ناکامیوں کا ذمہ دار مودی کو قرار دے رہا ہے ،پاکستان فوج کی کامیابی ،چینی ٹیکنالوجی کو سراہ رہے ہیں اور تعریفیں کر رہے ہیں ،وہی بھارت جو کہتا تھاکہ مسئلہ کشمیر ہم نے 5اگست 2019کو بھارتی آئین میں ترمیم کر کے دفن کردیا اب وہ مسئلہ کشمیر دوبارہ زندہ ہوگیا ہے اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بار بار مسئلہ کشمیر کے حل کی باتیں کر رہے ہیں اور پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی باتیں کر رہے ہیں ۔یہ پاکستان کی بڑی کامیابی ہے اور وہی انڈیا جو پہلے کہہ رہا تھا کہ مسئلہ کشمیر دفن ہوچکا ہے، اب بھارتی دفتر خارجہ کا ترجمان یہ کہہ رہا ہے کہ یہ دوطرفہ معاملہ ہے ،شملہ معاہدے کے تحت ،شملہ معاہدہ اپنی جگہ موجود ہے ، اقوام متحدہ کی قراردادیں اپنی جگہ موجود ہیں ،بھارت کو چاہئے کہ مزید بڑھکیں نہ مارے ،مودی الٹے سیدھے بیانات دینے کی بجائے مذاکرات کا عمل شروع کریں ، عالمی بینک کے صدر اجے بنگا نے بھی بیان دیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ اس طریقے سے معطل نہیں ہوسکتا اوریہ بھی پاکستان کیلئے بڑا خوش آئند بیان ہے ، دورہ سعودی عرب کے دوران امریکی صدر نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کی قیادت کو عشائیے پر اکٹھا بٹھا سکتا ہوں ،پھر سعودی ولی محمد بن سلمان نے بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان سیز فائر معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے اور زوردیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات ہونے چاہیئں ۔ صدر ٹرمپ کا سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ کا دورہ کامیاب جارہا ہے ، سرمایہ کاری کے معاہدے ہو رہے ہیں ،دفاعی معاہدے ہورہے ہیں وہیں شام پر پابندیاں بھی ختم کردی گئی ہیں ، ایران کے حوالے سے بھی کہہ رہے ہیں کہ ایران دہشت گردی کی سرپرستی بند کرے، ہم معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، سعودی قیادت نے یہ بڑا زبردست اقدام اٹھایا کہ غزہ میں مکمل جنگ بندی ہونی چاہئے ،غزہ میں امدادی سامان پہنچنا چاہیے اس پر صدر ٹرمپ کو کوشش کرنی چاہیے اور معاملات کو آگے بڑھانا چاہیے ، پھر وزیراعظم شہبازشریف نے پسرور چھاؤنی سیالکوٹ بارڈر کا دورہ کیا ،آرمی چیف سید عاصم منیر،وزیردفاع خواجہ آصف ،نائب وزیراعظم اسحاق ڈار بھی ان کے ہمراہ تھے ، اس موقع پر انہوں نے پاک فوج کے حوصلوں اورجرات کی تعریف کی اور ٹینکوں کے اوپر کھڑے ہو کر پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگائے ،وزیراعظم کا یہ دورہ بڑا اہمیت کا حامل ہے اور آرمی چیف نے چند روز قبل ایک دورہ کیا تھا اور ٹینکوں پر کھڑے ہو کر بھارت کو للکار ا تھا ، پاک فوج کے جوانوں کی جرات کو پوری قوم سلام پیش کرتی ہے ،وزیراعظم ابھی مزید اس حوالے سے مختلف جگہوں کے دورے کریں گے ،سیاسی محاذ پر فی الحال خاموشی ہے ،پی ٹی آئی کے اندرونی معاملات میں کچھ اختلافات کی باتیں سامنے آرہی ہیں ،جنید اکبر کا معاملہ ہو یا پی ٹی آئی رہنما کنول شوذب کے علیمہ خان کے خلاف بیان کا کہ وہ پارٹی کے اندر کھل کر مداخلت کر رہی ہیں اور پی ٹی آئی کے اندر گروپ بندی ہے ،یہ کوئی ڈھکی چھپی بات بھی نہیں ہے ،ایک بیرسٹر گوہر کا گروپ ہے اوردوسری طرف سلمان اکرم راجہ کا گروپ ہے ، سلمان اکرم راجہ کو علیمہ خان کی حمایت حاصل ہے اور علیمہ خان اتنی مداخلت کر رہی ہیں کہ اسے پارٹی لیڈر شپ پریشان ہوتی ہے ،پی ٹی آئی لیڈر شپ کا کہنا ہے کہ علیمہ خان بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن ہیں اور بہن کی حد تک رہیں پارٹی کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کریں ، جنید اکبر کہہ رہے ہیں کہ تحریک چلانی ہے اس کیلئے متحرک ہو رہے ہیں اور پی اے سی کی چیئرمین شب بھی برقرار رہے گی ،اب دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ چند روز میں عمران خان کے حوالے سے عدالتوں سے کیا فیصلہ آتا ہے ، بہر حال ان کی پے رول پر رہائی کی درخواست کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے مسترد کردیا ہے ، کیونکہ پے رول پر رہائی کا اختیار حکومت کے پاس ہے عدالت کے پاس نہیں اور متعلقہ فورم سے حکومت سے رجوع کیا جانا چاہیے ،پے رول پر رہائی کے احکامات قانون میں بالکل واضح ہیں ،اگر عمران خان پے رول پر رہائی چاہتے ہیں تو انہیں چاہئے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو درخواست دیں اور پھر وزیراعلیٰ پنجاب کے فیصلے کا انتظار کریں ،ماضی میں عمران خان کے دور حکومت میں نوازشریف اور شہبازشریف بھی جیل میں تھے تو انہیں بھی پے رول پر رہا کیا گیا، نوازشریف کی اہلیہ کلثوم نواز کا انتقال ہوا تو انہیں پانچ دن کے پے رول پر رہا کیا گیا تھا اورشہبازشریف جب جیل میں تھے تو ان کی والدہ محترمہ کا انتقال ہوا تو ان دنوں نوازشریف لندن میں تھے اور شہبازشریف کو پے رول پر رہا کیا گیا تھا،فی الحال عمران خان کی طرف سے ایسی کوئی کیفیت نظر نہیں آرہی ،ایک سیاسی ڈیل ہوسکتی ہے اس کیلئے کوئی بات آگے نہیں بڑھ رہی ،اب دیکھنا ہے کہ آئندہ چند روز میں کیا بڑی ڈویلمپنٹ متوقع ہیں ۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پاکستان اور بھارت پے رول پر رہائی پے رول پر رہا مسئلہ کشمیر علیمہ خان کے درمیان پی ٹی ا ئی بھارت کے کی باتیں ہیں اور کے اندر رہے ہیں رہا ہے ہے اور

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا