دوحہ(نیوز ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے کہا ہے کہ میری ترجیح تنازعات کا خاتمہ ہے انہیں شروع کرنا نہیں،میں سمجھتا ہوں پاکستان اور بھارت کا تنازع حل ہو گیا ہے، پاکستان اور بھارت کو کہا جنگ کے بجائے تجارت کریں ، تجارت بڑھانے کی بات پر وہ خوش ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے قطر کے العدید ایئربیس میں امریکی فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بھارت نے امریکا کو زیروٹیرف ڈیل کی پیشکش کی ہے،میں سمجھتا ہوں ہم ایران کے ساتھ ڈیل کرنے کے بہت قریب آ گئے ہیں،ہم روس یوکرین کے ساتھ اچھا کام کرنے جا رہےہیں،امید ہےکہ روس یوکرین کچھ کریں، اسے رکنا ہی ہوگا،اگر مناسب ہوا تو جمعہ کو ترکیے میں روس یوکرین مذاکرات کیلئے جاؤں گا،ان کاکہناتھا کہ میرے پاس غزہ کیلئے بہت اچھے منصوبے ہیں،امریکا کو چاہئے کہ غزہ کو تحویل میں لیکر وہاں فریڈم زون بنا دے۔

امریکی فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہاکہ خلیجی ممالک کے دورے کے دوران 4کھرب ڈالر تک ڈیل ہو سکتی ہیں،خلیجی ممالک کا دورہ ریکارڈ دورہ ہے،4سے 5روز میں ساڑھے 3سے 4کھرب ڈالر تک ڈیل ہو سکتی ہیں،ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ امریکا اپنے شراکت داروں کے دفاع کیلئے طاقت کے استعمال میں نہیں ہچکچائیں گے، قطر نے امریکا کیساتھ 42ارب ڈالر مالیت کے دفاعی معاہدوں پر دستخط کئے،قطر آئندہ برسوں میں العدید ایئربیس پر 10ارب ڈالر سرمایہ کاری کرے گا۔

ٹرمپ نے کہاکہ امریکی فضائیہ کے پاس جلد ایف 47طیارہ ہوگا، ہم ایف 35کے جدید ورژن ایف 55کے منتظر ہیں،انہوں نے کہاکہ ہم افغانستان کی بگرام ایئر بیس رکھیں گے اسے کسی کو نہیں دیں گے،صدر ٹرمپ نے فوجیوں کو خوشخبری سناتے ہوئے کہاکہ 2026کے بجٹ میں امریکی سروس ممبران کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ شامل ہے۔

یادرہے کہ دوحہ کے جنوب مغرب میں العدید ایئر بیس مشرق وسطیٰ میں امریکا کی سب سے بڑی فوجی تنصیب ہے۔
مزیدپڑھیں:پاک بھارت جنگ بندی کے باوجود وہ 5 اقدامات جو اب بھی برقرار ہیں

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: نے کہاکہ

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا