سیالکوٹ میں با اثر ملزمان کے ہاتھوں مسیحی نوجوان کا بہیمانہ قتل ہائی پروفائل کیس قرار
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے سیالکوٹ میں مسیحی نوجوان کے بہیمانہ قتل کیس کو ہائی پروفائل قرار دے دیا۔
پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے تفتیشی افسر کو ریکارڈ سمیت طلب کر لیا، مسیحی نوجوان کے قتل کا مقدمہ سیالکوٹ کے تھانہ موترہ میں درج ہے۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق کاشف مسیح کو بہیمانہ تشدد کرکے ٹانگوں میں کیل ٹھونکے گئے، ملزمان نے ڈنڈے سوٹوں سے تشدد کا نشانہ بنایا جس سے کاشف شدید زخمی ہو گیا، کاشف تھوڑی دیر بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے فوت ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈسکہ: موبائل چوری کے الزام میں بااثر افراد کا نوجوان پر کیلیں ٹھوک کر بدترین تشدد، جان سے مار ڈالا
پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے کہا کہ ہر کسی کی جان و مال کی تحفظ کرنا پراسیکیوشن کی ذمہ داری ہے، بلا تفریق کارروائی کر کے ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا، اقلیتوں کا تحفظ بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ریاست اقلیتی برادری کے ساتھ ہے، مکمل انصاف فراہم کیا جائے گا، مریم نواز کے وژن کے تحت پراسیکیوشن انصاف کی فراہمی کےلیے دن رات محنت کر رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
بھارتی سرپرستی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ حبیبہ پیرجان نوجوانوں کو نہ صرف ملک دشمنی پر ورغلاتی ہیں، بلکہ اپنی نفرت انگیز پروپیگنڈا شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیکر معصوم ذہنوں کو دہشتگردی پر اکساتی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے بلوچوں کے حقوق کی قاتل، حکام نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف اور ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں، جنہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا، تاہم وہ علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، ہلاک شدہ بی ایل اے عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا جبکہ بھارتی فنڈنگ کے کچھ اہم ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد اور انٹیلیجنس معلومات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، سے قریبی روابط رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق انہوں نے دشت کے جنگلات میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 مرتبہ ملاقات کی، جن میں سے ایک ملاقات رواں برس 14 فروری کو ہوئی تھی۔
سیکیورٹی اداروں کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بعض بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) شخصیات سے رابطوں اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی سرپرستی میں ریاست مخالف زہریلے اور شر انگیز مواد کی تشہیر میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان اپنی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے پر مامور ہیں، جبکہ اس حوالے سے ملنے والے مزید شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ ملک دشمن مطلوب خاتون کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی سرپرستی بی ایل اے خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان رستم پیرجان