اسلام آباد (خبر نگار) آپریشن بْنیان مرصوص کی شاندار کامیابی پر سینٹ نے پاک فوج کو خراج تحسین پیش کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پاکستان بھارت حالیہ جنگ میں پاکستانی مسلح افواج کو خراج تحسین پیش کرنے کی قرارداد ایوان میں پیش کی۔ متن میں پاکستان کا علاقائی اور عالمی امن کے مکمل عزم کا اعاد کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ قرارداد میں مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کا مطالبہ کیا گیا جبکہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کی مسترد کرتے ہوئے اسے پاکستان کی سلامتی کا مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔ قرارداد میں لکھا گیا ہے کہ آپریشن بْنیان مرصوص کی کامیابی سے تکمیل ہونے پر افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، پاکستان کی عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہیں جنہوں نے سیاست کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قومی یک جہتی کا ثبوت دیا گیا۔ دریں اثنا نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ہم نے کسی سے سیز فائر کی درخواست نہیں کی پہلے امریکی وزیر خارجہ کا فون آیا کہ بھارت جنگ بندی چاہتا ہے تو ہم نے رضامندی ظاہر کی۔ پھر سعودی عرب، ترکیہ اور چین سے فون آئے۔ سینٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ جنگ سے قبل ہی ہم دوست ممالک سے رابطے میں تھے، ہم نے دوست ممالک کو اپنے تحمل سے آگاہ کیا، تمام ممالک نے یہی کہا کہ دونوں ممالک ایٹمی قوت ہیں اس لیے تحمل کا مظاہرہ کریں، ہم نے ہر ملک کے سربراہ و وزیر خارجہ سے کہا کہ ہم حملے میں پہل نہیں کریں گے مگر بھارت کے کارروائی کی تو جواب ضرور دیں گے۔ وزیراعظم نے پہلگام واقعے کی شفاف تحقیقات کی پیشکش کی مگر بھارت نہیں مانا اور کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔ ہم نے بھارتی موقف بکنے نہیں دیا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ 7 مئی کو 70 سے 80 بھارتی طیارے پاکستان آئے اور بھارتی طیاروں نے 24 پے لوڈز (بارودی مواد) ریلیز کیے، یہ دہشت گردوں پر نہیں مساجد اور معصوم شہریوں پر گرائے، ہم نے ان کے پانچ طیارے گرائے۔ اس واقعہ نے ثابت کردیا کہ پاکستان کا دفاع مضبوط ہے جب کہ ہمارا ایک بھی طیارہ تباہ نہیں ہوا۔ ہمارے جوابی حملے سے قبل ہی سکھ کمیونٹی کو ہمارے خلاف کرنے کے لیے ان کے علاقے میں بھارت نے خود بم گرائے۔ جھوٹ پھیلایا گیا کہ ہمارے ایف 16 وہاں گئے۔ امریکا نے اعلان کیا کہ کوئی ایف 16 نہ اڑا ہے اور نہ گرایا گیا ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت نے پہلے 24 گھنٹے میں 29 ڈرون پھر اگلے 24 گھنٹوں میں 80 ڈرون بھیجے۔ صرف ایک ڈرون نے فوجی زمین پر اٹیک کیا جس میں چار فوجی زخمی ہوئے۔ انہوں نے بیک وقت ہماری کئی بیسز اور ایئرپورٹ پر حملے کیے جس کا ہم نے بھرپور جواب دیا۔ 60 کے قریب وزرائے خارجہ سے بات ہوئی۔ ہمارا جواب دنیا نے دیکھا۔ ٹیلی گراف نے پاکستانی فوج کی تعریف کی۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نے کشمیر کو ہڑپ کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے اسے بھی مذاکرات میں ڈسکس کریں گے۔ انڈس واٹر ٹریٹی ہمارے لیے جنگ کا باعث ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ انڈیا کا کم ازکم تین ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے جبکہ ہمارے ہاں جانی نقصان ہوا ہے۔ ہم نے کسی جگہ شہری تنصیبات پر حملہ نہیں کیا۔ ہمارے شہداء میں زیادہ تعداد عورتوں، بچوں اور معمر افراد کی ہے۔ ادھر جمعرات کو قومی اسمبلی اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی سطح پر کمزور ترین پوزیشن کا کھلا اعتراف سامنے آیا ہے۔ وزیر خارجہ اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں تسلیم کیا کہ پاکستانی پاسپورٹ اس وقت دنیا بھر میں سب سے کم درجے پر ہے۔ یہ اعتراف قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران وزارت خارجہ کی طرف سے پیش کردہ جواب میں کیا گیا ہے۔وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں پیش کردہ تحریری جواب میں کہا کہ امریکا نے پاکستان کی انیس کمپنیوں پر پابندی عائد کی۔ امریکی محکمہ خارجہ نے تجارتی پابندیاں عائد کی ہیں ان کمپنیوں پر پاکستان کے سٹریٹجک پروگرام سے تعلق کا الزام تھا، انہوں نے جواب میں کہا کہ پاکستان نے ان کمپنیوں کے سٹریٹجک پروگرام سے منسلک ہونے کی تردید کی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: اسحاق ڈار نے کہا کہ کو خراج تحسین قومی اسمبلی گیا ہے

پڑھیں:

اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔

Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026

انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔

دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا

انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔

It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026

ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان

پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔

انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور

صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔

انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب

متعلقہ مضامین

  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • اسپاٹیفائی کا عاطف اسلم کو خراج تحسین، گلوکار کی عالمی مقبولیت کا معترف
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی