گورنر سندھ نے 9 مئی کے ملزمان کو عام معافی دینے کا مطالبہ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
گورنر سندھ نے 9 مئی کے ملزمان کو عام معافی دینے کا مطالبہ کردیا WhatsAppFacebookTwitter 0 16 May, 2025 سب نیوز
کراچی (سب نیوز)گورنر سندھ نے نو مئی واقعے میں ملوث پی ٹی آئی کارکنوں کیلئے عام معافی کا مطالبہ کردیا۔ کہتے ہیں خوشی کے موقع پر جو معصوم شکار ہوئے انہیں معاف کردیا جائے۔گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے بھارت کیخلاف جنگ میں پاکستان کی فتح اور یوم تشکر پر مزار قائد پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی، اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی علی خورشیدی و دیگر بھی ان کے ہمراہ ہیں، انہوں نے مزار قائد پر پھول رکھے اور مہمانوں کی کتاب میں تاثرات درج کیے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے بھارت کو ایک ہی جواب دیا، کلمے کے نام پر بننے والے اسلامی جمہوریہ پاکستان پر ہم سب ایک قوم ہیں، پوری قوم کا جذبہ افواج پاکستان کے ساتھ شامل رہا، افواج پاکستان نے وہ جواب دیا کہ دشمنوں کے دانت کھٹے کردیئے، شہدا کو سلام پیش کرتا ہوں، آج پاکستانی قوم کا سر فخر سے بلند ہے۔
گورنر سندھ کا کہنا ہے کہ پاکستان پر الزام لگا کر تحقیقات کے بجائے حملہ آور ہونے کی کوشش کی، ہم ہندوستانی قوم کے خلاف نہیں، انتہا پسند ہندو مودی کے خلاف ہیں، مودی نے مساجد کو شہید کیا لیکن ہم نے مندروں کو نقصان نہیں پہنچایا، ہماری حکومت اور فوج نے صبر کا دامن چھوڑا نہ ہی امن کا، ہم امن پسند لوگ ہیں، یہ ثابت کرکے دکھادیا۔کامران ٹیسوری نے کہا کہ سیز فائر کے بعد بھی حیدرآباد دکن میں کراچی کے نام سے بیکری کو جلایا گیا، کراچی میں بھی انڈیا کے نام کی دکانیں ہیں لیکن ہم نے ان کے خلاف کچھ نہیں کیا، ہم امن پسند قوم ہیں یہ پاکستانی قوم نے اپنے عمل سے ثابت کرکے دکھایا، آج پوری پاکستانی قوم کو افواج پاکستان پر فخر ہے۔
گورنر سندھ کا کہنا ہے کہ پوری قوم آج فتح کا جشن منارہی ہے، ہمیشہ مزار قائد پر آکر دعا کرتے ہیں کہ ملک کے مسائل حل ہوں، آج ہم اظہار تشکر کیلئے مزار قائد پر جمع ہوئے ہیں، آج مزار پر حاضری میں مجھے فخر محسوس ہوا۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ملک اور قوم کو دنیا میں رسوا کروایا، پی ٹی آئی کے چند لوگ بیرونی سازش کے شکار اور کچھ اس میں شامل ہوئے، کچھ نے معصومیت میں آکر ایسے لوگوں کا ساتھ دیا، 9 مئی کے معصوم افراد کو رہا کیا جائے، حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ انہیں عام معافی دے دیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرنیلم جہلم پراجیکٹ پر حملہ،بھارت کیخلاف عالمی عدالت میں جانا چاہیے، اسپیکر قومی اسمبلی نیلم جہلم پراجیکٹ پر حملہ،بھارت کیخلاف عالمی عدالت میں جانا چاہیے، اسپیکر قومی اسمبلی سوئی ناردرن گیس کے ہیڈ آفس اور ریجنل دفاتر میں ملکی قیادت اور افواج پاکستان کے ساتھ اظہار تشکر کی تقریبات قومی اسمبلی اجلاس، انکم ٹیکس ترمیمی بل 2024 کثرت رائے سے منظور، پی ٹی آئی کی مخالفت نیا مالی سال کا بجٹ ، ٹیکس ہدف 14 ہزار 305 ارب، گاڑیوں پر ٹیکسز میں کمی کی تجویز سول سرونٹ ایکٹ میں ترمیم منظور،افسران پر اپنے و اہل خانہ کے اثاثے ظاہر کرنا لازمی قرار پاکستان اور برطانیہ کے درمیان اعلی سطح کے مذاکرات، خطے میں پائیدار امن و استحکام کیلئے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: گورنر سندھ عام معافی
پڑھیں:
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے ایک بار پھر فاضل چینی کی فوری برآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ اضافی چینی بیرون ملک فروخت کرنے سے ملک کو قریباً 50 کروڑ ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔
ماہرین اور صارفین کے حلقوں میں اس مطالبے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ برس بھی چینی کی برآمد کی اجازت کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں 50 سے 60 روپے فی کلو کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔
مزید پڑھیں: فاضل چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے، ملک کو 50 کروڑ ڈالر زرمبادلہ مل سکتا ہے: شوگر ملز ایسوسی ایشن
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری ذکا اشرف نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ارسال کیے گئے خط میں کہا ہے کہ 26-2025 کے کرشنگ سیزن کے اختتام پر ملک میں چینی کے مجموعی ذخائر 79 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ ملک کی سالانہ ضرورت قریباً 66 لاکھ میٹرک ٹن ہے، اس طرح ملک میں 13 لاکھ میٹرک ٹن چینی سرپلس موجود ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ماہ کا تزویراتی ذخیرہ محفوظ رکھنے کے باوجود قریباً 7 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن چینی اضافی رہے گی، جسے برآمد کرکے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ فروخت نہ ہونے والے ذخائر کی وجہ سے شوگر ملوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگیوں اور بینک قرضوں کی واپسی میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔
پی ایس ایم اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران گنے کے کاشتکاروں کو بہتر نرخوں پر ادائیگی کی گئی جس کے باعث گنے کی کاشت اور فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔
ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ سیزن میں مزید ریکارڈ گنے کی فصل پیدا ہونے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں قریباً 20 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی مارکیٹ میں آ سکتی ہے۔
دوسری جانب صارفین اور معاشی ماہرین شوگر ملز کے اس مؤقف کو تنقیدی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بھی حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی اور اس وقت حکومتی اور صنعتی حلقوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ برآمدات سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور چینی کی دستیابی برقرار رہے گی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران 67 شوگر ملوں نے مجموعی طور پر 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد کی جس سے قریباً 40 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ تاہم برآمدات کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق 2 ماہ قبل پرچون سطح پر چینی کی قیمت قریباً 140 روپے فی کلو تھی جبکہ تھوک مارکیٹ میں 50 کلوگرام کا تھیلا قریباً 6 ہزار 200 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔
موجودہ صورتحال میں پرچون قیمت 190 سے 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ 50 کلوگرام کے تھیلے کی قیمت بڑھ کر 9 ہزار 100 روپے تک جا پہنچی ہے۔
قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے بعد گزشتہ سال حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیوں کا اعلان بھی کیا تھا۔
تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باوجود مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں کو مؤثر طور پر کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ چینی کو ذخیرہ کرنے کی مدت قریباً 2 سال ہوتی ہے اور اگر گزشتہ سال 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد نہ کی جاتی تو اس کے ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک جانب اضافی ذخائر کا دعویٰ کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب برآمدات کے فوراً بعد مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ سامنے آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے برآمدی پالیسی پر سوالات جنم لیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: چینی کی قیمتوں میں اضافہ: کس شوگر مل کے پاس کتنی چینی اسٹاک ہے؟
اب جبکہ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایک مرتبہ پھر چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگی ہے، حکومت کو ایک ایسے فیصلے کا سامنا ہے جس میں ایک طرف زرمبادلہ کمانے کا امکان موجود ہے تو دوسری طرف عوام کو سستی چینی کی فراہمی اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات کی اجازت دی جاتی ہے تو حکومت کو سخت نگرانی، شفاف اسٹاک آڈٹ اور قیمتوں کے مؤثر کنٹرول کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ گزشتہ سال کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں