سعودی عرب؛ حاجیوں کیلیے آن لائن رہنمائے صحت پورٹل کا ’اردو زبان‘ میں بھی اجرا
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
سعودی عرب میں حج کے انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے تاکہ اللہ کے مہمانوں کی شایان شان میزبانی میں کوئی کسر نہ رہ جائے اور وہ مکمل تحفظ اور آسان تر سہولیات کے ساتھ عبادت کرسکیں۔
عرب میڈیا کے مطابق رواں برس حج کے لیے دنیا بھر سے ریکارڈ تعداد میں عازمین کی آمد متوقع ہے۔
اس موقع پر حاجیوں کی صحت کے حوالے سے خصوصی طبی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ مناسک حج کی ادائیگی میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ رہے۔
سعودی وزارتِ صحت نے حج سیزن کے لیے آٹھ زبانوں میں صحت اور بیماریوں سے متعلق ایک مستند آن لائن آگاہی فورم کا اجرا کیا ہے۔
جس میں صحت اور سلامتی کے بارے میں مفید معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ صحت سے متعلق معلوماتی مواد عربی، انگریزی، فرانسیسی، فارسی، انڈونیشیئن، مالے، ترکی اور اردو زبان میں موجود ہے۔
وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دنیا کی مقبول ترین 8 زبانوں میں رہمنائے صحت پورٹل کا مقصد دنیا کے مختلف ممالک سے آنے والے زائرین تک ان کی زبان میں معلومات کی فراہمی ہے۔
بیان میں ہدایت کی گئی ہے کہ عازمین حج اپنے اپنے ملک سے میننگوکوکل میننجائٹس، کووڈ-19، پولیو مائیلائٹس اور زرد بخار کے ٹیکے لگوائیں۔
علاوہ ازیں دائمی بیماریوں میں مبتلا عازمین کو خصوصی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے مرض سے متعلق دستاویزات اور ادویات کی مناسب مقدار ہمیشہ ساتھ رکھیں۔
عازمین حج سے خناق، تشنج، کالی کھانسی، پولیو، خسرہ، چکن پاکس اور ممپس سمیت بیماریوں کے لیے ویکسینیشن کروانے کی درخواست کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی گئی
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔