مولانا عبدالعزیز نے مفتی عبدالقوی کو لال مسجد سے نکال دیا، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
جنید انور : لال مسجد میں اُس وقت ہنگامہ برپا ہوگیا جب مولانا عبدالعزیز نے معروف مذہبی شخصیت مفتی عبدالقوی کو مسجد سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوچکی ہے، جس پر شدید عوامی ردعمل سامنے آرہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق مفتی عبدالقوی لال مسجد کے دفتر میں موجود تھے، اسی دوران مولانا عبدالعزیز بندوق کے ہمراہ وہاں پہنچے اور سخت الفاظ میں مفتی قوی کو فوری مسجد سے نکل جانے کا کہا۔ مولانا عبدالعزیز نے مفتی قوی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: "یہاں سے نکل جاؤ، آئندہ آئے تو کوڑے ماروں گا"۔
آج کے گوشت اور انڈوں کے ریٹس -جمعہ16 مئی , 2025
ویڈیو میں مولانا عبدالعزیز کو مفتی عبدالقوی کو "بدمعاش" کہتے بھی سنا جا سکتا ہے۔ واقعہ دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا اور صارفین کی جانب سے مختلف آرا کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب مفتی عبدالقوی نے ردعمل میں کہا کہ وہ جمعہ کی نماز کے لیے لال مسجد گئے تھے، جہاں مسجد کے علما نے انہیں ایک شرعی مسئلہ پر بات چیت کے لیے دفتر میں مدعو کیا تھا۔ مفتی قوی نے مزید کہا کہ مولانا عبدالعزیز آئے اور انہوں نے مجھے اللہ کے گھر سے نکال دیا۔
پھلوں اور سبزیوں کی آج کی ریٹ لسٹ -جمعہ 16 مئی ، 2025
یہ واقعہ ملک کے مذہبی حلقوں اور سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے، جہاں ایک طرف لال مسجد کے کردار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں تو دوسری جانب مولانا عبدالعزیز کے سخت رویے پر تنقید کی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: مولانا عبدالعزیز سوشل میڈیا پر لال مسجد
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
پاکستان سمیت 8 عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف میں اسرائیلی اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل سے فوری طور پر ان اقدامات کو روکنے اور عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں انتہا پسند اسرائیلی وزراء کی قیادت میں یہودی آبادکاروں کی مسلسل اجتماعی دراندازی، مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانا، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنا اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات نہایت خطرناک اور ناقابل قبول ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ میں دراندازی پر اکسانے اور تشدد پر مبنی بیانات کی بھی شدید مذمت کی۔ اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یروشلم کے قدیم شہر اور اس کے مذہبی مقامات تک رسائی پر پابندیاں، خصوصاً مسلمانوں اور دیگر عبادت گزاروں کے ساتھ امتیازی سلوک، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایک غیرقانونی کوشش ہیں۔
وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل بطور قابض طاقت مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کر رہا ہے، جو اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔
آٹھوں ممالک نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیا۔ اعلامیے میں مقدس مقامات کی نگرانی کے حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35 ایکڑ) رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ مزید کہا گیا کہ اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جو مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے معاملات کا مجاز ہے۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بطور قابض طاقت فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر میں عائد تمام پابندیاں ختم کرے، مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے سے باز آئے اور مقدس مقامات کے تقدس کا احترام کرے۔
مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری غیرقانونی اقدامات اور خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے واضح، مضبوط اور مؤثر موقف اختیار کرے، تاکہ مقدس مقامات کی حرمت اور تاریخی حیثیت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں