اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 مئی2025ء ) پاکستان اور بھارت کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے دوران سابق وزیراعظم عمران خان سے جیل میں ایک اہم غیرسیاسی شخصیت کی ملاقات اور بریفنگ کا انکشاف سامنے آگیا۔ سینئر صحافی نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ 6 مئی کو عمران خان سے ایک غیر سیاسی شخصیت نے اڈیالہ میں ملاقات کرکے بھارت کے ساتھ ہونے والی کشیدگی پر بریفنگ دی، انہیں بالکل ایسے بریفنگ دی گئی جیسے وزیر اعظم کو بریفنگ دی جاتی ہے، جس میں عمران خان کو اعتماد میں لیا گیا اور انہیں بتایا گیا کہ بھارت پاکستان پر یہ الزامات لگا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ عمران خان کو اڈیالہ جا کر کہا گیا کہ ملک کی خاطر آپ اور آپ کی یوتھ کی ضرورت ہے، پی ٹی آئی کی یوتھ فوج کو کافی عرصے سےاٹیک کر رہی ہے وہ اب نہ کرے، جس کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ آپ کے ساتھ اختلافات سیکنڈری ہیں، ہم آپ کے اور قوم کے ساتھ ہیں، ملک کی خاطر میں اپنی اندرونی لڑائی کو روک دیتا ہوں اور مودی کے خلاف آپ کے ساتھ ہوں، جس پر کہا گیا کہ آپ کا بہت شکریہ، ہمیں آپ سے یہی توقع تھی۔

(جاری ہے)

نجم سیٹھی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ عمران خان سے بات چیت شروع ہوگئی ہے، تحریک انصاف کیلئے اچھی خبریں آئیں گی، عید سے پہلے بڑے رہنماء رہا ہوں گے جب کہ عمران خان نے کہا کہ میں نے ملاقات کرنے والی شخصیت سے کہا کہ میں نے عدالتوں کے ذریعے رہا ہونا ہے اور جون تک عمران خان کی رہائی کا امکان ہے، عمران خان کی سزا معطلی کا کیس لگنا ایک اہم پیشرفت ہے۔

سینئر صحافی کے یہ بھی کہا ہے کہ 6 مئی کو عمران خان کے ساتھ جیل میں ہونے والی ملاقات کے بعد ٹویٹر کھولا گیا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے پی ٹی آئی سوشل میڈیا والوں کو سائبر وائیررز قرار دیا، پنجاب میں پاکستان زندہ بعد ریلیز نکالنے والوں کو چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر رہا کردیا گیا، رانا ثناء اللہ اور عطا تارڑ نے پی ٹی آئی کی تعریف کی، الیکشن کمیشن کو گرین سگنل دیا گیا ہے کہ ثانیہ نشتر کی خالی کردہ سیٹ پر سینٹ کا الیکشن کروا دیں، اس ساری پیشرفت کے نتیجے میں مئی کے اختتام یا جون میں عمران خان کی رہائی ہو سکتی ہے۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے ساتھ

پڑھیں:

بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات

بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور لاپتا افراد سے متعلق جاری بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں بعض حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ حالیہ برسوں میں بلوچستان سے متعلق سرگرم بعض مبینہ انسانی حقوق اور میڈیا نیٹ ورکس کے پیچھے بھارت کے مبینہ اثر و رسوخ اور فنڈنگ کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق 2020 میں ’انڈین کرونیکلز‘ جیسے ناموں سے پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان کے حوالے سے سرگرم بعض فرضی این جی اوز اور انسانی حقوق کے اداروں کے نیٹ ورک سامنے آئے، جنہیں بعض مبصرین بھارت کے بیانیہ سازی کے منصوبوں سے جوڑتے ہیں، تاہم یہ مؤقف ایک متنازع اور زیرِ بحث دعویٰ ہے جس پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، ماہرنگ بلوچ کا جھوٹ بے نقاب

اسی تناظر میں حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ، جسے بعض حلقے ’ایچ آر سی بی‘ سے منسوب کر رہے ہیں، میں لاپتا افراد کے حوالے سے اعداد و شمار اور کیسز کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس کی کریڈیبلٹی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان حلقوں کا دعویٰ ہے کہ رپورٹ میں شامل کئی نام اور فہرستیں ایسے نیٹ ورکس سے اخذ کی گئی ہیں جو سوشل میڈیا پر پہلے سے مخصوص دعوے کرتے ہیں، اور پھر انہی دعووں کو بغیر آزادانہ اور مکمل تصدیق کے رپورٹ کا حصہ بنا لیا جاتا ہے، جسے بعض لوگ ایک “ایکوسسٹم” یا “ایکو چیمبر” قرار دیتے ہیں۔

تنقید کرنے والے مؤقف کے مطابق اس طرزِ عمل میں ایک خاص طریقۂ کار دیکھا جاتا ہے، جس میں پہلے کسی شخص کو جبری گمشدہ قرار دینے کا دعویٰ سامنے آتا ہے، پھر سوشل میڈیا پر اس پر مہم چلتی ہے، اس کے بعد وہی معلومات رپورٹس میں شامل ہو جاتی ہیں، اور پھر بین الاقوامی سطح پر انہیں بطور حوالہ پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم بعد ازاں بعض کیسز میں مختلف حقائق سامنے آنے کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں، جنہیں ان رپورٹس کی ساکھ پر سوال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ماہرنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک بار پھر بے نقاب، دہشتگردوں کی پشت پناہی ثابت

اسی سلسلے میں بعض مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ چند افراد کے کیسز میں بعد میں مختلف دعوے یا وضاحتیں سامنے آئیں، جنہیں ان رپورٹس کے طریقۂ کار پر تنقید کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر رپورٹنگ کا انحصار غیر مصدقہ سوشل میڈیا دعوؤں پر ہو تو اس کی غیر جانبداری متاثر ہو سکتی ہے، خصوصاً جب اسے کسی مخصوص سیاسی یا نظریاتی بیانیے کے ساتھ جوڑا جائے۔

دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انسانی حقوق کی کسی بھی رپورٹ میں صرف ایک پہلو نہیں بلکہ تمام متاثرین کا احاطہ ہونا چاہیے، جن میں وہ شہری بھی شامل ہیں جو دہشتگردی کے واقعات میں متاثر ہوئے۔ اس ضمن میں چمن، مچ اور دیگر علاقوں میں پیش آنے والے حملوں کے متاثرین، مسافروں، اساتذہ اور مزدوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ اگر کسی رپورٹ میں ان واقعات اور متاثرین کو نظر انداز کیا جائے تو اس کی جامعیت اور غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔

یوں بلوچستان سے متعلق انسانی حقوق کی رپورٹس، لاپتا افراد کے اعداد و شمار اور مبینہ بیرونی اثر و رسوخ کے الزامات ایک پیچیدہ اور متنازع بحث کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جس میں مختلف فریقین اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ موجود ہیں اور حتمی اتفاق رائے تاحال سامنے نہیں آ سکا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انڈین کرونیکلز بھارت لاپتا افراد ماہرنگ بلوچ

متعلقہ مضامین

  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • امریکا ایران کشیدگی کے اثرات: تیل کی قیمتوں میں تیزی، بٹ کوائن 2 ماہ کی کم ترین سطح پر
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی