بھارت کو تھانیدار بنانے کا امریکی منصوبہ ناکام: حافظ نعیم، ایبٹ آباد میں دفاع پاکستان، یکجہتی غزہ مارچ
اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT
ایبٹ آباد (نوائے وقت رپورٹ) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ کشمیر پر ’’ادھر ہم ادھر تم‘‘ کی ثالثی قبول نہیں ہو گی۔ حکومت کشمیر اور فلسطین کا مقدمہ دنیا بھر میں پوری طاقت سے لڑے، جذبہ جہاد نے قوم کو متحد کر دیا۔ حکومت کی ذمہ داری ہے قومی یکجہتی کو برقرار رکھنے کے لیے موثر اقدامات اٹھائے۔ 10مئی کے بعد پوری دنیا میں ایک توانا اور طاقتور پاکستان ابھر کر سامنے آیا ہے۔ بھارت کے ساتھ برابری کی سطح پر بات کی جائے، امریکا کا بھارت کو خطے کا تھانیدار بنانے کا منصوبہ ناکام ہو گیا۔ اسرائیل کو واضح پیغام دیا جائے کہ غزہ میں ظلم بند کرے، اسرائیل مٹے گا، فلسطین قائم و دوائم رہے گا۔ ایبٹ آباد میں عظیم الشان دفاع پاکستان و غزہ یکجہتی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت واشنگٹن اگر مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرائے تو ٹھیک بصورت دیگر اس کی ثالثی کو قبول نہ کیا جائے۔ حکمران یاد رکھیں کہ آدھا کشمیر جہاد سے آزاد ہوا، بقیہ بھی جہاد سے ہی آزاد ہو گا۔ جذبہ جہاد نے قوم کو متحد کیا، وزیراعظم اور آرمی چیف اسلام کی بنیادوں پر ہی قوم کو متحد کریں۔ امیر جماعت نے کہا کہ حکومت خطے میں مضبوط بلاک بنائے، چین، روس، ایران اور افغانستان کو اس بلاک میں شامل کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت کو کشمیر اور فلسطین پر عملی اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بھارت سے مذاکرات ضرور کریں تاہم اپنے اصولی موقف سے پیچھے نہ ہٹا جائے۔ دفاع پاکستان و غزہ یکجہتی مارچ میں عوام نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر خواتین اور بچوں کی بھی بڑی تعداد موجود تھی۔ امیر جماعت اسلامی ہزارہ عبدالرزاق عباسی اور دیگر راہنماؤں نے بھی مارچ سے خطاب کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: نے کہا
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔