بغداد: عراقی دارالحکومت بغداد میں ہونے والے 34 ویں عرب سربراہی اجلاس نے غزہ پٹی پر جاری جنگ کو فوری طورپر ختم کرنے پر زور دیا اور اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی تمام کوششوں کو واضح طورپر مسترد کیا ہے۔
متفقہ طورپر جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ فلسطین کا مسئلہ عرب ایشوز میں سرفہرست رہے گا۔ شام کے اتحاد اور خودمختاری کی اہمیت کو بھی اجاگرکیا گیا۔

 

عرب سربراہ کانفرنس میں عرب ممالک کے وزرا اور نمائندے،اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتینو گوتریس، عرب لیگ کے سیکٹر جنرل ابوالغیط اور اسلامی تعاون تنظیم و خلیج تعاون کونسل اور یورپی یونین کے علاوہ سپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے شرکت کی۔
’اعلان بغداد‘ میں فلسطینی مسئلہ کو بنیادی ایشو قرار دیتے ہوئے غزہ میں ہونے والی جارحیت کو فوری بند کرانے پر زوردیا گیا۔
اجلاس نے بین الاقوامی برادری پرزور دیا کہ ’وہ اخلاقی قوانین و ضوابط کے تحت غزہ میں جاری خون ریزی کو فوری طور پر بند کرائے اور انسانی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے متاثرین کے لیے امداد کی بغیر کسی رکاوٹ فراہمی جاری رکھنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔‘
اعلامیے میں قاہرہ کے ہنگامی سربراہی اجلاس میں غزہ کی تعمیر نو کےلیے منظور کیے جانے والے عرب اسلامی منصوبے کی حمایت کا مطالبہ ،غزہ کی تعمیر نو کے لیے فنڈ کے قیام کےلیے اقدامات کا خیرمقدم کیا گیا۔
اعلان بغداد میں فلسطینی صدر محمود عباس کی جانب سے انٹرنیشنل پیس کانفرنس کے انعقاد، عرب امن اقدام و بین الاقوامی قرار دادوں کے مطابق دو ریاستی حل پرعمل درآمد کے لیے اقدامات کرنے کے مطالبہ کی بھی حمایت کی گئی۔ یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ عمل درآمد تک اقوام متحدہ کی امن فوج کو تعینات کیا جائے۔

 

اجلاس نے بعض یورپی ممالک جن میںسپین، ناروے اورآئرلینڈ وغیرہ شامل ہیں کی جانب سے فلسطین کو تسلیم کرنے اور جنوبی افریقا کی جانب سے عالمی ادارہ انصاف میں اسرائیلی مظالم کے خلاف مقدمہ دائرکیے جانے کے اقدام کو سراہا گیا۔
اعلان بغداد میں جمہوریہ شام کی خود مختاری اور ان کے داخلی معاملات میں کسی قسم کی مداخلت کو مسترد کرتے ہوئے اسرائیل کی جانب سے شامی سرزمین پر ہونے والے جارحانہ اقدام کی بھرپور مذمت کی گئی۔
لبنان کو درپیش چیلجنز کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ طورپر اس کی مدد کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔ یمن کے حوالے سے قیام امن پر زوردیا گیا۔ سوڈان میں جاری خانہ جنگی کو روکوانے اورتمام فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا۔

اعلامیے میں دو ریاستی حل پرعمل درآمد کے لیے اقدامات کی حمایت کی گئی

اجلاس نے لیبیا کے حوالے سے معاملات کے حل کے لیے بات چیت اور مذاکرات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے غیرملکی فورسز اور کرائے کے فوجیوں کو وہاں سے نکالنے کے لیے مہلت دینے کا مطالبے کا اعادہ کیا گیا۔
اعلامیے میں مشرق وسطی میں ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاو اور اس خطے کو ان مہلک ہتھیاروں سے خالی پر اتفاق کیا گیا علاوہ ازیں میری ٹائم سکیورٹی کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا۔
عرب سمٹ نے ہر قسم کی دہشتگردی اور نفرت پھیلانے والے اعمال کی مذمت کی ۔ انسانی اسمگلنگ و منی لانڈرنگ کے انسداد کے لیے کی جانے والی کوششوں کو تیز کرنے پرزور دیا۔
اعلان بغداد کے اختتام پر امریکہ اور ایران کے مابین ہونے والے مذاکرات کی سپورٹ کرتے ہوئے مثبت نتائج برآمد ہونے کی امید کا اظہار کیا, اس حوالے سلطنت عمان کی ثالثی کے کردار کو سراہا۔

Post Views: 6.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ

بشکیک / تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک امریکا کی جانب سے ایران پر ہونے والی کسی بھی فوجی کارروائی میں تعاون یا مدد فراہم کرتا ہے تو اسے بھی اس کے نتائج اور بین الاقوامی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑے گا۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے شمالی ایران میں پاسداران انقلاب کے ایک بحری اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کرغزستان میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں حصہ لینے، تعاون کرنے یا سہولت فراہم کرنے والے تمام فریق بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ دار ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے حق کے تحت ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔

ادھر ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق شمالی صوبے گیلان کے نائب گورنر علی باقری نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی میزائلوں نے صبح کے وقت زیباکنار میں واقع پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ایک ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔

ایرانی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں فوجی تنصیب میں موجود کچھ آلات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان یا مزید تفصیلات کے بارے میں فوری طور پر معلومات جاری نہیں کی گئیں۔

تاحال امریکا کی جانب سے ایرانی حکام کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے بیانات سے سفارتی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • لاہور: گھر کے بیسمنٹ میں جمع بارش کے پانی میں ڈوب کر 1 شخص جاں بحق
  • خبردار اپنی سمز کسی اور کو نہ دیں۔۔۔ پی ٹی اے نے اہم ہدایات جاری کردیں۔
  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر