قلعہ عبداللہ کی مارکیٹ میں دھماکہ، 4 افراد شہید، 10 شدید زخمی
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
قلعہ عبداللہ(نیوز ڈیسک) قلعہ عبداللہ کے علاقے گلستان میں مارکیٹ میں دھماکہ ہوا، دھماکے میں چار افراد شہید جبکہ 10 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔
دھماکے کی اطلاع پر پولیس، لیویز حکام اور امدادی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں، زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا، متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔
ڈی سی قلعہ عبداللہ نے بتایاکہ دھماکے سے متعدد گاڑیاں، دکانیں تباہ اور مارکیٹ کی متعدد دکانیں مسمار ہو گئیں، دکانوں کے ملبے تلے بھی لوگوں کے دبے ہونے کی اطلاعات ہیں۔
پشاور میں فریقین کے درمیان فائرنگ سے 6 افراد جاں بحق ہوگئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: قلعہ عبداللہ
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔