بھارتی سینما کے معروف اداکار عرفان خان کے بیٹے بابل خان نے ہدایت کار سائی راجیش کی فلم ’بیبی‘ کے ریمیک سے واک آؤٹ کرنے کی وجہ سے وضاحت فراہم کر دی ہے۔

بابل خان نے اس بات کی تصدیق کی کہ انہوں نے سائی راجیش کے ساتھ اس فلم کے پروجیکٹ کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے، اور یہ فیصلہ سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کے بعد کیا گیا۔

دونوں نے حال ہی میں اپنے انسٹاگرام اکاونٹس پر الگ الگ پوسٹس کے ذریعے اس اشتراک کے خاتمے کی تصدیق کی۔

بابل خان نے اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں بتایا کہ ان کے لیے اس فیصلے تک پہنچنا ایک مشکل عمل تھا اور انہوں نے غیر متوقع حالات کی وجہ سے فلم چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے علاوہ بابل نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ وہ کچھ وقت کے لیے وقفہ لے رہے ہیں۔

بابل خان نے اپنی پوسٹ میں لکھا، ”ہم نے سائی راجیش سر کے ساتھ بہت جذبے، محنت اور باہمی احترام کے ساتھ ایک جادوئی سفر کی شروعات کی تھی تاکہ کچھ نیا اور خوبصورت تخلیق کیا جا سکے۔ بدقسمتی سے غیر متوقع حالات کی وجہ سے، چیزیں ویسے آگے نہیں بڑھ سکیں جیسے ہم نے سوچا تھا۔“

اداکار نے مزید کہا کہ چونکہ وہ اس وقت کچھ وقت کے لیے وقفہ لے رہے ہیں، اس لیے وہ سائی راجیش سر اور ان کی فلم کی پوری ٹیم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں۔

بابل نے اس بات کا یقین ظاہر کیا کہ ان کے درمیان محبت اور احترام کا رشتہ قائم ہے اور وہ مستقبل میں دوبارہ مل کر کچھ نیا تخلیق کریں گے۔

View this post on Instagram

A post shared by Babil (@babil.

i.k)


اس کے جواب میں سائی راجیش نے بھی بابل خان کی محنت اور صلاحیتوں کی تعریف کی اور کہا کہ وہ مستقبل میں ان کے ساتھ ضرور کام کریں گے۔

سائی راجیش نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ”بابل ان سب سے زیادہ باصلاحیت اور محنتی اداکاروں میں سے ہیں جن سے میں نے اپنی زندگی میں ملاقات کی۔ تاہم، مجھے اس صورتحال کی حقیقت کو قبول کرنا ہوگا۔“

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ”جب میں بابل کے ساتھ فلم کی تیاری کے دوران وقت گزار رہا تھا تو میں خوش تھا کہ میں اتنے زبردست اداکار کے ساتھ کام کر رہا ہوں، اور اس لمحے کو ہمیشہ یاد رکھوں گا جب میں نے اسے اپنے سامنے اداکاری کرتے ہوئے دیکھا۔“

سائی راجیش نے بابل کی ذہنی و جسمانی صحت کو اولین ترجیح دینے کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے ان کے لیے نیک تمنائیں بھی ارسال کیں۔

View this post on Instagram

A post shared by Sai Rajesh (@sairazesh)


قبل ازیں بابل خان نے انسٹاگرام پر کچھ ویڈیوز شیئر کیں، جن میں انہوں نے بالی وڈ کے کچھ مشہور اداکاروں کا ذکر کیا تھا۔ ان ویڈیوز میں ایسا محسوس ہوا کہ بابل نے دیگر اداکاروں پر تنقید کی ہے، جس پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل آیا۔

بابل نے بعد میں اپنا انسٹاگرام اکاؤنٹ عارضی طور پر ڈی ایکٹیویٹ کر دیا، لیکن واپس آ کر انہوں نے وضاحت دی کہ ان کی ویڈیوز کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور ان کا مقصد تعریف کرنا تھا، نہ کہ تنقید۔

اس کے بعد سائی راجیش نے ایک طویل نوٹ شیئر کرتے ہوئے بابل کی ٹیم پر تنقید کی۔ انہوں نے لکھا، ”کیا آپ واقعی سمجھتے ہیں کہ ہم اتنے سادہ ہیں کہ خاموشی سے پیچھے ہٹ جائیں گے؟ اگر آپ صرف ان لوگوں کو اہمیت دے رہے ہیں جن کا ذکر ویڈیوز میں کیا گیا ہے اور باقی سب کو نظر انداز کر رہے ہیں، تو یہ ہمارے لیے ناقابل برداشت ہے۔ ہمیں اس رویے کے لیے معذرت کی ضرورت ہے۔“

کمنٹس میں بابل خان نے سائی راجیش کی پوسٹ پر دل گرفتہ ردعمل دیا۔ بابل نے کہا کہ یہ پوسٹ پڑھ کر ان کا دل ٹوٹ گیا کیونکہ انہوں نے اس فلم کے لیے اپنے دو سال وقف کیے اور کردار کے لیے سخت محنت کی۔

بابل خان نے مزید کہا، ”میں نے اس کردار کے لیے جو تکلیف برداشت کی، وہ صرف اس لیے تھی کہ سائ راجیش سر خوش ہوں۔ اب سب ٹھیک ہے، اور میں اپنے کام کو بولنے دوں گا۔ الوداع۔“

Post Views: 2

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: انہوں نے کے ساتھ نے اپنی رہے ہیں کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا