راولپنڈی میں پی ایس ایل دوبارہ شروع کرنے کو شعیب اختر نے ایک مضبوط پیغام قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
پاکستان کے سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے پی ایس ایل دوبارہ شروع کرنے کو ایک مضبوط پیغام قرار دیا۔انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ بھارت کی جانب سے راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم پر حملے کے بعد پاکستان سپر لیگ کے میچز وہیں سے دوبارہ شروع کرنا ایک مضبوط پیغام تھا کہ ہم بزدل نہیں ہیں۔واضح رہے کہ 8 مئی کو راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم کے قریب ایک مبینہ بھارتی ڈرون گرایا گیا تھا جس کے بعد پی ایس ایل کے میچز ملتوی ہو گئے تھے، سیز فائر ہونے کے بعد میچز دوبارہ کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے 17 مئی سے دوبارہ پی ایس ایل راولپنڈی سے شروع کرنے کا اعلان کیا، گروپ میچز راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں جبکہ پلے آف اور فائنل میچ لاہور قذافی اسٹیڈیم کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پی ایس ایل
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔