ہماری افواج نے دشمن کو وہ سبق سکھایا جسے وہ قیامت تک یاد رکھےگا، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
کراچی: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہماری افواج نے دشمن کو وہ سبق سکھایا جسے وہ قیامت تک یاد رکھےگا۔
کراچی میں نیوی کے افسران و جوانوں سےخطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پوری قوم سیسہ پلائی دیوار کی طرح پوری اپنی افواج کے ساتھ کھڑی تھی اور کھڑی ہے، جس طریقے سے ہماری بری فوج نے دشمن کے ٹھکانوں پر ٹھیک ٹھیک نشانے لگائے، اسی طرح ہماری فضائیہ نےدشمن کے ٹھکانوں پر جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اسے وہ سبق سکھایا جو وہ قیامت تک رہے گا، اسی طریقے سے ہماری بحریہ کی تیاری ویسے ہی تھی جیسی بری فوج اور بحریہ کی تھی۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہماری بحریہ اس بار بھی تیار تھی کہ دوارکا کی تاریخ کو دوبارہ دہرایا جائے مگر ہماری بحریہ کی تیاری دیکھ کر دشمن کی ہمت نہیں ہوئی، اور جس طرح بری فوج اور فضائیہ نے مل کر اس کی پٹائی تو شائد وہ مزید رسوا ہونے کے لیے تیار نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ یہ وہ تاریخ کا ایک قابل فخر واقعہ ہے جس نے پاکستان کو پہلے بھی اور آئندہ کے لیے بھی ناقابل تسخیر بنادیا ہے۔
شہبازشریف نے کہا کہ میں اس موقع پر پی این ایس مہران کے شہید لیفٹیننٹ یاسر کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے جان کی پروا کیے بغیر دشمن کے سامنے سینہ سپر ہوکر اپنی جان کی قربانی دی مگر پاکستان کے وقار اور بحری اثاثوں کے اوپر آنچ نہیں آنے دی، یہ تمام غاذی اور شہدا ہماری قوم کا سرمایہ افتخار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی حالیہ ناکام اور ہزیمت آمیز مہم جوئی میں دنیا نے ایک بار پھر دیکھ لیا کہ ہماری بحریہ مکمل طور پر تیار تھی، بھارت کا فخریہ ایئرکرافٹ کیریئر وکرانت 400 ناٹیکل میل سے قریب آنے کی جرات نہیں کرسکا، یہ بے مثال دفاعی حکمت عملی اور جوانوں کے غیرمتزلزل عزم کی زندہ مثال ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ہماری بحریہ نے کہا کہ
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔