بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنے جنگی جرائم کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے، حریت کانفرنس
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
حریت ترجمان نے کہا کہ بھارتی فورسز کے اہلکار تمام بڑے شہروں اور قصبوں میں گھروں پر چھاپے مار کر تلاشی کی کارروائیاں کر رہے ہیں اور مکینوں کو ہراساں کر رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے آزاد جموں و کشمیر کے عوام اور دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں پر زور دیا ہے کہ وہ بھارتی قبضے، سیاسی ناانصافیوں اور بھارتی فوج کی طرف سے کشمیریوں کے خلاف جاری پرتشدد کارروائیوں کے خلاف متحد ہو جائیں۔ ذرائع کے مطابق ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں علاقے کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے نام نہاد سکیورٹی کے نام پر بڑے پیمانے پر گھروں پر چھاپوں کے دوران حریت پسند کارکنوں سمیت ہزاروں کشمیریوں کو گرفتار کر کے کالے قوانین کے تحت مختلف جیلوں اور تھانوں میں بند کر دیا ہے۔ترجمان نے کہا کہ بھارت مختلف ممالک میں اپنی سیاسی جماعتوں کے وفود بھیج کر اپنے جنگی جرائم کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے اور دنیا کا یہ فرض اور ذمہ داری ہے کہ وہ تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے آگے آئے تاکہ جنوبی ایشیا میں امن، سیاسی اور اقتصادی استحکام آئے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی زیرقیادت بھارتی حکومت نے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقے کو ایک فوجی چھائونی میں تبدیل کر دیا ہے لیکن بھارت نہ تو تحریک آزادی کو دبا سکتا ہے اور نہ ہی اپنے جھوٹے بیانیے اور پروپیگنڈے کے ہتھکنڈوں سے عالمی برادری کو گمراہ کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی بی جے پی حکومت اور اس کی مسلط کردہ قابض انتظامیہ کشمیریوں کو سیاسی انصاف کا مطالبہ کرنے اور اپنے مادر وطن پر بھارت کے غیر قانونی قبضے کی مخالفت کرنے پر نشانہ بنا رہی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ بھارتی حکام نے علاقے میں لاکھوں کی تعداد میں فوجیوں، پیراملٹری فورسز اور پولیس اہلکاروں کو تعینات کر کے مقبوضہ جموں و کشمیر کو ایک فوجی چھائونی میں تبدیل کر دیا ہے۔ حریت ترجمان نے کہا کہ بھارتی فورسز کے اہلکار تمام بڑے شہروں اور قصبوں میں گھروں پر چھاپے مار کر تلاشی کی کارروائیاں کر رہے ہیں اور مکینوں کو ہراساں کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ترجمان نے کہا کہ بھارت کہا کہ بھارتی کر رہے ہیں دیا ہے
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔