10 مئی کے بعد دنیا بھر میں بھارت اور اس کے تیسری بار وزیر اعظم بننے والے نریندر مودی کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے جس کے جارحانہ انسانیت سوز رویے کی وجہ سے بھارت کی فوجی طاقت کی پول کھل گئی ہے اور 24 سال سے اقتدار میں رہنے والے مودی کی حرص اقتدار پوری نہیں ہوئی اور مودی کا بی جے پی کے سیاسی مفاد اور اپنے مرنے تک اقتدار میں رہنے کا منصوبہ ہی بے نقاب نہیں ہوا بلکہ گودی بھارتی میڈیا نے دنیا بھر میں جھوٹی خبریں پھیلا کر خود کو ہی ناقابل اعتبار بلکہ رسوا کر لیا ہے اور اس میڈیا اور بھارت کا دنیا بھر میں مذاق اڑایا جا رہا ہے اور بھارتی تجزیہ کاروں نے بھی اس کی خبروں کو جھوٹا بلکہ بکواس تک قرار دے دیا ہے اور اب دنیا دونوں پر اعتبار نہیں کر رہی۔شائننگ انڈیا کا دنیا بھر میں چرچہ کیے جانے والے بھارت میں پاکستانی جوانوں نے بھارت کے 70 فیصد علاقے کو تاریک کرکے دنیا کو دکھا دیا کہ بھارت کی مصنوعی ترقی صرف جھوٹ اور بھارتی فوج صرف چند روز کی جنگ کرنے کے قابل نہیں رہی ہے اور فرانس کے جدید اور مہنگے رافیل جہازوں اور جدید آلات سے لیس بھارتی فضائیہ کی فضائی طاقت دنیا نے دیکھ لی بلکہ رافیل جنگی جہازوں سمیت بھارت کے 6 جہاز پاک فضائیہ کے قابل ترین پائلیٹوں نے تباہ کرکے دنیا میں اپنی بھارت پر بالادستی کا ثبوت دے دیا ہے۔
صرف چار روزہ جنگ میں پاکستانی افواج کی زبردست کامیابی اور بھارت کے مقابلے میں بہترین کارکردگی کو دنیا میں سراہا گیا اور دنیا بھر کے اہم میڈیا اداروں اور اخبارات کی اپنی خبروں میں بھارت کی مصنوعی اور خیالی کامیابی کی کہانیاں عالمی میڈیا کی زبانی دنیا بھر کو اور خود بھارت کے انتہا پسندوں تک پہنچ چکی ہیں مگر بھارت کے متعصب ترین وزیر اعظم مودی نے شرمندگی کا اظہار تو کیا اپنی فوج کی شکست کو بھی تسلیم نہیں کیا بلکہ ادھم پور جا کر اپنی خود ساختہ کامیابی پر شکست خوردہ بھارتی فضائیہ کی کامیابی پر انھیں سراہا اور عقب میں ایک جہاز اور ایس 400 کا صرف ایک حصہ دکھا کر S-400 کی تباہی چھپانے کی مذموم اور بھونڈی کوشش کی اور اپنی شکست کو کامیابی ظاہر کرکے اظہار مسرت کیا جب کہ ناکامی کے آثار خود مودی اور اس کے ناکام فضائی افسروں کے چہروں پر ظاہر تھے جس پر بھارتی میڈیا میں بھی سوال اٹھے ہیں کہ اس جنگ میں اگر بھارت کو کامیابی ملی ہے تو بھارتی فوج کے تمام سربراہوں کے چہرے کیوں لٹکے ہوئے تھے اور جشن پاکستان میں منایا جا رہا تھا جس کے عوام اپنی فوج کی کامیابی پر مٹھائیاں بانٹ رہے تھے اور سب مل جل کر اپنی فوج کی شان دار کامیابی پر ملک بھر میں خوشیاں منا اور فتح پر ریلیاں نکال رہے تھے۔
حکومت پاکستان نے 16 مئی جمعہ کے مبارک روز ملک بھر میں یوم تشکر منایا کیونکہ پاکستان کی بھارت جیسے 6 گنا بڑے دشمن ملک کے خلاف اللہ کی مدد سے ہی ممکن ہوئی تھی کیونکہ بے شک اللہ ان لوگوں کو پسند فرماتا ہے جو اس کی راہ میں صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہوں۔ وزیر اعظم پاکستان اپنی فوج اور آپریشن بنیان مرصوص کی شان دار کامیابی پر بھارتی وزیر اعظم مودی کی طرح چھپ کر نہیں بیٹھے بلکہ وہ اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر روزانہ میڈیا میں نظر آئے اور انھوں نے کامرہ جا کر ایئربیس پر پاک فضائیہ کے فاتح پائلیٹوں کو شاباش دی اور ان کی کارکردگی کو سراہا۔ اس خوشی کے موقع پر ایئرچیف مارشل ظہیر بابر اور نیول چیف نوید اشرف بھی موجود تھے۔
اس سے قبل وزیر اعظم پاکستان آرمی چیف، ایئر چیف اور وفاقی وزیروں کے ہمراہ پسرور کینٹ کے دورے پر بھی گئے اور آپریشن بنیان مرصوص میں غیر معمولی بہادری دکھانے والے فوج کے جوانوں کے پاس بھی گئے اور سب میڈیا میں ایک آواز ہو کر نعرہ تکبیر بلند کرتے نظر آئے اور بزدل بھارت کا وزیر اعظم مودی ادھم پور کے دکھاوے کے دورے کے پاس اپنی شکست خوردہ فوج کے پاس ان کے حوصلے بڑھانے بھی نہیں گیا اور نہ کہیں میڈیا یا محاذوں پر نظر آیا جو اپنے عوام کو مصنوعی کامیابی پر جشن منانے کا کہہ چکا تھا جب کہ بھارت میں شکست پر صف ماتم بچھی تھی۔
مسلمانوں کا دشمن نریندر مودی جو اب دنیا میں سرینڈر مودی کے نام سے بدنام ہو چکا ہے اور اس کی مسلمان دشمن بی جے پی کو ایسے ہی نااہل وزیر اعظم کی ضرورت تھی جو مسلمان دشمنی کے باعث13 سال بھارتی گجرات کا وزیر اعلیٰ رہا جس کی حکومت میں ٹرین میں ایک ہزار مسلمانوں کا کھلے عام قتل عام ہوا تھا جس پر امریکا میں بھی اسے قصائی کہا جاتا تھا اور اس کی امریکا میں داخلے پر پابندی تھی مگر بھارت کے مسلم دشمن انتہا پسندوں نے اسے 2014 میں سیکولر کہلانے والے بھارت کا وزیر اعظم بنا دیا جس کے بعد سے وہ مسلم دشمنی میں اندھا ہو چکا۔ مسلمانوں کا سب سے بڑا قاتل اور قصاب مودی بھارت کو صرف ہندوؤں کا ملک بنانے پر تلا ہوا ہے۔
اپنی عمر کے آخری حصے میں اولاد سے محروم مودی تاحیات وزیر اعظم رہنے کے منصوبے بنا رہا ہے جسے خود اپنے ملک کے ہندوؤں کا بھی احساس نہیں اور بھارتی ہندو بھی مودی کی جنگی جنونیت کا شکار ہیں جو جانتے بھی ہیں کہ بھارت کا مقابلہ ایٹمی قوت کے حامل پاکستان سے ہے جو جنگ کو وسعت بھی دے سکتا تھا۔ بھارتی عوام کو احساس سے محروم مودی کو کہنا چاہے کہ وہ بھارت کی جان چھوڑے مگر وہ چھوڑے گا نہیں جس کی اپنی اولاد نہیں تو وہ دوسروں کی اولادوں کا خیال کیوں کرے گا؟
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دنیا بھر میں کامیابی پر اور بھارت بھارت کا اپنی فوج بھارت کی مودی کی ہے اور اور اس
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔