پہلے جھکے نہ اب جھکیں گے، ہماری شہادت کی آرزو زندگی سے زیادہ ہے: ترجمان پاک فوج
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان پہلے جھکا ہے نہ اب جھکے گا، ہماری شہادت کی آرزو زندگی سے زیادہ ہے۔
چائنہ میڈیا گروپ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بھارت کیساتھ کشیدگی، پاک چین تعلقات اور خطے کی صورتحال پر اپنا موقف پیش کیا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے چائنہ میڈیا گروپ کے ہر سوال کا مفصل اور حقائق پر مبنی جواب دیا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کا کہنا تھا کہ دنیا کے جتنے بھی ممالک ہیں سب کو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، جو بڑے ممالک ہیں ان کا ویژن بھی بڑا ہے، لوگ انسانیت کی ترقی کی جانب دیکھ رہے ہیں۔
صدر ولادیمیر پیوٹن سے دو گھنٹے طویل کال مکمل، روس اور یوکرین فوری جنگ بندی پر مذاکرات کا آغاز کریں گے: امریکی صدر کا اعلان
انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم نہ تو پہلے جھکی تھی اور نہ ہم اب جھکیں گے، پہلے بھی کہتا رہا ہوں اور اب بھی کہتا ہوں کہ ہماری شہادت کی آرزو زندگی سے زیادہ ہے، چاہے کسی نے نیلی، سفید یا خاکی وردی پہن رکھی ہے شہادت ہمارے لئے اعزاز ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین دنیا میں دو ذمہ دار ملک ہیں، پاکستان اور چین دونوں کی پہلی ترجیح لوگوں کی فلاح و بہبود ہے، لوگوں کی خوشحالی ہمیشہ امن و استحکام سے آتی ہے، پاکستان اور چین دونوں خطے میں امن و استحکام کیلئے کوشاں ہیں، اس کیلئے ہم دہشتگردی کی لعنت سے لڑ رہے ہیں، دہشتگردی کا مقصد ہی ترقی کو روکنا ہے۔
یقین ہے روس اور یوکرین سیز فائر کے لیے فوری بات چیت شروع کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ چین نے انتہائی کم عرصے میں اتنی بڑی آبادی کے ساتھ جو ترقی کی ہے اسے دنیا کو دیکھنا چاہئے، پاکستان کے عوام بھی یہی چاہتے ہیں کہ ہم ترقی اور استحکام کی جانب جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری پہلی ترجیح امن ہے، آج پاکستان کی گلیوں میں دیکھیں تو آپ کو فتح نہیں امن کی خوشی مناتے لوگ نظر آئیں گے، پاکستان کے لوگوں میں آپ کو انسانیت نظر آئے گی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ ہم عاجزی کرتے ہوئے اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں، ہم اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ شکر ادا کرتے ہیں کیونکہ ہم امن پسند ہیں، آپ دیکھیں گے کہ انشاء اللہ پاکستان تیزی سے ترقی کرے گا۔
6گھنٹے طویل اجلاس، 12 اضلاع کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کی منظوری , وقت بہت کم ہےعوام کیلئے بہت کچھ کرنا باقی ہے: وزیر اعلیٰ مریم نواز
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: ڈی جی ا ئی ایس پی ا ر پاکستان ا
پڑھیں:
ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟
سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔
یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔
تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔
مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں
انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔
تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔
ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔
تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر