Express News:
2026-07-24@08:25:17 GMT

امریکا کے اس شہر میں آپ بغیر اجازت ہیلز نہیں پہن سکتے

اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT

امریکا کی ریاست کیلیفورنیا کے خوبصورت ساحلی شہر Caramel-By-The-Sea میں ایک دلچسپ اور منفرد قانون موجود ہے؛ اگر آپ کے جوتے کی ہیلز دو انچ سے زیادہ اونچی ہوگی اور اس کا بیس ایک مربع انچ سے کم ہوگا، تو آپ کو اسے پہننے کے لیے شہر کی طرف سے اجازت نامہ حاصل کرنا ضروری ہے۔

یہ قانون 1963 میں نافذ کیا گیا تھا تاکہ شہر کی ناہموار اور پتھریلی گلیوں میں چلنے کے دوران ممکنہ پھسلن یا چوٹ کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔

شہر کی سڑکیں اکثر درختوں کی جڑوں کی وجہ سے اُبھری ہوئی ہیں جو اونچی ایڑی والے جوتے پہننے والوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ اس قانون کا مقصد شہر کو ممکنہ قانونی دعووں سے بچانا بھی تھا کیونکہ اگر کوئی شخص پھسل کر زخمی ہو جائے تو وہ شہر پر مقدمہ نہ کر سکے۔ 

تاہم اچھی خبر یہ ہے کہ یہ اجازت نامہ شہر کے سٹی ہال سے مفت میں حاصل کیا جا سکتا ہے۔ بہت سے سیاح اسے ایک یادگار یا سووینئر کے طور پر حاصل کرتے ہیں چاہے وہ اونچی ایڑی والے جوتے نہ بھی پہنیں۔

یہ اجازت نامہ حاصل کرنے کے لیے صرف ایک سادہ فارم بھرنا ہوتا ہے، جس میں آپ اپنی ذمہ داری قبول کرتے ہیں کہ اگر آپ کو چوٹ لگے تو آپ شہر پر مقدمہ نہیں کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا

تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔

غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔

سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔

ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔

ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔

تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • پی ٹی اے کی موبائل سمز سے متعلق اہم وارننگ
  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ