کوئی چالان نہیں، صرف گرفتاری، 5 نئے ٹریفک قوانین متعارف
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک)لاہور ٹریفک پولیس نے حال ہی میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر قابو پانے اور سڑکوں پر مہلک حادثات کی تعداد کو کم کرنے کے لیے سخت قوانین متعارف کرائے ہیں۔
عوام ہوجائیں خبردار، ٹریفک کی بڑی خلاف ورزیوں پر چالان جاری کرنے کا عمل بند ، اب قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو براہ راست گرفتار کیا جائے گا یا ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی، یہ اقدام عوام کو ٹریفک قوانین کے بارے میں سنجیدہ بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
حکام کے مطابق بہت سے ڈرائیور چالان کو نظر انداز کر کے قانون توڑتے رہتے ہیں، جس سے جانوں کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ اس لیے اب ٹریفک پولیس موقع پر ہی سخت قانونی کارروائی کرے گی۔
کن خلاف ورزیوں پر سزا ہوگی
ون وے کی خلاف ورزی:اب تک 536 افراد کو غلط سمت میں گاڑی چلانے پر گرفتار کیا جا چکا ہے،یہ خطرناک عمل نہ صرف حادثات کا باعث بنتا ہے بلکہ بڑے ٹریفک جام بھی پیدا کرتا ہے۔
لوڈر رکشوں پر حد سے زیادہ بوجھ: بہت سے رکشوں پر اتنا زیادہ بوجھ ہوتا ہے کہ ڈرائیور پیچھے دیکھنے سے قاصر ہوتا ہے۔ اس سے حادثات ہوتے ہیں اور شدید حفاظتی خطرات پیدا ہوتے ہیں۔
غیر رجسٹرڈ گاڑیاں: ان میں سے زیادہ تر دو پہیے والی گاڑیاں ہیں جو ریڑھیوں کے ساتھ منسلک ہوتی ہیں اور اکثر بغیر کسی نوٹس کے گھومتی رہتی ہیں۔ اب ان گاڑیوں کی سختی سے جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔
نابالغ ڈرائیونگ: حکام ایسے نئے قوانین بنا رہے ہیں جن کے تحت والدین کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ اگر ان کے نابالغ بچے گاڑی چلاتے پکڑے گئے تو والدین کو شریکِ جرم سمجھا جائے گا اور ان کے خلاف بھی قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔
لاپرواہ ڈرائیونگ: تیز رفتاری، بلاوجہ اوورٹیکنگ اور خطرناک ڈرائیونگ کے انداز کو اب ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ایک اور بڑا قدم یہ ہے کہ ہر خلاف ورزی کا ڈیجیٹل ریکارڈ تیار کیا جائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر کوئی قانون توڑتا ہے تو اس کا ثبوت آن لائن محفوظ رہے گا۔
اس کے علاوہ، ایک بار ایف آئی آر درج ہو جائے تو خلاف ورزی کرنے والا مستقبل میں پولیس یا کسی بھی سرکاری محکمے میں ملازمت حاصل نہیں کر سکے گا۔
مزیدپڑھیں:کرکٹر کے ساتھ جعلی تصاویر وائرل، پریتی زنٹا بھڑک اٹھیں
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔