آئی ٹی انڈسٹری کو شارٹ ٹرم نہیں لانگ ٹرم پالیسیاں چاہئیں، سافٹ ویئر ایسوسی ایشن
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
چیئرمین پاکستان سافٹ وئیر ہاؤسز ایسوسی ایشنز (پاشا) سجاد مصطفی نے کہا ہے کہ آئی ٹی انڈسٹری کو شارٹ ٹرم نہیں لانگ ٹرم پالیسیاں چاہئیں، آٰئی ٹی انڈسٹری میں کسی بھی شاک کے دور رس منفی نتائج ہوں گے۔
اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاشا اس ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے، اس بات کا احساس ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام میں چل رہے، ہماری ٹیکس پالیسی میں عدم تسلسل ہے، َحکومت ریموٹ ورکرز کی تعریف واضح کرے ٹیکس ختم کرنے کی نہیں بلکہ عدم تسلسل ختم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔
چیئرمین پاشا نے کہا کہ حکومت ٹیکس پالیسی کو طویل مدتی بنائے، ٹیکس پالیسیوں میں تسلسل نہ ہونے سے آئی ٹی کے شعبے میں سرمایہ کاری ختم ہوجائے گی، ایزآف ڈوئنگ بزنس کے لیے اسٹیٹ بینک سے گزارش ہے کہ بینکوں کے ادائیگی کے نظام کو جدید بنائے،
آئی ٹی انڈسٹری کی ہراسمنٹ کے خاتمے کے لئے اقدامات کیے جائیں، آئی ٹی انڈسٹری میں ایک ایک انڈسٹری ٹریلینز ڈالر کی ہوتی ہے، آئی ٹی انڈسٹری کو ہراساں نہ کیا جائے، جو بھی ٹیکس اسٹرکچر متعارف کروایا جائے وہ دس سال کے لیے لایا جائے۔
سجاد مصطفی نے کہا ہے کہ حکومت سے اپیل ہے کہ آئی ٹی انڈسٹری میں اداروں کو بغیر نوٹسز کے بند نہ کیا جائے، حکومت جدید ڈیجیٹل ورلڈ کے مطابق اپنے قوانین میں جدت لائے، آئی ٹی انڈسٹری کو شارٹ ٹرم نہیں لانگ ٹرم پالیسیاں چاہئیں، آٰئی ٹی انڈسٹری میں کسی بھی شاک کے دور رس منفی نتائج ہوں گے۔
انہوں ںے کہا کہ پاکستانی کمپنیوں میں کام کرنے والی کمپنیوں کو ٹیکس آسانیاں فراہم کریں، غیر ملکی کمپنیوں کے لئے ٹیکس کم مقامی کمپنیوں کے لئے زیادہ ہے، پاشا حکومت سے اضافی مراعات کا مطالبہ نہیں کررہی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: آئی ٹی انڈسٹری کو ٹی انڈسٹری میں نے کہا
پڑھیں:
پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں، جس کے بعد مجموعی رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے مطابق مئی کے دوران ملک بھر میں 3 ہزار 161 نئی کمپنیاں رجسٹر کی گئیں، جس کے بعد رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 2 لاکھ 97 ہزار 239 ہو گئی ہے۔ ایس ای سی پی کے اعداد و شمار کے مطابق نئی رجسٹر ہونے والی کمپنیوں میں سے 99.9 فیصد کی رجسٹریشن آن لائن طریقہ کار کے ذریعے مکمل کی گئی، جو کاروباری سرگرمیوں میں ڈیجیٹل سہولتوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کی عکاسی کرتی ہے۔ صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔
شعبہ وار جائزے کے مطابق سب سے زیادہ کمپنیاں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ای کامرس کے شعبے میں رجسٹر کی گئیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں 598 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ ٹریڈنگ سیکٹر میں 503، سروسز کے شعبے میں 404 اور رئیل اسٹیٹ و کنسٹرکشن کے شعبے میں 303 نئی کمپنیاں قائم کی گئیں۔ایس ای سی پی کے مطابق سیاحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی نمایاں سرگرمی دیکھنے میں آئی، جہاں 206 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن عمل میں لائی گئی۔ ادارے نے بتایا کہ مئی کے دوران 17 مختلف ممالک کے سرمایہ کاروں نے پاکستان میں کمپنیاں رجسٹر کروائیں۔ اعداد و شمار کے مطابق چین سے تعلق رکھنے والے 89 شیئر ہولڈرز نے مختلف کمپنیوں میں ڈائریکٹر شپ حاصل کی جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی کمپنیوں کا ادا شدہ سرمایہ 139.4 ملین روپے ریکارڈ کیا گیا۔