امریکہ میں پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ کی زیر صدارت امریکی تاجروں ، سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کی راؤنڈ ٹیبل
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
لاس اینجلس(نیوز ڈیسک) امریکہ میں سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ کے دورہ لاس اینجلس کے موقع پر پاکستان کے قونصل خانے کی جانب سے اعلیٰ سطحی بزنس راؤنڈٹیبل کا انعقاد کیا جس میں امریکی کاروباری شخصیات، سرمایہ کاروں اوربزنس ایگزیکٹیوز کو پاکستان میں تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع پر تفصیلی بات کے لئے مدعو کیا گیا۔ یہ راؤنڈ ٹیبل ایس آئی ایف سی ، اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل، فریم ورک کے تحت منعقد کی گئی۔
یہ اجلاس قونصل جنرل عاصم علی خان، ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ قونصلر قرۃالعین فاطمہ اور دیگر سینئر حکام کی کوششوں سے منعقد ہوا۔
اپنے کلیدی خطاب میں سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ نے ایس آئی ایف سی فریم ورک کے تحت حکومت کی جانب سے وضع کی جانے والی ادارہ جاتی اصلاحات اور پالیسی مراعات کے نتیجے میں پاکستان کے سرمایہ کاری منظرنامے میں آنے والی مثبت تبدیلیوں پر روشنی ڈالی۔انہوں نے ترجیحاتی شعبہ جات میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے حوالے سے سرمایہ کاروں کو دعوت دی کہ وہ پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے صنعتی انفراسٹرکچر، ، نوجوان افرادی قوت، اور مسابقتی منڈی تک رسائی سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے پاکستان کی معیشت کی بہتری اور عالمی سطح پر حکومت کی معاشی پالیسیوں کو سراہے جانے کے رجحان سے بھی شرکاء کو آگاہ کیا۔
قونصل جنرل عاصم علی خان نے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور بالخصوص کیلیفورنیا اور مغربی امریکہ میں کاروباری روابط کو فروغ دینے میں قونصل خانے کے عزم کو دہرایا۔ انہوں نے پاکستان میں پائیدار انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی سلوشنز اور ایگری-ٹیک کی بڑھتی ہوئی مانگ پر زور دیا جو امریکی جدت پر مبنی شراکت داریوں کے لیے وسیع تر مواقع فراہم کرتی ہے۔
سفیر پاکستان نے شرکاء کو سال 2025 میں منظور کیے جانے والے 28 تذویراتی منصوبوں اور کاروبار موافق فضا سے بھی آگاہ کیا۔
اجلاس کے شرکاء کو ایس آئی ایف سی فریم ورک کے تحت دی جانے والی مراعات جن میں اسپیشل اکنامک زونز میں سرمایہ کاری پر 10 سالہ ٹیکس چھوٹ، سامان کی ڈیوٹی فری درآمد، آئی ٹی برآمدات پر 100 فیصد ٹیکس کریڈٹ، ڈیجیٹل خدمات پرودہولڈنگ ٹیکس میں کمی، اور سرمایہ کاروں کے لیے تیزرفتار ویزا سہولت شامل ہیں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔
شرکاء کو کے تحت دی جانے والی مراعات سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی، جن میں خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری پر 10 سالہ ٹیکس چھوٹ، سرمایہ جاتی سامان کی ڈیوٹی فری درآمد، آئی ٹی برآمدات پر 100 فیصد ٹیکس کریڈٹ، ڈیجیٹل خدمات پر 0.
اس موقع پر پاکستان کے جدیداسپیشل اکنامک زونز جو سرمایہ کاروں کو پلگ اینڈ پلے انفراسٹرکچر اور ون ونڈو سہولیات فراہم کرتے ہیں سے بھی متعارف کرایا گیا۔ ان زونز میں سروسز سیکٹرآئی ٹی، لاجسٹکس اور ای کامرس شامل ہیں۔
بات چیت کے دوران سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان انٹرٹینمنٹ اور تخلیقی صنعتوں میں تعاون کی وسیع گنجائش پر بھی زور دیا۔
پاکستان کے سوورن ویلتھ فنڈ کے قیام پر بھی گفتگو ہوئی، جو ریاستی اداروں کے اثاثوں کو یکجا کرکے ایس آئی ایف کے تحت منظور شدہ منصوبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری کا ذریعہ بنے گا۔
راؤنڈٹیبل میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور ڈیجیٹل میڈیا کے دور میں دوطرفہ ثقافتی تعاون کو مضبوط بنانے پر بھی سنجیدگی سے غور کیا گیا۔ سفیر پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کا منفرد ثقافتی ورثہ، باصلاحیت فنکاروں کا بڑھتا ہوا حلقہ، اور تیزی سے ترقی کرتا ڈیجیٹل میڈیا انفرا سٹرکچر مشترکہ پروڈکشنز، کانٹینٹ لائسنسنگ اور ٹیلنٹ ایکسچینج کے لیے منفرد مواقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے امریکی فلم سازوں، اسٹوڈیوز، اور اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کو پاکستان کو ایک تخلیقی شراکت دار اور ابھرتی ہوئی پروڈکشن منزل کے طور پر دریافت کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی میڈیا اور تفریحی صنعت کی سافٹ پاور قوموں کے درمیان روابط استوار کرنے، باہمی فہم کو فروغ دینے، اور ثقافتی سفارتکاری کے ذریعے نئی معاشی راہیں کھولنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اختتامی کلمات میں سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ نے امریکی اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ وہ پاکستان کو ایک اسٹریٹجک سرمایہ کاری کی منزل اور مضبوط اور مستقبل کے لیے تیار سپلائی چینز کی تعمیر میں شراکت دار کے طور پر دیکھیں۔ انہوں نے امریکی سرمایہ کاروں کو مارکیٹ تک رسائی، ضابطہ جاتی معاونت، اور منصوبہ جاتی شراکت داری میں مدد کی فراہمی کے لیے سفارتخانے اور قونصل خانوں کے عزم کا اعادہ کیا۔
یہ راؤنڈٹیبل پاکستان کے “رائزنگ پاکستان” بیانیے کے تحت جاری سفارتی کوششوں کا تسلسل ہے اور اقتصادی سفارتکاری اور نجی شعبے کے تعاون کو فروغ دینے کے حالیہ اقدامات میں مزید پیش رفت کی علامت ہے۔
Post Views: 2
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ سرمایہ کاروں سرمایہ کاری ایس آئی ایف پاکستان کے انہوں نے شرکاء کو زور دیا کے لیے کے تحت
پڑھیں:
تھائی لینڈ میں غیر ملکیوں کی خفیہ کاروباری سرگرمیوں اور شیل کمپنیوں کے خلاف بڑا آپریشن
تھائی لینڈ کی حکومت نے مقامی ملکیتی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کاروبار کرنے والے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق ہزاروں کمپنیوں میں مقامی افراد کو محض کاغذی مالکان ظاہر کر کے غیر ملکیوں نے کاروباری پابندیوں سے بچنے کی کوشش کی۔ تازہ کارروائیوں کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاروں اور جائیداد مالکان میں تشویش بڑھ گئی ہے کہ ان کے اثاثے منجمد یا ضبط کیے جا سکتے ہیں۔
حکام کے مطابق جنوبی صوبے کرابی میں ایک کمپنی سرکاری ریکارڈ میں نیل سیلون (ناخنوں کی آرائش کے مرکز) کے طور پر رجسٹرڈ تھی، تاہم تحقیقات میں معلوم ہوا کہ مبینہ طور پر اسے ایک اسرائیلی خاتون بالغ مواد پر مبنی آن لائن کاروبار چلانے کے لیے استعمال کر رہی تھی، جو سبسکرپشن ویب سائٹ اونلی فینز کے ذریعے سرگرم تھا۔
یہ کمپنی تقریباً 500 ایسی کمپنیوں میں شامل تھی جنہیں ایک ہی اکاؤنٹنگ فرم نے رجسٹر کرایا تھا۔ ان کمپنیوں میں بیوٹی سیلونز سے لے کر بھنگ (کینابس) کی فارمز تک مختلف کاروبار شامل تھے۔
تھائی حکام کا کہنا ہے کہ ان تمام کمپنیوں کا تعلق غیر ملکی افراد سے تھا جنہوں نے قانون سے بچنے کے لیے مقامی تھائی شہریوں کو اکثریتی مالک ظاہر کیا، حالانکہ ان افراد کا کاروبار میں عملی کردار نہ ہونے کے برابر تھا۔
تھائی لینڈ کے فارن بزنس ایکٹ کے تحت غیر ملکی شہری عام طور پر کسی مقامی کمپنی میں 49 فیصد سے زیادہ حصص کے مالک نہیں بن سکتے۔ اس پابندی سے بچنے کے لیے بعض غیر ملکی کاروباری افراد مقامی شہریوں کو رقم دے کر ایسے دستاویزات تیار کراتے ہیں جن میں ظاہر کیا جاتا ہے کہ کمپنی کے کم از کم 51 فیصد حصص تھائی شہریوں کی ملکیت ہیں۔
برسوں تک اس طرزِ عمل کو نظر انداز کرنے کے بعد اب حکام نے سخت مؤقف اختیار کر لیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ مقامی شراکت دار کے طور پر درج افراد اپنی حقیقی سرمایہ کاری اور ملکیت کے شواہد پیش کریں۔
حکومت نے سیاحتی علاقوں میں وسیع پیمانے پر معائنے شروع کیے ہیں اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے مختلف سرکاری ڈیٹا بیسز کا تجزیہ کیا ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں تقریباً 50 ہزار غیر ملکی روابط رکھنے والی کمپنیوں کو مزید جانچ پڑتال کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق انہیں روزانہ بڑی تعداد میں ایسے غیر ملکی سرمایہ کاروں اور جائیداد مالکان کی جانب سے رابطے موصول ہو رہے ہیں جو خدشہ رکھتے ہیں کہ اگر وہ غیر قانونی نامزد مالکان (نومنی) کے نظام میں ملوث پائے گئے تو ان کے اثاثے منجمد یا ضبط کیے جا سکتے ہیں۔
قانونی فرم لائرز فار ایکسپیٹس تھائی لینڈ کے شعبۂ بین الاقوامی امور کے جنرل منیجر برائن ریمزڈن کے مطابق تمام متاثرہ افراد کو اپنی سرمایہ کاری ضائع ہونے اور فوجداری مقدمات کا سامنا کرنے کا خوف لاحق ہے۔
انہوں نے کہا کہ اکثر افراد یہ جواز پیش کرتے ہیں کہ انہیں معلوم تھا یہ طریقہ غیر قانونی ہے، لیکن ان کے وکلا نے انہیں یقین دلایا تھا کہ اس میں کوئی مسئلہ نہیں۔
ریمزڈن کے مطابق ان کی فرم کو روزانہ 100 سے زائد فون کالز موصول ہو رہی ہیں جن میں لوگ قانونی راستہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی کمپنی عملی کاروباری سرگرمیوں میں شامل نہیں تو یہ خود ایک خطرے کی علامت ہے۔
وزیراعظم بھی متحرکتھائی وزیر اعظم انوتن چارنویراکول بھی جعلی طور پر رجسٹرڈ کمپنیوں کے خلاف مہم میں پیش پیش ہیں۔
گزشتہ ماہ جنوبی تھائی لینڈ کے معروف سیاحتی مقامات کے دورے کے دوران انہوں نے اعلان کیا کہ غیر قانونی کاروباروں اور شیل کمپنیوں کے ذریعے سرگرم جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ جنوب مشرقی ایشیا میں سائبر فراڈ کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورکس کے تناظر میں اس معاملے کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب ایک ہی شخص سینکڑوں کمپنیوں میں حصص رکھتا ہو تو اس کا مقصد دراصل کمپنیوں کی خرید و فروخت اور غیر ملکیوں کو کاروبار کے لیے قانونی ڈھانچہ فراہم کرنا ہوتا ہے، جو قانون کی روح کے منافی ہے۔
سیاحتی جزائر خصوصی نگرانی میںتھائی وزارت تجارت کے مطابق گزشتہ ماہ کیے گئے آڈٹ میں معلوم ہوا کہ مشہور سیاحتی جزائر کوہ ساموئی اور کوہ پھانگان میں رجسٹرڈ 16 ہزار 800 قانونی اداروں میں سے تقریباً 70 فیصد میں غیر ملکیوں کی شراکت موجود ہے، تاہم وزارت نے واضح کیا کہ غیر ملکی روابط کا مطلب لازمی طور پر قانون شکنی نہیں۔
غیر ملکی مشتبہ افراد گرفتارگزشتہ ہفتے حکام نے اعلان کیا کہ صوبوں فوکٹ اور سورات تھانی میں جعلی رجسٹریشن کے ذریعے قائم کمپنیوں کی تحقیقات کے بعد 28 غیر ملکی مشتبہ افراد کے مقدمات استغاثہ کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔
اس سے قبل کوہ پھانگان میں حکام تقریباً 15 کروڑ بھات (45 لاکھ ڈالر) مالیت کی 30 اراضیوں کو ضبط کر چکے ہیں جبکہ غیر قانونی کمپنیوں سے تعلق رکھنے والے دو تھائی شہریوں کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔
مقامی کاروباری حلقوں کی شکایاتتھائی کاروباری برادری کے بعض حلقے طویل عرصے سے شکایت کرتے رہے ہیں کہ غیر ملکی سرمایہ کار ان کے لیے مسابقت مشکل بنا رہے ہیں۔
ایک معروف تھائی کاروباری شخصیت، جنہوں نے صرف اپنے عرف تھونگ سے شناخت ظاہر کرنے کی اجازت دی، کا کہنا تھا کہ بعض غیر ملکی سرمایہ کار ولاز خرید کر انہیں مختصر مدتی کرایے کی رہائش گاہوں میں تبدیل کر دیتے ہیں، جس کے بعد قیمتیں اس قدر بڑھ جاتی ہیں کہ مقامی افراد ان جائیدادوں تک رسائی نہیں رکھ پاتے۔
ان کے مطابق مکمل ملکیت غیر ملکیوں کے پاس چلے جانے سے مقامی آبادی معاشی طور پر پیچھے رہ جاتی ہے اور یہی اصل مسئلہ ہے۔
سرمایہ کاری کے ماحول پر سوالاتکریک ڈاؤن کے نتیجے میں یہ خدشات بھی پیدا ہوئے ہیں کہ بعض جائز غیر ملکی سرمایہ کار نادانستہ طور پر قانونی پیچیدگیوں کا شکار ہو سکتے ہیں، جس سے سرمایہ کاری کے لیے تھائی لینڈ کی ساکھ متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔
ملک میں کنڈومینیم ملکیت کے قوانین کے تحت کسی بھی رہائشی منصوبے کا کم از کم 51 فیصد حصہ تھائی شہریوں کے لیے مختص ہونا ضروری ہے، تاہم بنکاک، فوکٹ اور پٹایا جیسے علاقوں میں بعض اوقات پورے اپارٹمنٹ بلاکس غیر ملکی خریداروں کو فروخت کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔
آن لائن فورمز پر متعدد غیر ملکی افراد نے ایسے تجربات بیان کیے ہیں جن میں جائیداد خریدنے یا لیز پر لینے کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ متعلقہ یونٹ قانونی طور پر تھائی شہریوں کے لیے مختص تھا اور وہ اس کے حقیقی مالک نہیں بن سکتے تھے۔
پٹایا میں مقیم غیر ملکی سرمایہ کاری اور ٹیکس کے ماہر وکٹر وونگ کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کار اس وقت شدید احتیاط اور ذہنی دباؤ کی کیفیت میں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت قوانین کے نفاذ کو تو سخت کر رہی ہے لیکن ساتھ ہی قانونی سرمایہ کاری کے نئے اور واضح راستے فراہم نہیں کیے جا رہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب سرمایہ کار غیر قانونی شارٹ کٹس کے بجائے ایسے پائیدار اور قانونی ڈھانچوں کی تلاش میں ہیں جن کے ذریعے وہ اعتماد کے ساتھ تھائی لینڈ میں کاروبار جاری رکھ سکیں۔
تاہم بعض غیر ملکی رہائشی اس کریک ڈاؤن پر تنقید کو درست نہیں سمجھتے۔ برائن ریمزڈن کے مطابق اس صورتحال کا ذمہ دار تھائی لینڈ نہیں بلکہ وہ افراد ہیں جنہوں نے جانتے بوجھتے قوانین کی خلاف ورزی کی۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی نے غیر ملکیوں کو غیر قانونی طریقے اختیار کرنے پر مجبور نہیں کیا۔ جو لوگ قواعد و ضوابط کی پابندی نہیں کرتے، مسئلہ دراصل وہی ہیں۔
ان کے بقول یہ کریک ڈاؤن طویل مدت میں تھائی لینڈ کے لیے زیادہ محفوظ اور بہتر ثابت ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
تھائی لینڈ غیرملکی سرمایہ کاری