لاس اینجلس(نیوز ڈیسک) امریکہ میں سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ کے دورہ لاس اینجلس کے موقع پر پاکستان کے قونصل خانے کی جانب سے اعلیٰ سطحی بزنس راؤنڈٹیبل کا انعقاد کیا جس میں امریکی کاروباری شخصیات، سرمایہ کاروں اوربزنس ایگزیکٹیوز کو پاکستان میں تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع پر تفصیلی بات کے لئے مدعو کیا گیا۔ یہ راؤنڈ ٹیبل ایس آئی ایف سی ، اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل، فریم ورک کے تحت منعقد کی گئی۔
یہ اجلاس قونصل جنرل عاصم علی خان، ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ قونصلر قرۃالعین فاطمہ اور دیگر سینئر حکام کی کوششوں سے منعقد ہوا۔
اپنے کلیدی خطاب میں سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ نے ایس آئی ایف سی فریم ورک کے تحت حکومت کی جانب سے وضع کی جانے والی ادارہ جاتی اصلاحات اور پالیسی مراعات کے نتیجے میں پاکستان کے سرمایہ کاری منظرنامے میں آنے والی مثبت تبدیلیوں پر روشنی ڈالی۔انہوں نے ترجیحاتی شعبہ جات میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے حوالے سے سرمایہ کاروں کو دعوت دی کہ وہ پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے صنعتی انفراسٹرکچر، ، نوجوان افرادی قوت، اور مسابقتی منڈی تک رسائی سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے پاکستان کی معیشت کی بہتری اور عالمی سطح پر حکومت کی معاشی پالیسیوں کو سراہے جانے کے رجحان سے بھی شرکاء کو آگاہ کیا۔
قونصل جنرل عاصم علی خان نے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور بالخصوص کیلیفورنیا اور مغربی امریکہ میں کاروباری روابط کو فروغ دینے میں قونصل خانے کے عزم کو دہرایا۔ انہوں نے پاکستان میں پائیدار انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی سلوشنز اور ایگری-ٹیک کی بڑھتی ہوئی مانگ پر زور دیا جو امریکی جدت پر مبنی شراکت داریوں کے لیے وسیع تر مواقع فراہم کرتی ہے۔
سفیر پاکستان نے شرکاء کو سال 2025 میں منظور کیے جانے والے 28 تذویراتی منصوبوں اور کاروبار موافق فضا سے بھی آگاہ کیا۔
اجلاس کے شرکاء کو ایس آئی ایف سی فریم ورک کے تحت دی جانے والی مراعات جن میں اسپیشل اکنامک زونز میں سرمایہ کاری پر 10 سالہ ٹیکس چھوٹ، سامان کی ڈیوٹی فری درآمد، آئی ٹی برآمدات پر 100 فیصد ٹیکس کریڈٹ، ڈیجیٹل خدمات پرودہولڈنگ ٹیکس میں کمی، اور سرمایہ کاروں کے لیے تیزرفتار ویزا سہولت شامل ہیں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔

شرکاء کو کے تحت دی جانے والی مراعات سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی، جن میں خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری پر 10 سالہ ٹیکس چھوٹ، سرمایہ جاتی سامان کی ڈیوٹی فری درآمد، آئی ٹی برآمدات پر 100 فیصد ٹیکس کریڈٹ، ڈیجیٹل خدمات پر 0.

25 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی، اور سرمایہ کاروں کے لیے تیزرفتار ویزا سہولت شامل ہیں۔

اس موقع پر پاکستان کے جدیداسپیشل اکنامک زونز جو سرمایہ کاروں کو پلگ اینڈ پلے انفراسٹرکچر اور ون ونڈو سہولیات فراہم کرتے ہیں سے بھی متعارف کرایا گیا۔ ان زونز میں سروسز سیکٹرآئی ٹی، لاجسٹکس اور ای کامرس شامل ہیں۔
بات چیت کے دوران سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان انٹرٹینمنٹ اور تخلیقی صنعتوں میں تعاون کی وسیع گنجائش پر بھی زور دیا۔
پاکستان کے سوورن ویلتھ فنڈ کے قیام پر بھی گفتگو ہوئی، جو ریاستی اداروں کے اثاثوں کو یکجا کرکے ایس آئی ایف کے تحت منظور شدہ منصوبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری کا ذریعہ بنے گا۔
راؤنڈٹیبل میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور ڈیجیٹل میڈیا کے دور میں دوطرفہ ثقافتی تعاون کو مضبوط بنانے پر بھی سنجیدگی سے غور کیا گیا۔ سفیر پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کا منفرد ثقافتی ورثہ، باصلاحیت فنکاروں کا بڑھتا ہوا حلقہ، اور تیزی سے ترقی کرتا ڈیجیٹل میڈیا انفرا سٹرکچر مشترکہ پروڈکشنز، کانٹینٹ لائسنسنگ اور ٹیلنٹ ایکسچینج کے لیے منفرد مواقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے امریکی فلم سازوں، اسٹوڈیوز، اور اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کو پاکستان کو ایک تخلیقی شراکت دار اور ابھرتی ہوئی پروڈکشن منزل کے طور پر دریافت کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی میڈیا اور تفریحی صنعت کی سافٹ پاور قوموں کے درمیان روابط استوار کرنے، باہمی فہم کو فروغ دینے، اور ثقافتی سفارتکاری کے ذریعے نئی معاشی راہیں کھولنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اختتامی کلمات میں سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ نے امریکی اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ وہ پاکستان کو ایک اسٹریٹجک سرمایہ کاری کی منزل اور مضبوط اور مستقبل کے لیے تیار سپلائی چینز کی تعمیر میں شراکت دار کے طور پر دیکھیں۔ انہوں نے امریکی سرمایہ کاروں کو مارکیٹ تک رسائی، ضابطہ جاتی معاونت، اور منصوبہ جاتی شراکت داری میں مدد کی فراہمی کے لیے سفارتخانے اور قونصل خانوں کے عزم کا اعادہ کیا۔

یہ راؤنڈٹیبل پاکستان کے “رائزنگ پاکستان” بیانیے کے تحت جاری سفارتی کوششوں کا تسلسل ہے اور اقتصادی سفارتکاری اور نجی شعبے کے تعاون کو فروغ دینے کے حالیہ اقدامات میں مزید پیش رفت کی علامت ہے۔

Post Views: 2

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ سرمایہ کاروں سرمایہ کاری ایس آئی ایف پاکستان کے انہوں نے شرکاء کو زور دیا کے لیے کے تحت

پڑھیں:

ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے

واشنگٹن:

مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔

یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔

ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ