اسلام آباد؍ باکو (خبر نگار خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے علاقائی اتحاد کا مطالبہ کرتے ہوئے پاکستان اور ایران کے خلاف بھارتی و اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کی ہے، ترقی کے عمل میں اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او)کے رکن ممالک کے ساتھ  اجتماعی کاوشوں میں شرکت پر فخر ہے، علاقائی تعاون اور مشترکہ خوشحالی کیلئے ٹیکنالوجی کی ترقی ناگزیر ہے  ، بڑھتے ہوئے باہمی انحصار اور علم کی وسعت کا نیا دور شروع ہو رہا ہے، ای سی او  کے رکن ممالک کو موسمیاتی تبدیلیوں کے گہرے اثرات کا سامنا ہے، پگھلتے گلیشیئرز ، شدید گرمی، تباہ کن سیلاب  سمیت دیگر چیلنجز درپیش ہیں، ماحولیاتی مسائل سے لاکھوں لوگوں کا غذائی تحفظ اور روزگار خطرے میں ہے، پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے انتہائی متاثرہ 10 ممالک میں شامل ہے، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے پاکستان نے پالیسی وضع کی ہے، بحالی اور تعمیرنو کے چار نکاتی منصوبہ پر توجہ مرکوز ہے، موسمیاتی مسائل اجتماعی اقدامات کے متقاضی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز خانکندی میں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کانفرنس میں شریک رہنمائوں اور ای سی او کے سیکرٹری جنرل کا خیرمقدم کرتے ہوئے  آذربائیجان کیصدر الہام علییوف کو 17ویں ای سی او سربراہ  اجلاس کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد پیش  کی اورای سی او ممالک میں تعاون کے فروغ ، تنظیم کی انتھک کاوشوں پر خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ بدلتی ہوئی حالیہ عالمی صورتحال میں ٹیکنالوجیکل تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں جس سے باہمی انحصار فروغ پارہا ہے اور بڑھتے ہوئی عالمی روابط، علاقائی  تعاون مسائل کے حل سمیت اقتصادی تقسیم کے خاتمہ او ر مشترکہ خوشحالی کے اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہورہے ہیں۔ وزیراعظم  نے کہا کہ اس تناظر میں اقتصادی تعاون تنظیم ہماری توقعات کی عکاسی کرتی  ہے، پاکستان ای سی او کے برادر ممالک کے قابل فخرشراکت دار کے طور پر مشترکہ اہداف کے حصول کیلئے پرعزم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 17ویں ای سی او سربراہی اجلاس کی خصوصی توجہ پائیدار اور ماحولیاتی لچک  پر مشتمل مستقبل  پر ہے، یہ دونوں عوامل  بروقت  اور بھرپور توجہ کے حامل اور اہم ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے دیگرممالک کی طرح ای سی اوکے رکن ممالک ماحولیاتی  تبدیلی کے اثرات سے متاثر ہورہے ہیں جن میں گلیشیئرز کا پگھلنا بھی شامل ہے جو درجہ حرارت میں اضافہ کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح  سیلاب میں اضافہ اور زرعی پیداوار میں کمی کے مسائل بھی  درپیش ہیں، یہ مسائل غذائی تحفظ کے حوالے سے کروڑوں افراد کیلئے غذائی تحفظ کے خطرات پیدا کرتے رہے ہیں۔  انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے بھی پاکستان کے ایک ضلع سوات میں سیلاب کی وجہ سے کئی قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوگئیں۔  انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ماحولیاتی مسائل میں کمی کے حوالہ سے کردا ر ادا کرتے ہوئے ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق متعدد پالیسی اقدامات کئے ہیں اور’’فورایف‘‘ منصوبہ پر تیزی سے کام کیا جارہا ہے جس کے تحت ماحولیاتی لچک ،بحالی، ریکوری  اور تعمیرنو پرخصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف  نے کہا کہ اس ماڈل کی کامیابی ہم سب  کے لئے قابل قدر رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ  اس حوالے سے پاکستان کاربن کے کم  اخراج کی راہداریوں، ای سی او پر مشتمل کاربن کے خاتمے کے پلیٹ فارم اور علاقائی سطح پر قدرتی آفات کے مقابلہ کے لچکدار نظام کے خصوصی فریم ورک کی تجویز پیش کرتا ہے تاکہ کلائیمیٹ فنانس کے قیام کے ساتھ ساتھ علاقائی سطح پر کلین انرجی کوریڈور اور ایکو ٹورازم کو فروغ دیا جاسکے تاکہ پائیدار اقتصادی ترقی کے اہداف کے حصول کے ساتھ ساتھ بالخصوص نوجوانوں اورخواتین کیلئے گرین روزگارکے مواقع پیدا کئے جاسکیں۔  عدم استحکام کی قوتیں اپنے جیو پولیٹیکل  ایجنڈا کے تحت ہمارے خطے کو غیرمستحکم کررہی ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے برادر ملک ایران  اور دیگر ممالک پر غیر قانونی اور غیراخلاقی اسرائیلی حملہ اس خطرناک رجحان کی حالیہ عکاسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان  ایران کے خلاف اسرائیل کی جارحیت کے اس اقدام کی پرزور شدید مذمت کرتا ہے۔پاکستان کے خلاف بھارت نے بلا اشتعال  اور کھلی جارحیت کی اور غیرقانونی بھارتی زیر تسلط جموں وکشمیر میں  ہونے والے واقعہ کو اس کی بنیاد قرارد یا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا یہ اقدام علاقائی امن کوغیرمستحکم کرنے کے مترادف  ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہماری بہادر مسلح افواج نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں کردار کو دیکھا ہے، انہوں نے کہا کہ اس موقع پر میں پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے پر برادر ای سی او رکن ممالک سے اظہار تشکر کرتا ہوں۔ اسرائیل نے غزہ کے عوام کیلئے  اکلوتی لائف لائن کو بھی کاٹ دیا ہے اور غزہ کے لوگوں کو شدید غذائی مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیابھر میں معصوم لوگوں کے خلاف  اسی طرح کے اقدامات  کی شدید مذمت کرتا ہے، چاہے وہ غزہ یا غیر قانونی مقبوضہ کشمیر اور ایران کے علاوہ کہیں بھی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرات کو کم کرنے کی ضرورت ہے، اب ہم پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی بھارتی جارحیت کا مشاہدہ کر رہے ہیں، بھارت کا یہ اقدام غیر قانونی ہے جو ورلڈ بینک کی سربراہی میں ہونے والے عالمی معاہدہ کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔  بھارت کو کسی قیمت پر اس طرح کی جارحیت کی اجازت نہیں دینگے۔ عالمی ثالثی عدالت نے بھی اپنی ایک حالیہ رولنگ میں اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ بھارتی اقدام مکمل طور پر ناقابل قبول ہیں اور پاکستان ان کو مسترد کرتا ہے۔ انہوں نے بھارت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی 240 ملین افراد  کیلئے لائف لائن ہے، بھارت کو اس طرح کے کسی بھی خطرناک اقدام کی کبھی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا یہ اقدام پاکستانی عوام کے خلاف کھلم کھلا جارحیت پر مبنی ہے۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ تجارت اور سرمایہ کاری کا فروغ علاقائی روابط کے فروغ کے ہمارے مشترکہ مقاصد کی کامیابی کی کنجی ہے۔  وزیراعظم نے کہا کہ ای سی او ٹرانسپورٹ کوریڈور ہماری انرجی سکیورٹی کے تحفظ، علاقائی سیاحت کے فروغ، اقتصادی ترقی اور پیداوار میں اضافہ میں مدد دے گا۔ انہوں نے کہا کہ ای سی او وژن 2025 پر 13ویں ای سی او سمٹ اسلام آباد میں اتفاق کیا گیا تھا جس میں ای سی او ممالک کی تجارت کا فروغ بنیادی نوعیت کا حامل تھا۔ انہوں نے تاسف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس پر ابھی تک عملدرآمد نہیں کیا جا سکا۔ وزیراعظم نے کہا کہ قدیم تاریخی سلک روٹ سے عظیم ورثہ کے حامل ای سی او ممالک کو بہتر مستقبل کیلئے استفادہ کرنا چاہئے۔ انہوں نے 2027 میں لاہور میں عوامی رابطوں اور سیاحت کے حوالہ سے کانفرنس منعقد کرنے پر کانفرنس کے شرکاء  سے اظہار تشکر کرتے ہوئے یقین دلایا کہ لاہور پاکستان کا ثقافتی مرکز ہے۔ انہوں نے شرکاء کو پاکستان کے دورہ اور لاہور سمٹ میں شرکت کی دعوت بھی دی۔ وزیراعظم نے سال 2028 اور 2029 کیلئے ای سی او میری اور کراکول کو ای سی او ٹورازم کیپٹل انتخاب پر ترکمانستان اور کرغزستان کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ ای سی او رکن ممالک جغرافیائی اور ثقافتی ورثہ کی عظیم تاریخ کے حامل ہیں، ہمارے پاس بے پناہ وسائل موجود ہیں اور ہمارے 566 ملین عوام کی توقعات بھی ای سی او سے جڑی ہیں جو تنظیم کو علاقائی تعاون کا ایک اہم پلیٹ فارم سمجھتے ہیں۔ حوالہ سے پاکستان ازبکستان کی تعاون میں وسعت دینے کی قرارداد کی حمایت کرتا ہے۔   وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کا پانی روکنے کا بھارتی اقدام جنگ کے مترادف ہوگا۔  بھارت کا پانی کو ہتھیار بنانا خطرناک ہے، کسی قیمت پر اس طرح کی جارحیت کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ آذر بائیجان میں اقتصادی تعاون تنظیم کے 17 ویں سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پانی کروڑوں پاکستانیوں کی لائف لائن ہے، پاکستان کا پانی روکنے کا بھارتی اقدام جنگ کے مترادف ہوگا،   پاک فوج، جرات، پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ اشتعال انگیزی کاجواب دیا۔  بھارت نے پاکستان پر حملہ کرکے خطے کے امن کو خطرے میں ڈالا۔  غزہ کو تباہی کا سامنا ہے، ایسا لگتا ہے جیسے غزہ میں انسانیت کا وجود ہی نہیں، قحط سالی کی صورتحال، فاقہ کشی اور امدادی کارکنوں پر اسرائیلی حملے جاری ہیں، پاکستان دنیا میں کہیں بھی بے گناہ لوگوں پرظلم کرنے والوں کے خلاف کھڑا ہے۔ غزہ ہو یا مقبوضہ کشمیر مظلوم عوام کیساتھ ہیں  پگھلتے گلیشیئرز، شدید گرمی، سیلاب اوردیگر چیلنجز کا سامنا ہے تاہم پاکستان نے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے پالیسی وضع کی ہے۔  شہباز شریف نے باکو کے دورے کے دوران آذربائیجان کے صدر الہام علیوف سے ملاقات کی جس میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنائے اور باہمی تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا۔ وزیراعظم نے اجلاس کی شاندار میزبانی پر صدر علیوف کو مبارکباد دی اور شہباز شریف نے بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے موقع پر پاکستان کی حمایت کرنے پر آذربائیجان کے صدر اور عوام کا خصوصی شکریہ ادا کیا  ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان جاری سرمایہ کاری کے منصوبوں پر اطمینان کا اظہار کیا گیا جبکہ تجارت سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کے شعبوں میں روابط کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا گیا دونوں رہنماوں نے اقتصادی شراکت داری کو وسعت دینے اور مشترکہ سرمایہ کاری کیلئے نئے مواقع تلاش کرنے کے عزم کو دہرایا وزیراعظم شہباز شریف نے صدر الہام علیوف کو جلد پاکستان کا دورہ کرنے کی دوبارہ دعوت بھی دی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کی امید ظاہر کی گئی شہباز شریف  ترکیہ کے صدر طیب اردگان سے بھی ملے باہمی تعلقات مزید بڑھانے پر اتفاق کیا گیا اعلامیہ کے مطابق دونوں نے تجارت، دفاع، توانائی، علاقائی روابط سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط کرنے کی اہمیت پر زور دیا  وزیراعظم نے مشترکہ اہداف  آگے بڑھانے کیلئے ترکیہ کیساتھ عزم کا اعادہ کیا۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے آذربائیجان کے شہر خانکیندی میں 17ویں ای سی او سربراہی اجلاس کے موقع پر ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان سے ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے مابین تمام شعبوں میں جاری دوطرفہ تعاون کا جائزہ لیا اور پاک ایران تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اپنی گزشتہ ملاقات کے دوران کیے گئے فیصلوں پر ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔صدر پیزشکیان نے حالیہ بحران کے دوران عالمی فورمز سمیت ایران کے لیے پاکستان کی مضبوط سفارتی حمایت کو سراہا اور تنازع کو کم کرنے میں پاکستان کے اہم کردار پر شکریہ ادا کیا۔وزیراعظم نے کہا ہے کہ برادر ملک ایران پر بلاجواز، غیرقانونی اور بلاضرورت اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہیں، بھارت نے پاکستان پر حملہ کرکے امن کو خطرے میں ڈالا،پاک فوج نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا۔اسرائیلی جارحیت میں ہونے والی اموات کی شدید مذمت کرتے ہیں وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کی جانب سے غیرقانونی طور پر زیر قبضہ کشمیر میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے بعد پاکستان کے خلاف اشتعال انگیزی اور دشمنی پر اقدام خطے کا امن تہہ و بالا کرنے کی ایک اور کوشش تھی، پاک فوج نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا۔وزیراعظم نے بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستان سے اظہار یکجہتی کرنے پر ای سی او ممالک سے اظہار تشکر کرتے ہوئے مزید کہا کہ بدقسمتی سے دنیا غزہ میں انسانوں کی پیدا کردہ بے مثال تباہی کا مشاہدہ کررہی ہے، ایک ایسا خطہ جو دائمی اذیت کی انتہا کو پہنچ چکا ہے،  مقبوضہ کشمیر  میں ایک بدقسمت  واقعے کے بعد بھارت نے غیر ذمے داری کا مظاہر کیا۔ بھارتی اقدامات    کامقصدعلاقائی امن کو  نقصان  پہنچانا تھا۔ بھارتی جارحیت کے بعد ای سی او ملکوں کی جانب سے پاکستان کے ساتھ  یکجہتی پر مشکور ہیں۔ بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی  ناقابل قبول ہے۔  پانی پاکستان کے 24کروڑ عوام کے لیے  لائف لائن ہے۔اقتصادی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ تجارت اور سرمایہ کاری کا فروغ علاقائی رابطوں کو مضبوط بنانیکے لیے اہم ہے۔ ای سی او  ٹرانسپورٹ کوریڈورز کا آغازخوش آئند ہے۔  شہباز شریف نے کہا کہ ای سی او  خاندان  پائیدار تعلقات کی مضبوط بنیاد ہے۔ ہمارے پاس قیمتی وسائل ہیں۔ ہمیں ای سی او کو علاقائی انضمام کے ایک قابل اعتماد ذریعے کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ پاکستان ازبکستان کی  تعاون کے سٹریٹیجک اہداف 2035 کی تجویز کی حمایت کرتا ہے۔ آئیے ہم عہد کریں کہ  علاقائی مسائل کے باوجود اپنی یکجہتی اور تعاون کو بڑھائیں ۔ عالمی چیلنجز کو قبول کریں گے۔ اپنی اجتماعی توانائیوں کو  مستقبل کی جانب موڑیں گے  کیوں کہ اجتماعی توانائی لوگوں کے لیے امن، ترقی اور خوشحالی کی زندگی کی ضمانت دیتا ہے۔وزیراعظم شہبازشریف نے ازبکستان کے صدر سے ملاقات کی۔ دو طرفہ اور کثیرالجہتی شعبوں میں جاری مضبوط تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اعلامیہ کے مطابق تجارت، سرمایہ کاری، باہمی روابط، علاقائی سلامتی، ثقافت، عوامی تبادلوں  توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ علاقائی روابط کے منصوبوں خصوصا ٹرانس افغان ریلوے منصوبے کی اہمیت پر زور دیا۔ معاہدوں کو حتمی شکل دینے کے لئے سینئر وزراء کے تاشقند اور اسلام آباد دوروں پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے دیرینہ برادرانہ تعاون کو مزید گہرااورمتنوع علاقائی وعالمی بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے مسائل پر بھی اور ازبک صدر کا دو طرفہ ثقافتی تبادلہ خیال کیا۔ تہذیبی اور تاریخی تعلقات پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی اور علاقائی و عالمی مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم شہبا زشریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور آذربائیجان نے دو ارب ڈالر سرمایہ کاری کے معاہدے پر دستخط کئے جس پر صدر الہام علیوف کے مشکور ہیں آذربائیجان سرمایہ کاری کریگا آذربائیجان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا صدر الہام علیوف سے ملاقات نہایت بہترین اور نتیجہ خیز رہی پاکستان میں سرمایہ کاری پر صدر الہام علیوف کے مشکور ہیں اور اس میں مزید اضافہ کریں گے اعلامیہ کے مطابق وزیر خارجہ اسحاق ڈار او رآذر بائیجان کے وزیر معیشت میکائیل جباروف نے معاہدے پر دستخط کئے وزیراعظم شہبا زشریف بھی اس موقع پر وفد کے ہمراہ موجود تھے حتمی و مفصل معاہدے پر آذربائیجان کے صدر کے دورہ پاکستان کے دوران دستخط کئے جائیں گے۔دریں اثناء شہباز شریف وطن واپسی کیلئے باکو سے اسلام آباد روانہ ہو گئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: اقتصادی تعاون تنظیم وزیراعظم نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں صدر الہام علیوف انہوں نے کہا کہ کہا کہ ای سی او سی او ممالک بھارتی جارحیت شہباز شریف نے اتفاق کیا گیا بھارتی اقدام پر اتفاق کیا کی شدید مذمت کہا کہ بھارت کا اظہار کیا نے کہا کہ اس سرمایہ کاری مزید کہا کہ کا سامنا ہے پاکستان کا کہ پاکستان پاکستان کے سے ملاقات معاہدے پر کرتے ہوئے لائف لائن رکن ممالک جارحیت کی سے اظہار ایران کے بھارت نے ممالک کے بھارت کا تعاون کو کے دوران کرتا ہے کرنے کی کو مزید کا پانی کے ساتھ کے خلاف ہیں اور کے صدر کے لیے امن کو اور ای

پڑھیں:

وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار

سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔

بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند

متعلقہ مضامین

  • پاکستان اور آذربائیجان نے دیرینہ دوستی مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کردیا
  • چینی وزیر خارجہ سے ملاقات، علاقائی امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنے پر اسحاق ڈار کا اظہارِ تشکر
  • پاکستان کے زرمبادلہ میں اضافے کے لیے سرمایہ کاری ناگزیر، قونصلیٹ ہر ممکن تعاون کرے گا: قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی
  • اسحاق ڈار اور چینی وزیر خارجہ وانگ ای کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال
  • ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار کا علاقائی امن اور تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ
  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کا آغاز، اسحاق ڈار کی شرکت
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار