جماعت اسلامی پختونخوا کا ہوٹلز مسماری کیخلاف احتجاج کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لوئر دیر(جسارت نیوز )جماعت اسلامی صوبہ خیبر پختونخوا شمالی کے امیر اور سابق صوبائی وزیر عنایت اللہ خان نے تجاوزات کی آڑ میں غریبوں کے کاروبار کی تباہی اور تجاوزات کے نام جاری آپریشن پر شدید غم وغصے کا اظہا رکرتے ہوئے غریبوں کا کاروبار بند کرنے کے خلاف بھرپور احتجاج کرنے کااعلان کردیا جبکہ ہو ٹلز اور ریسٹورنٹس بند ہونے سے سیاحت کے فروغ بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے ۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہناتھاکہ سانحہ سوات کے بعد صوبائی حکومت کی ہدایات پر ضلعی انتظامیہ نے دریائے پنجکوڑہ کے کنارے قائم کاروباری مراکز کے خلاف کارروائیاں شروع کر دی ہیں، جس کے نتیجے میں غریب اور محنت کش طبقہ بری طرح متاثر ہو رہا ہے اور کئی ہوٹلز کو سیل کردیاہے جس کے مزدور فاقوں کے شکار ہوگئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ تجاوزات کی آڑ میں غریبوں کے روزگار کو ختم کرنا انھیں خود کشیوں پر مجبور کرنے کی مترادف ہے ۔عنایت اللہ خان نے کہاکہ عجیب بات ہے کہ این او سی جاری کرنا بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کاکام ہے تاہم متعلقہ محکمے غیر ضروری تاخیری حربے استعمال کررہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فی الفور کاروبار کوبحال کیا جائے ،جماعت اسلامی این او سیز حاصل کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی ۔انھوں نے کہاکہ سانحہ سوات کو چھپانے اور صوبائی حکومت اپنی ذمے داریاں نہ نبھانے کا نزلہ غریب عوام پر ڈال رہی ہے جوکہ سراسر ظلم اور زیادتی ہے، اس ظلم اور زیادتی کرنے پر جماعت اسلامی خاموش نہیں بیٹھے گی ۔عنایت اللہ خان نے کہاکہ یہاں کے عوام پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار ہیںجبکہ صوبائی حکومت ہوٹلز اور ریسٹورنٹس کو مسمار کرکے معاشی قتل کررہے ہیں ،انھوں نے مطالبہ کیا کہ انتظامیہ فوری طور پر سیل شدہ ہوٹلز اور ریسٹورنٹس کو کھولنے کے احکامات جاری کرے بصورت دیگر احتجاج اور مزاحمت کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں ہوگا ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔