امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم نے مخصوص نشستوں کو پی ٹی آئی کا حق قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم نے مخصوص نشستوں کو پی ٹی آئی کا حق قرار دیدیا WhatsAppFacebookTwitter 0 29 June, 2025 سب نیوز
لاہور(سب نیوز) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مخصوص نشستوں کو پاکستان تحریک انصاف کا حق قرار دیدیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کا حق تھا، ایک اصولی سیاست اور دوسری وصولی سیاست ہے، مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ افسوسناک ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پی ٹی آئی کی مخصوص نشستوں کی بندر بانٹ کی گئی ہے، اصولی سیاست والی جماعتوں کو مخصوص نشستیں لینے سے انکار کرنا چاہیے۔انہں نے کہا کہ کراچی میں ہماری میئرشپ پر ڈاکہ ڈالا گیا، عام انتخابات میں بھی ہماری جیتی ہوئی سیٹیں ہمیں نہیں دی گئیں، میں چند ووٹوں سے اپنی سیٹ ہارا تھا لیکن مجھے جتوا دیا گیا، یہ اقتدار کی میوزیکل چیئر ہے اس میں اقدار کہاں ہے؟۔گزشتہ روز انہوں نے کہا تھا کہ مخصوص نشستوں پر آئینی بینچ کا فیصلہ افسوسناک اور ہائبرڈ نظام کو مزید مضبوط کرنے والا ہے، اس فیصلے سے عدالتی نظام کی ساکھ پر بڑا سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپنجاب، ہنگامی مون سون پلان پر عمل درآمد شروع، ایمرجنسی آپریشن سینٹرز قائم پنجاب، ہنگامی مون سون پلان پر عمل درآمد شروع، ایمرجنسی آپریشن سینٹرز قائم زیارت میں 3خواتین ڈیم میں ڈوب گئیں، 2ریسکیو، ایک لاپتہ وفاقی حکومت نے 285 اشیا پر دوبارہ ڈیوٹیز عائد کرنیکی منظوری دیدی بھارتی کالم نگارنے پہلگام حملے سے آپریشن سندور تک کی مودی کی ناکامیوں کو آشکار کر دیا بھارت میں دہلی یونیورسٹی کی انتظامیہ کا تعلیمی نصاب سے پاکستان، اسلام اور چین جیسے مضامین کو نکالنے کا فیصلہ گھوٹکی کے نواحی علاقے کا نوجوان جوڑا پراسرار طور پر بھارت میں ہلاک، لاشیں بارڈر پار راجستھان سے برآمدCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: مخصوص نشستوں حافظ نعیم پی ٹی آئی
پڑھیں:
بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین آج بروز جمعہ کو اپنی آئینی مدت مکمل ہونے سے قبل ہی مستعفی ہو جائیں گے۔ ان کے استعفے کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب معزول وزیراعظم شیخ حسینہ نے عدالت سے سزا ملنے کے باوجود دسمبر میں وطن واپس آ کر خود کو قانون کے حوالے کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے ملک میں سیاسی کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین جمعہ کو اپنی 5 سالہ آئینی مدت مکمل ہونے سے قبل ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔ ان کے ترجمان نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ صدر اپنا تحریری استعفیٰ پارلیمنٹ کے اسپیکر کو پیش کریں گے، جس کے بعد وہ فوری طور پر مؤثر ہو جائے گا۔
صدر کے استعفے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب معزول وزیراعظم شیخ حسینہ نے جلاوطنی ختم کرکے رواں سال دسمبر میں بنگلہ دیش واپس آنے اور عدالت کے سامنے خود کو پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔
محمد شہاب الدین کو شیخ حسینہ کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے۔ ان کے مستعفی ہونے کے بعد شیخ حسینہ کے پاس ریاست کے اعلیٰ ترین عہدوں پر کوئی اہم سیاسی اتحادی باقی نہیں رہے گا۔
شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ پر 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے بعد پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس تحریک کے نتیجے میں ان کی حکومت کا خاتمہ ہوا، جبکہ جماعت کے متعدد رہنما اور کارکن یا تو گرفتار ہو چکے ہیں یا روپوش ہیں۔
استعفے کی وجہ کیا ہے؟صدر کے ترجمان نے استعفے کی کوئی باضابطہ وجہ نہیں بتائی، تاہم معاملے سے باخبر 3 ذرائع کے مطابق 11 جماعتی اپوزیشن اتحاد کی طرف سے صدر سے مستعفی ہونے کے مطالبے کے بعد حکومت نے محمد شہاب الدین پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔
آئینی طریقہ کارصدر کے پریس سیکریٹری سروار عالم کے مطابق آئین کے تحت صدر کا استعفیٰ اسپیکر کو دستخط شدہ خط موصول ہونے کے بعد مؤثر ہو جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسپیکر حافظ الدین احمد کے تھائی لینڈ سے وطن واپس پہنچتے ہی صدر استعفیٰ پیش کریں گے۔
آئین کے مطابق صدر کے مستعفی ہونے کے بعد نئے صدر کے انتخاب تک پارلیمنٹ کے اسپیکر قائم مقام صدر کے فرائض انجام دیں گے۔
شیخ حسینہ کی واپسی سے سیاسی کشیدگیشیخ حسینہ نے حال ہی میں رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اور عوامی لیگ کی سینئر قیادت دسمبر کے آس پاس وطن واپس آ کر عدالت کے سامنے خود کو پیش کریں گے۔
گزشتہ نومبر میں بنگلہ دیش کے وار کرائمز ٹریبونل نے 2024 کی عوامی تحریک کو طاقت کے ذریعے کچلنے کے مقدمے میں شیخ حسینہ کو غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی تھی۔
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس کارروائی میں تقریباً 1,400 افراد ہلاک ہوئے تھے، تاہم شیخ حسینہ نے جلاوطنی کے دوران ان تمام الزامات کو مسترد کر رکھا ہے۔
موجودہ حکومت پر دباؤشیخ حسینہ کی بھارت سے ممکنہ واپسی کی خبروں کے بعد وزیراعظم طارق رحمان کی حکومت پر عوامی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے کہ سابق وزیراعظم کے باقی ماندہ بااثر اتحادیوں کو بھی اہم سرکاری عہدوں سے ہٹا دیا جائے۔
اگرچہ بنگلہ دیش میں صدر کا منصب زیادہ تر آئینی اور رسمی نوعیت کا ہے اور انتظامی اختیارات وزیراعظم اور کابینہ کے پاس ہوتے ہیں، تاہم اگست 2024 میں شیخ حسینہ کے نئی دہلی فرار ہونے کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی خلا میں اس عہدے کی اہمیت بڑھ گئی تھی۔
2023 میں بلا مقابلہ منتخب ہوئے تھے76 سالہ محمد شہاب الدین کو 2023 میں عوامی لیگ کے امیدوار کی حیثیت سے بلا مقابلہ صدر منتخب کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے گزشتہ منگل کو وزیراعظم طارق رحمان کو اپنے استعفے کے فیصلے سے آگاہ کر دیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق صدر کے استعفے اور شیخ حسینہ کی متوقع واپسی سے بنگلہ دیش کی سیاسی صورتحال ایک نئے اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین