data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور(نمائندہ جسارت)نائب امیر جماعت اسلامی سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے درگاہ حضرت میاں میر میں ہدیۃ الہادی کے زیراہتمام ساتویں محرم کی شہادتِ حسینؓ کانفرنس، شیعہ سنی مشترکہ نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہادتِ حسینؓ باطل، ناجائز اقتدار کے خاتمے کے لیے عظیم جہاد تھا۔ میدانِ کربلا میں خانوادہ رسول ؐکی شہادتیں ملت اسلامیہ کے لیے اتحاد کا پیغام ہے۔ شیعہ سنی تفریق نے یزیدیت کی تباہ کاریوں کو پھیلایا اور حسینیت کا راستہ روکا ہے۔ کائنات کا مالک و خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ انسانوں کی تربیت کے لیے انبیاء و رسُل اور آسمانی کتابیں نازل فرمائیں اور دین کی تکمیل محمد مصطفیؐ کی ختم نبوت کے ذریعے ہوگئی۔ امام حسینؓ نے اپنے خاندان کو عظیم ترین مقاصد کے لیے قربان کیا کہ دین اسلام پر حملہ روکا جائے، انسانوں کو انسانوں کی بادشاہت سے بچایا جائے، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے بنیادی اصولوں سے انحراف کو روکا جائے۔ اسلامی دستور کے خاتمے، انسانوں کے بنیادی حقوق، عزت و شرف کے خاتمے کا اسلوب اقتدار کا خاتمہ ہو، عامۃ الناس کے خون پسینہ کی کمائی سے قومی خزانے کو بددیانتی اور عیاشیوں کے لیے استعمال سے روکا جائے۔ امام حسینؓ نے شہادت پاکر اسلام کے ابدی پیغام کو زندہ کردیا اور یزید نے بیدردی سے قتل کرکے ظاہری فتح پائی لیکن قیامت تک رُسوا ہوگیا۔ غزہ، ایران، پاکستان اور بنگلا دیش میں نامساعد حالات کے باوجود ملت اسلامیہ کو عزت ملی ہے۔ عالم اسلام عسکری، معاشی، سیاسی، علم و ٹیکنالوجی کے محاذوں پر مشترکہ لائحہ عمل بنالے تو عالم کفر یزید کی طرح رُسوا ہوگا۔ لیاقت بلوچ نے البلاغ ٹرسٹ کے اجلاس اور لاہور میں اہل سنت رابطہ کمیٹی کے تحفظ اہل بیت و تحفظ عظمت صحابہؓ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دو قومی نظریہ، قرآن و سنت کے انقلابی پیغام سے جڑے رہنا ملت اسلامیہ کے لیے تحفظ اور اجتماعی طاقت کا ذریعہ ہے۔ انسانوں پر انسانوں کی نہیں اللہ تعالیٰ کی بادشاہت اور محسن انسانیتؐ کی فرمانروائی ہی اہل اسلام کے لیے ترقی اور وقار کا راستہ ہے۔ شیعہ سنی اِس حقیقت کو تسلیم کرلیں کہ تفرقہ تباہی ہے اور تفرقہ بازی، دل آزاری، مقدسات کی توہین ہی اسلام کے مقابلے میں عالم کفر کی طاقت بن گیا ہے۔لیاقت بلوچ نے سوالات کے جواب میں کہا کہ سیاسی بحرانوں کے خاتمے کے لیے مسلم لیگ، پی پی پی اور پی ٹی آئی کو اپنی غلطیاں تسلیم کرنے اور ضد، اَنا، ہٹ دھرمی ترک کرنا ہوگی۔ مذاکرات سب چاہتے ہیں لیکن سیاسی اسٹیک ہولڈرز خود ابہام پیدا کرتے ہیں۔ باہم نوراکشتی کو تیار عناصر مذاکرات کی ہر کوشش کو ناکام بنادیتے ہیں۔ سیاسی بحرانوں کا خاتمہ قومی ڈائیلاگ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔لیاقت بلوچ نے کسانوں اور مزدوروں کے وفد سے گفتگو میں کہا کہ زراعت کی ترقی اور صنعت کا پہیہ چلانے کے لیے بجلی، گیس، تیل کی قیمتیں کم کرنے اور ٹیکسوں کا بوجھ کم تر سطح پر لانے سے قومی معیشت کو استحکام ملے گا۔ حکومت کی سیاسی اور اقتصادی ناکامی سیکورٹی رِسک بن گئی ہے۔ زراعت اور صنعت کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت جام کیا جارہا ہے، ملک کو درآمدات کی منڈی بنایا جارہا ہے، 47 فیصد عوام خط غربت سے نیچے چلے گئے ہیں، اقتصادی بحرانوں کا سدباب نہ کیا گیا تو اشرافیہ بھی ڈوبے گا اور 25 کروڑ عوام آزادی اور وقار سے محروم ہوںگے۔ جماعت اسلامی سیاسی اور معاشی بحرانوں کے خاتمے کے لیے قومی عوامی جدوجہد تیز تر کرے گی، ملک بھر میں عوامی کمیٹیوں کا قیام گراس رُوٹ لیول سے ”حق دو عوام کو” تحریک بنے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: لیاقت بلوچ نے کے خاتمے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟

پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف خارجہ محاذ پر سفارتی کامیابیوں کے دعوے کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ملک کے اندر سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی کے بحران گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ کسی بھی ریاست کی اصل طاقت اس کی اندرونی مضبوطی ہوتی ہے۔ اگر گھر کے اندر بے چینی، عدم استحکام اور عوامی بے اعتمادی بڑھ جائے تو دنیا میں حاصل ہونے والی سفارتی کامیابیاں بھی دیرپا ثابت نہیں ہوتیں۔
بین الاقوامی تعلقات میں ایک معروف اصول ہے کہ “All foreign policy begins at home یعنی خارجہ پالیسی کی بنیاد مضبوط داخلی استحکام پر ہوتی ہے۔ اگر بلوچستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں میں عوام خود کو غیر محفوظ، محروم یا نظرانداز محسوس کریں تو بیرونی دنیا میں پاکستان کا مقف بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔بلوچستان اس وقت پاکستان کی سلامتی اور معیشت کا سب سے اہم خطہ ہے۔ سی پیک، گوادر پورٹ، ریکوڈک، معدنی وسائل اور دیگر اسٹریٹجک منصوبے اسی صوبے سے وابستہ ہیں۔ لیکن افسوس کہ یہی صوبہ بدامنی، سیاسی بے اعتمادی اور احساسِ محرومی کا شکار ہے۔ ریاست اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کسی بھی ترقیاتی منصوبے کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
اسی طرح خیبر پختونخوا میں دہشت گردی ہو رہی ہے جبکہ آزاد کشمیر میں حالیہ سیاسی کشیدگی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ یہ تمام مسائل محض انتظامی نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کے ہیں جن کا حل طاقت کے استعمال سے زیادہ سیاسی مکالمے، بہتر حکمرانی اور عوامی اعتماد کی بحالی میں پوشیدہ ہے۔
اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والے حالات کے پیچھے بھارت کا کردار موجود ہے۔ اس امکان کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ہر ملک اپنے مفادات کے مطابق مخالف ریاست کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے داخلی مسائل کا ذمہ دار ہمیشہ بیرونی قوتوں کو قرار دے کر اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہو سکتے ہیں؟
اگر بھارت پاکستان کے خلاف سرگرم ہے تو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کے پاس مضبوط انٹیلی جنس ادارے، دفاعی صلاحیت اور قومی سلامتی کا پورا نظام موجود ہے۔خاص طور پر بلوچستان میں اصل مسئلہ سیاسی جواز کا ہے۔ جب عوام کو یہ احساس ہو کہ ان کی رائے اور ووٹ کی اہمیت کم ہو رہی ہے تو ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔ نوجوان نسل میں احساسِ محرومی کا بڑھنا کسی بھی ملک کے لیے خطرناک رجحان ہے۔ پاکستان کو ایسی صورتحال سے ہر قیمت پر بچنا ہوگا۔
آزاد کشمیر کی صورتحال بھی قومی توجہ کی متقاضی ہے۔ یہ محض ایک انتظامی یا علاقائی معاملہ نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر سے جڑا ہوا ایک حساس پہلو ہے۔ اگر آزاد کشمیر کے عوام میں بے چینی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات مقبوضہ کشمیر تک بھی پہنچتے ہیں اور پاکستان کے اصولی مقف کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام کی آواز کو سننا اور سیاسی مسائل کا آئینی و جمہوری حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔
پاکستان کو اس وقت الزام تراشی سے زیادہ خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ کون سی کمزوریاں ہیں جن سے ہمارے مخالف فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگر ہم اپنے گھر کو منظم، مضبوط اور منصفانہ بنا لیں تو بیرونی سازشیں خود بخود ناکام ہو جائیں گی۔
ریاست کی طاقت صرف اس کے ہتھیاروں، اداروں یا سفارتی تعلقات سے نہیں بلکہ اپنے عوام کے اعتماد سے بنتی ہے۔ جب عوام اور ریاست ایک صفحے پر ہوں تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ لیکن اگر داخلی تقسیم، سیاسی کشیدگی اور احساسِ محرومی بڑھتا رہا تو بیرونی کامیابیاں بھی وقتی ثابت ہوں گی۔
آج پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت ایک ایسی قومی حکمت عملی کی ہے جس میں خارجہ کامیابیوں کے ساتھ ساتھ داخلی استحکام، آئینی بالادستی، بہتر حکمرانی، سیاسی مفاہمت اور عوامی اعتماد کی بحالی کو اولین ترجیح دی جائے۔ کیونکہ مضبوط پاکستان کی بنیاد اسلام آباد کے سفارتی ایوانوں میں نہیں بلکہ بلوچستان، خیبر پختونخوا، سندھ، پنجاب، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام کے دلوں میں رکھی جائے گی۔
پاکستان کو اپنی علاقائی خارجہ پالیسی کا بھی غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ خصوصا افغانستان کے ساتھ مسلسل کشیدہ تعلقات کے نتیجے میں ہونے والے جانی، معاشی اور سفارتی نقصانات پر سنجیدہ غور ہونا چاہیے۔ گزشتہ برسوں میں سرحدی کشیدگی، دہشت گردی، مہاجرین کے مسائل اور سرحدی بندشوں نے دونوں ممالک کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سالانہ تجارت تقریبا پانچ سے چھ ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھی، مگر کشیدہ تعلقات کے باعث اس میں نمایاں کمی آئی جس کا براہِ راست اثر پاکستان کی معیشت، برآمدات اور سرحدی علاقوں کے کاروبار پر پڑا۔ یہ سوال اہم ہے کہ کیا پاکستان کی معیشت ایسے نقصانات کی متحمل ہو سکتی ہے؟ کیا ہمسایہ ممالک کے ساتھ مستقل کشیدگی قومی مفاد میں ہے یا اس سے نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہوتا ہے؟ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی علاقائی پالیسیوں پر ازسرِنو غور کرے۔ مضبوط خارجہ پالیسی وہی ہوتی ہے جو قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ اقتصادی مفادات، علاقائی تعاون اور پائیدار امن کو بھی ترجیح دے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں اسٹریٹ کرائم کے خاتمے اور کچے میں ڈاکوؤں کا صفایا بڑا چیلنج ہے، آئی جی سندھ
  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل