ملائیشیا کا داعش سے منسلک نیٹ ورک کے خاتمے کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوالالمپور (انٹرنیشنل ڈیسک) ملائیشیا کے حکام نے ایک ایسے نیٹ ورک کا خاتمہ کر دیا جو ملک میں کام کرنے والے بنگلا دیشی شہریوں کے درمیان داعش کے لیے فنڈ جمع کرنے اور نظریات کی ترویج کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کرتا تھا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق دارالحکومت کوالالمپور میں 2016 ء کے ایک حملے کے بعد حکومت نے مشتبہ دہشت گردانہ سرگرمیوں کے الزام میں سیکڑوں افراد کو حراست میں لیا ہے۔ ملائیشیا کارخانوں، شجرکاری اور تعمیراتی کام کرنے کے لیے غیر ملکی مزدوروں پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے جہاں ہر سال ہزاروں بنگلا دیشی شہری کام کے لیے منتقل ہوتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اپریل سے لے کر اب تک کارروائیوں میں 36 بنگلا دیشی شہریوں کو حراست میں لیا ہے،جو داعش سے متعلق تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔