عمران خان بڑی عید سے پہلے رہا ہوں گے، مظہر برلاس کا خصوصی انٹرویو
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
اپنے خصوصی انٹرویو میں نامور کالم نگار و تجزیہ کار مظہر برلاس نے کہا کہ جب پہلگام کا واقعہ ہوا اور بھارت نے پاکستان پر الزام لگایا اور سندھ طاس معاہدہ بھی یک طرفہ طور پر معطل کردیا تو اس کے بعد بھارتی دھمکیوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا اور پاکستان پر جارحیت ہوئی، مگر پاکستان کی سیاسی قیادت مودی کے معاملے پر بالکل خاموش تھی، تو پھر سوچنے والوں نے سوچا کہ عمران خان سے بات کی جائے تو ایک شخصیت عمران خان سے جیل میں دو مرتبہ ملی اور ان ملاقاتوں میں عمران خان کو اس طرح بریفنگ دی گئی جس طرح کسی وزیراعظم کو بریفنگ دی جاتی ہے۔ متعلقہ فائیلیںمظہر برلاس پاکستان کے معروف صحافی، کالم نگار اور تجزیہ کار ہیں، جو کئی دہائیوں سے اردو صحافت میں سرگرم عمل ہیں۔ انہوں نے روزنامہ جنگ اور ہم سب جیسے معتبر اخبارات و ویب سائٹس کے لیے کالمز تحریر کیے ہیں، جن میں وہ ملکی سیاست، عدلیہ، فوج اور سماجی مسائل پر بے باک انداز میں اظہارِ خیال کرتے ہیں۔ مظہر برلاس کی تحریروں کا انداز جرات مندانہ اور تنقیدی ہوتا ہے، جس میں وہ طاقتور اداروں اور شخصیات پر بھی تنقید کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ ان کے کئی کالمز کو ان کے بے لاگ انداز کی وجہ سے "ناقابلِ اشاعت" قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے "شہیدِ مشرق" جیسی کتاب بھی تحریر کی ہے، جو ان کی ادبی خدمات کا ثبوت ہے۔ مظہر برلاس کا یوٹیوب چینل بھی ہے، جہاں وہ موجودہ حالات، سیاست اور معاشرتی مسائل پر تجزیئے اور تبصرے پیش کرتے ہیں۔ ان کی تحریریں اور تجزیئے پاکستان میں صحافت کے میدان میں ان کی گہری بصیرت اور بے باک انداز کو ظاہر کرتے ہیں۔ سینیئر صحافی نادر بلوچ نے ان سے خصوصی انٹرویو کیا ہے، جو پیش خدمت ہے۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.
youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مظہر برلاس
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔