گولڈن ٹیمپل پر پاکستان کیجانب سے میزائل حملے جھوٹ ثابت
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
امرتسر(ویب ڈیسک ) حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران بھارت نے پاکستان اور سکھوں میں اختلاف پیدا کرنے کیلئے جھوٹا پروپیگنڈا کیا۔ سکھوں کو پاکستان مخالف کرنے کیلئے سری دربار صاحب امرتسر پر میزائل اور ڈرون حملوں کی جھوٹی خبریں پھیلائیں۔
سری دربار صاحب، امرتسر کےسربراہ گرنتھی گیانی رگھوبیر سنگھ نے ہندوستانی فوج کے تمام دعوؤں کی تردید کردی۔
گیانی رگھوبیر سنگھ کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج کے لیفٹیننٹ جنرل نے بتایاکہ پاکستانی افواج کی جانب سے سری دربار صاحب پر میزائلوں اور ڈرونز کا حملہ ہونا تھا۔سری دربار صاحب ایسا گھر ہے جہاں پر کوئی حملہ کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔
گیانی رگھوبیر سنگھ نے کہا کہ سری دربار صاحب میں کسی کو گنز کے ساتھ گھومنے کی اجازت نہیں، بھارتی حکومت کی جانب سے پاکستان پر گولڈن ٹیمپل پر میزائل حملے کا بے بنیاد الزام لگایا گیا۔
گیانی رگھوبیر سنگھ نے کہا کہ گولڈن ٹیمپل پر ایئر ڈیفنس گنز کی تعیناتی سے متعلق بھارتی فوج کے دعوے مضحکہ خیز ہیں، 24 اپریل سے 14 مئی تک امریکا میں تھا، دربار صاحب امرتسر میں موجود نہیں تھا، میں اگرموجود بھی ہوتا تب بھی ایسی کسی کاروائی کی اجازت نہ دیتا۔
گیانی رگھوبیر سنگھ نے کہا کہ بھارتی فوج یا حکومت کی جانب سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا، بھارتی فوج کے لیفٹیننٹ جنرل نے ٹی وی پر جو بیان دیا وہ مکمل طور پر جھوٹا اور بے بنیاد پروپیگنڈا ہے، بھارتی فوج نے اپنے جھوٹ پر پردہ ڈالنے کیلئے لیفٹیننٹ جنرل سے بیان دلوایا، لیفٹیننٹ جنرل کیخلاف سخت تحقیقات اور کارروائی ہونی چاہیے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ گیانی رگھوبیر سنگھ کے بیانات سے ثابت ہو گیا ہے کہ بھارت سکھوں کو پاکستان کے مخالف کرنے کیلئے جھوٹا پروپیگنڈا کرتا رہا، بھارتی حکومت اور اس کی مسلح افواج کی سکھوں کو پاکستان مخالف کرنے کی تمام تر کوششیں ناکام ہوئی ہیں، گیانی رگھوبیر سنگھ کے بیانات نے بھارتی حکومت اور اس کے مسلح افواج کا مکروہ چہرہ عیاں کردیا ہے۔
مزیدپڑھیں:کوئی چالان نہیں، صرف گرفتاری، 5 نئے ٹریفک قوانین متعارف
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: لیفٹیننٹ جنرل بھارتی فوج کرنے کی فوج کے
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔