ضیا الحسن لنجار کے گھر پر حملہ ناقابل برداشت ہے، وزیر داخلہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے سندھ کے علاقے مورو میں وزیرداخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجارکے گھر پر قوم پرست جماعت کے مشتعل افراد کے حملے کو نا قابل برداشت قرار دے دیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیر داخلہ نے صوبائی ہم منصب کے گھر پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ مظاہرین کا یہ فعل ناقابل برداشت ہے۔
انہوں نے کہا کہ حملہ آوروں نے قانون ہاتھ میں لے کر شرپسندی کا ارتکاب کیا۔ کسی کو بھی ایسے شرپسند واقعہ کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شہید بینظیرآباد کے ڈویژنل صدر اور وزیرداخلہ ضیاء لنجار کے گھر پر حملے کی مذمت کی۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ سندھ کے وزیرداخلہ ضیاء لنجار کے گھر پر حملہ دہشت گردی کے مترادف ہے، احتجاج کی آڑ میں شرپسندی کرنے والوں کے مذموم عزائم کھل کر سامنے آچکے ہیں۔
بلاول نے سندھ حکومت کو ہدایت کی کہ صوبے میں بدامنی کے مرتکب سازشی عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے گھر پر
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔