پاک بھارت مذاکرات میں کشمیری عوام کو بھی شامل کیا جانا چاہے، بیرسٹر سلطان
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
کشمیر ہائوس اسلام آباد میں مسلم لیگ نواز آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر سے ملاقات کے دوران ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر کنٹرول لائن کے اس پار اندھا دھند فائرنگ کر کے معصوم شہریوں کو شہید کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آزاد جموں و کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیری عوام کو بھی مذاکرات میں شامل کیا جانا چاہے۔ ذرائع کے مطابق بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کشمیر ہائوس اسلام آباد میں مسلم لیگ نواز آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر سے ملاقات کے دوران کہا کہ بھارت نے بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر کنٹرول لائن کے اس پار اندھا دھند فائرنگ کر کے معصوم شہریوں کو شہید کیا ہے۔ انہوں نے بھارت کی اس بزدلانہ حرکت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہماری پاک فوج نے بھارت کی جنگی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیکر اس کے غرور کو خاک میں ملا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل سہ فریقی ہونا چاہیے جس میں کشمیری عوام کو بھی مذاکرات کی میز پر بٹھانا چاہیے کیونکہ مسئلہ کشمیر کے اصل اور بنیادی فریق کشمیری عوام ہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو ان کا بنیادی حق خودارادیت دے کر حل کیا جانا چاہیے۔ دونوں رہنمائوں نے آزاد کشمیر کی تازہ ترین سیاسی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کشمیری عوام کو مسئلہ کشمیر کشمیر کے کہا کہ
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔