انسداد اسمگلنگ کارروائیوں میں 43 کروڑ سے زائد کی منشیات برآمد
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
راولپنڈی:
ملک بھر میں انسداد اسمگلنگ کارروائیوں میں 43 کروڑ روپے سے زائد کی منشیات برآمد کرلی گئی۔
ترجمان اینٹی نارکوٹکس فورس کے مطابق اے این ایف کا ملک کے مختلف شہروں میں منشیات اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے اور اس دوران 9 مختلف کارروائیوں کے دوران خاتون سمیت 6 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
آپریشنز کے دوران 43 کروڑ 44 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی 2294.
اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر دوحا جانے والے مسافر کے سامان سے 4.5 کلوگرام آئس برآمد ہوئی۔ اُدھر چکلالہ گیریژن، راولپنڈی میں کوریئر آفس میں ہالینڈ سے بھیجے گئے پارسل سے 40 گرام MDMA پاؤڈر برآمد کیا گیا۔
علاوہ ازیں ہربنس پورہ، لاہور میں کوریئر آفس میں آسٹریلیا بھیجے جانے والے 2 پارسلز میں موجود جوتوں سے 470 گرام آئس برآمد کی گئی۔ گوجرہ بس اسٹیشن ٹوبہ ٹیک سنگھ کے قریب ملزم کے قبضے سے 2.4 کلوگرام چرس برآمد کی گئی۔ چند دا قلعہ، گجرانوالہ کے قریب رکشہ میں سوار خاتون سمیت 2 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ ملزمان کی نشاہدہی پر واپڈا ٹاؤن گجرانولہ میں واقع گھر سے دوران تلاشی 2.4 کلوگرام افیون اور 15 کلوگرام چرس برآمد ہوئی۔
اُدھر ہزار گنجی کوئٹہ کے قریب اسمگلنگ کے لیے چھپائی گئی 300 کلوگرام افیون برآمد کرلی گئی۔ ضلع چاغی کے غیر آباد علاقے کوہ سلطان میں اسمگلنگ کے لیے چھپائی گئی 1970 کلوگرام افیون برآمد کرلی گئی۔
تمام کارروائیوں میں گرفتار ملزمان کے خلاف انسداد منشیات ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: برآمد کرلی گئی
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔