Express News:
2026-06-03@02:38:33 GMT
گھارو پمپنگ اسٹیشن پر بجلی معطل ہونے سے کراچی کے کئی علاقوں میں پانی کی فراہمی متاثر
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
کراچی:
کراچی: گھارو پمنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ پر بجلی معطل ہونے کی وجہ سے شہر میں پانی کی فراہمی متاثر ہونے کا امکان ہے۔
ترجمان واٹر بورڈ کارپوریشن کے مطابق کے الیکٹرک کی جانب سے گھارو پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ پر کیبل اور سی ٹی فالٹ صبح ساڑھے 10 بجے ہوا اور کئی گھنٹے گزر جانے کے باوجود بھی فالٹ تاحال صحیح نہیں ہوسکا۔
ترجمان کے مطابق کے الیکٹرک فالٹ کے باعث گھارو پمپنگ اسٹیشن مکمل طور پر بند ہے، جس سے شہر کو یومیہ 30 ایم جی ڈی پانی فراہم کیا جاتا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ پمپنگ اسٹیشن معطل ہونے کی وجہ سے پورٹ قاسم، بن قاسم ٹاؤن، شاہ فیصل ٹاؤن، پی این ایس مہران، پی اے ایف بیس فیصل اور کارساز کے علاقے متاثر ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پمپنگ اسٹیشن
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔