ملک میں 26 یا 27 جون کو مون سون کے داخل ہونے کی توقع
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک کا کہنا ہے کہ رواں سال مون سون میں زیادہ بارشیں متوقع ہیں،ملک میں 26 یا 27 جون کو مون سون کے داخل ہونے کا امکان ہے، مون سون کا سیزن جولائی سے 15 ستمبر تک چلتا ہے تاہم اس سال تین چار روز قبل آئے گا۔
سینیٹر شیری رحمان کی زیر صدارت سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کا اجلاس نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی عمارت میں منعقد ہوا۔
اس موقع پر این ڈی ایم اے حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ مون سون میں شمالی اور مشرقی پنجاب میں زیادہ بارش ہوگی، گلیشئرز کے پگھلنے سے لوکل فلڈز، نالوں میں طغیانی آئے گی، راجن پور اور ڈی جی خان میں بھی زیادہ بارشیں ہوسکتی ہیں۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ پنجاب میں 344 ملی میٹر بارش ہوتی ہے جبکہ اس بار 388 ملی میٹر بارش ہو سکتی ہے، شمالی مشرقی پنجاب میں بارش 50 فیصد زیادہ ہوگی، جنوبی پنجاب میں بھی زیادہ بارش ہوگی۔
شمالی خیبر پختونخوا میں کم جبکہ جنوبی خیبر پختونخوا میں نارمل یا نارمل سے زیادہ بارش ہوگی،اسی طرح چترال اور گلیشیر والے کے پی میں بارش کم ہو گی۔
خیبر پختونخوا میں عام طور پر 243 ملی میٹر بارش ہوتی ہے، اس سال 300 ملی میٹر بارش ہو سکتی ہے،آزاد کشمیر میں بھی زیادہ بارش ہو گی، بلوچستان میں کم بارش ہوگی اور درجہ حرارت زیادہ ہوگا۔ مون سون میں کلاوڈ برسٹ بھی زیادہ ہوں گے۔
حکام کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں جاری ہیٹ ویو کی 6 ماہ پہلے ہی ایڈوائزری جاری کردی گئی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ملی میٹر بارش ہو زیادہ بارش ہو بھی زیادہ بارش ہوگی
پڑھیں:
چین کا ایک اور کامیاب خلائی مشن، 5 سیٹلائٹس مقررہ مدار میں داخل
چین نے اپنی خلائی سرگرمیوں میں ایک اور اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے جمعہ کے روز لیجیان-1 وائی 15 کیریئر راکٹ کے ذریعے 5 مصنوعی سیٹلائٹس کامیابی سے خلا میں بھیج دیے۔
چینی حکام کے مطابق راکٹ کو مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بج کر 33 منٹ پر شمال مغربی چین میں واقع ڈونگ فینگ کمرشل اسپیس انوویشن پائلٹ زون سے لانچ کیا گیا۔
کامیاب پرواز کے بعد راکٹ نے تمام 5 سیٹلائٹس کو ان کے مقررہ مدار میں پہنچا دیا، جس کے ساتھ مشن اپنے تمام اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔
اس موقع پر جاری بیان میں کہا گیا کہ تمام سیٹلائٹس منصوبہ بندی کے مطابق اپنے مخصوص مدار میں داخل ہو گئے ہیں، جس سے لانچنگ کی کامیابی کی تصدیق ہوگئی۔
یہ مشن چین کے تجارتی خلائی پروگرام کی مسلسل پیش رفت کا مظہر ہے، حالیہ برسوں میں چین نے سیٹلائٹ لانچنگ، خلائی تحقیق اور تجارتی خلائی سرگرمیوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور ملک اپنے خلائی پروگرام کو مزید وسعت دینے کے لیے مختلف راکٹ مشنز اور سیٹلائٹ منصوبوں پر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے کامیاب مشنز نہ صرف چین کی لانچنگ صلاحیتوں کو مزید مضبوط بناتے ہیں بلکہ تجارتی خلائی صنعت کی ترقی اور مستقبل کے خلائی منصوبوں کے لیے بھی اہم سنگ میل تصور کیے جاتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چین خلائی مشن سیٹلائٹ مدار