نئی دہلی: بھارت میں مودی سرکار نے پاکستان کے ہاتھوں فوجی و سفارتی ناکامی کے بعد ملک کے مسلمانوں کے خلاف بلڈوزر آپریشن تیز کر دیا ہے۔ 

ذرائع کے مطابق ہزاروں مسلمان خاندانوں کے گھروں کو غیرقانونی قرار دے کر مسمار کیا جا رہا ہے جبکہ ان افراد کو بےدخل کر کے کھلے آسمان تلے چھوڑ دیا گیا ہے۔

بین الاقوامی نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی کی رپورٹ کے مطابق مودی سرکار نے احمد آباد کے علاقے چندولا تالاب میں مسلمانوں کے مکانات کو نشانہ بنایا۔ 

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 7 ہزار سے زائد گھر زبردستی خالی کرا کر مٹی کا ڈھیر بنا دیے گئے۔ حیران کن طور پر انہی علاقوں میں موجود ہندوؤں کے مکانات کو بلڈوزر سے مکمل طور پر محفوظ رکھا گیا۔

مودی حکومت اس آپریشن کو غیرقانونی بنگلہ دیشی باشندوں کے خلاف قرار دے رہی ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ مسلمانوں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کی واضح مثال ہے۔ دفاعی اور سیاسی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مودی ایک بار پھر گجرات 2002 جیسے فسادات کو دہرانے کی تیاری کر رہا ہے۔

20 مئی 2025 کو مسمار کیے گئے گھروں میں ایک عام شہری محمد چاند کا گھر بھی شامل تھا، جو بار بار انصاف کی دہائی دیتا رہا، مگر کوئی شنوائی نہ ہوئی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ محض تجاوزات کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بھارت میں ہندوتوا انتہا پسندی کے فروغ اور مسلمانوں کے خلاف ریاستی جبر کا کھلا مظاہرہ ہے۔


 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مسلمانوں کے کے خلاف

پڑھیں:

سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026

59 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔

اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔

سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران