پشاور:

صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے بیشتر اضلاع شدید گرمی کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ صوبے کے میدانی اور جنوبی اضلاع میں نہ صرف گرمی کی شدت برقرار رہے گی بلکہ لو چلنے کا سلسلہ بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔

پشاور اور ڈیرہ اسماعیل خان میں درجہ حرارت سب سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا، جہاں پارہ 46 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا، جو رواں سیزن کا اب تک کا بلند ترین درجہ حرارت ہے۔

پشاور ایئرپورٹ کے اطراف کا علاقہ بھی شدید گرمی سے محفوظ نہ رہ سکا، جہاں درجہ حرارت 44 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح تخت بھائی میں پارہ 42 ڈگری تک جا پہنچا، جبکہ سیدو شریف سوات میں بھی گرمی کا زور رہا اور درجہ حرارت 40 ڈگری رہا۔

چترال کا موسم نسبتاً خوشگوار رہا، جہاں درجہ حرارت 36 ڈگری ریکارڈ کیا گیا، تاہم دیر کا درجہ حرارت 37 جب کہ تیمرگرہ لوئر دیر میں 42 ڈگری تک ریکارڈ کیا گیا۔

بالاکوٹ اور دروش (چترال لوئر) میں گرمی کا اثر نمایاں رہا اور دونوں علاقوں میں درجہ حرارت 38 ڈگری تک جا پہنچا۔ اُدھر کالام میں موسم نسبتاً معتدل رہا، جہاں درجہ حرارت 32 ڈگری ریکارڈ کیا گیا، جبکہ کاکول میں درجہ حرارت 36 ڈگری رہا۔

محکمہ موسمیات نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ اگلے چند دن مزید گرم رہنے کی توقع ہے، اس لیے دھوپ سے بچاؤ اور پانی کا زیادہ استعمال ضروری ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ریکارڈ کیا گیا ڈگری تک

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈ سے تباہی، 28 افراد جاں بحق، 47 گھر متاثر
  • کراچی میں ہواؤں کی رفتار کم ہوگئی، درجہ حرارت بڑھنے کا امکان
  • چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن