نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی جانب سے چینی کی فی کلو ریٹیل قیمت 164 روپے کرنے کی سخت ہدایات کے باوجود اب تک چینی کی قیمت میں کمی نہ ہو سکی ہے، دکانوں پر چینی 180 سے 185 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہی ہے، جبکہ ہول سیل مارکیٹ میں 50 کلو کا تھیلا 8600 یعنی 172 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔

سیاست میں موجود شوگرملز مالکان اور ان کے رشتے دار کون ہیں؟َیہ بھی پڑھیں:

رواں سال کے آغاز میں ملک بھر میں میں چینی کی قیمت 140 روپے تھی جبکہ منڈیوں میں چینے کے 50 کلو والے تھیلے کی قیمت 6ہزار 200 روپے تھی، اب پرچون میں فی کلو قیمت 180 سے 185 روپے ہو گئی ہے جبکہ 50 کلو والے تھیلے کی قیمت 1800 روپے بڑھ کر 8 ہزار 600 روپے کا ہو گیا ہے۔

حکومت نے شوگر ملز کے اصرار پر اضافی چینی ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دی تھی، اسی وجہ سے چینی کی قیمت میں اچانک بڑا اضافہ ہو گیا ہے، البتہ ایکسپورٹ کی اجازت اس شرط پر دی گئی تھی کہ لوکل مارکیٹ چینی کے ریٹ میں اضافہ نہیں ہو گا۔

چینی کی ایکسپورٹ

حکومت نے ملک بھر میں چینی کی اضافی مقدار موجود ہونے اور قیمتوں میں اضافہ نہ ہونے کی یقین دہانی پر گزشتہ سال جون سے اکتوبر 2024 کے دوران 7 لاکھ 50 ہزار ٹن اور اکتوبر کے بعد 5 لاکھ میٹرک ٹن چینی ایکسپورٹ کرنےکی اجازت دی تھی، رواں مالی سال کے 7 ماہ کے دوران سب سے زیادہ افغانستان کو 26 کروڑ 27 لاکھ ڈالر مالیت کی چینی ایکسپورٹ کی گئی ہے۔

گزشتہ ہفتے 14 مئی کو نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت چینی کی قیمتوں سے متعلق اجلاس ہوا تھا، جس میں اسحاق ڈار نے شوگر ملز ایسوسی ایشن کے نمائندگان کو چینی کی قیمت فوری کم کرنے کا حکم دیا تھا، اسحاق ڈار نے چینی کا ایکس مل ریٹ 164 روپے فی کلو سے کم کرکہ 159 روپے تک لانے کا حکم دیا تھا جس پر عمل نہ ہو سکا ہے۔

اس سے قبل 19 مارچ 2025 کو بھی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے چینی کی قیمتوں میں اضافے کا سخت نوٹس لیا تھا اور حکم دیا تھا کہ اب سے ریٹیل قیمت 164 روپے فی کلو جبکہ ایکس ملز قیمت 159 روپے فی کلو رہے گی، تاہم 2 ماہ گزرنے کے باوجود چینی کی قیمتوں میں کمی نہیں ہو سکی ہے۔

دکانداروں کا مؤقف

دکانداروں کا کہنا ہے کہ ہم 172 روپے فی کلو کے حساب سے منڈیوں سے خریداری کر رہے ہیں، پھر اس پر اخراجات اور کرائے علیحدہ ہیں، تو کیسے ہم چینی 164 روپے فی کلو میں فروخت کر سکتے ہیں، اگر حکومت کہتی ہے کہ چینی 154 روپے فی کلو فروخت کرے تو وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ منڈیوں میں بھی چینی 159 روپے کے حساب سے دستیاب ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسحاق ڈار چینی چینی ایکسپورٹ شوگر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسحاق ڈار چینی چینی ایکسپورٹ شوگر چینی کی قیمتوں چینی ایکسپورٹ چینی کی قیمت روپے فی کلو قیمتوں میں اسحاق ڈار

پڑھیں:

امریکا ایران کشیدگی کے اثرات: تیل کی قیمتوں میں تیزی، بٹ کوائن 2 ماہ کی کم ترین سطح پر

امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی جھڑپوں اور تعطل کا شکار امن مذاکرات کے بعد عالمی توانائی منڈیوں میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سرمایہ کاروں نے خطرات کے پیشِ نظر کرپٹو کرنسیوں سے ہاتھ کھینچنا شروع کر دیا۔ دوسری جانب مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے وابستہ کمپنیوں کے حصص نے عالمی اسٹاک مارکیٹوں کو سہارا فراہم کیا۔

امریکا اور ایران کے درمیان تازہ فوجی کارروائیوں کے بعد عالمی توانائی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ شدت اختیار کر گیا ہے۔ بدھ کے روز خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے دن اضافہ دیکھا گیا، جبکہ امریکی ڈالر جاپانی ین کے مقابلے میں 160 کی سطح کے قریب پہنچ گیا۔

امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات تعطل کا شکار ہونے اور خلیج میں دوبارہ کشیدگی بڑھنے کے بعد امریکی خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت تقریباً 2 فیصد اضافے کے ساتھ 95.40 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

ادھر ڈالر 160 ین کی سطح کو چھونے کے بعد کچھ پیچھے ہٹ گیا، کیونکہ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ جاپانی حکام اس سطح پر پہنچنے کے بعد کرنسی مارکیٹ میں مداخلت کر سکتے ہیں۔

تیل کے ذخائر میں مسلسل کمی

رسد کے حوالے سے بھی منڈی کو سہارا ملا ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق امریکی پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوا ہے کہ امریکا میں خام تیل کے ذخائر مسلسل ساتویں ہفتے کم ہوئے ہیں۔

29 مئی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران خام تیل کے ذخائر میں 68 لاکھ بیرل کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ سرمایہ کار امریکی حکومت کی جانب سے جاری کیے جانے والے سرکاری ذخیرہ جاتی اعداد و شمار کے منتظر ہیں۔

آبنائے ہرمز کھولنے کی کوششیں آسان نہیں

اے این زیڈ بینک کے سینئر کموڈٹی اسٹریٹجسٹ ڈینیل ہائنس کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی مکمل بحالی ایک مشکل مرحلہ ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ ایران اس اہم آبی گزرگاہ کے بڑے حصوں میں بارودی سرنگیں بچھا چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ کچھ مزید جہاز اس راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم مجموعی بحری ٹریفک اب بھی جنگ سے پہلے کی سطح سے کافی کم ہے۔

امریکی اور ایرانی دعوے آمنے سامنے

امریکی افواج نے آبنائے ہرمز میں واقع ایرانی جزیرے قشم پر کارروائی کی۔ اس کے جواب میں امریکی سینٹرل کمان (سینٹکام) کے مطابق ایران نے کویت اور بحرین کی جانب میزائل داغے، تاہم وہ یا تو اپنے اہداف تک پہنچنے میں ناکام رہے یا انہیں راستے میں ہی روک لیا گیا۔

دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین میں موجود امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔

گزشتہ ہفتے امریکا اور ایران نے اعلان کیا تھا کہ وہ جنگ بندی کے لیے ایک ابتدائی سمجھوتے تک پہنچ گئے ہیں، تاہم اب تک کسی حتمی معاہدے پر دستخط نہیں ہو سکے۔

سرمایہ کاروں کی امیدوں کو دھچکا

میلبورن میں بروکریج ادارے پیپر اسٹون کے تحقیقی شعبے کے سربراہ کرس ویسٹن کے مطابق گزشتہ ہفتے تک مالیاتی منڈیوں کو یقین تھا کہ دونوں ممالک کسی نہ کسی مفاہمتی یادداشت تک پہنچ جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب صورتحال زیادہ غیر یقینی دکھائی دے رہی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکراتی عمل پہلے کی نسبت زیادہ پیچیدہ ہو گیا ہے اور سرمایہ کار اپنی سابقہ پوزیشنیں ختم کر رہے ہیں۔

بٹ کوائن 2 ماہ کی کم ترین سطح پر

فوجی کشیدگی کے باعث کرپٹو کرنسی مارکیٹ بھی شدید دباؤ کا شکار رہی۔

دنیا کی سب سے بڑی ڈیجیٹل کرنسی بٹ کوائن مسلسل 3 تجارتی سیشنز میں تقریباً 10 فیصد گرنے کے بعد 66 ہزار 123 ڈالر کی سطح تک آ گئی، جو 2 ماہ کی کم ترین سطح ہے۔

اے آئی کمپنیوں کے حصص میں تیزی برقرار

جہاں ایک طرف جنگی خدشات نے مالیاتی منڈیوں کو متاثر کیا، وہیں مصنوعی ذہانت سے متعلق کمپنیوں کے حصص میں تیزی برقرار رہی۔

امریکی اسٹاک مارکیٹ کے اہم اشاریے ایس اینڈ پی 500 کے فیوچر معاہدوں میں معمولی کمی دیکھی گئی، تاہم ایشیا میں اے آئی شعبے کی بدولت حصص کی منڈیوں نے نئی بلندیاں چھو لیں۔

تائیوان اور جاپان کے اسٹاک انڈیکس ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے، جبکہ جنوبی کوریا کی مارکیٹ بند رہی۔

مارویل ٹیکنالوجی کے حصص میں غیر معمولی اضافہ

چِپ ساز کمپنی مارویل ٹیکنالوجی کے حصص میں 32.5 فیصد کا زبردست اضافہ ہوا اور وہ ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے۔

اس اضافے کی ایک بڑی وجہ این ویڈیا کے چیف ایگزیکٹو جینسن ہوانگ کا بیان تھا، جنہوں نے تائی پے میں منعقدہ کمپیوٹیکس نمائش کے دوران مارویل ٹیکنالوجی کو ’اگلی ایک ٹریلین ڈالر مالیت والی کمپنی‘ قرار دیا۔

اسپیس ایکس کی تاریخی شیئر فروخت کی تیاری

دوسری جانب خلائی ٹیکنالوجی کمپنی اسپیس ایکس آئندہ ہفتے ایک بڑی ابتدائی عوامی شیئر فروخت (آئی پی او) کی تیاری کر رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق کمپنی 55 کروڑ 56 لاکھ حصص فی شیئر 135 ڈالر کی متوقع قیمت پر فروخت کر کے تقریباً 75 ارب ڈالر جمع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

شرح سود میں اضافے کی توقعات

امریکی معیشت سے متعلق تازہ اعداد و شمار نے یہ اشارہ دیا ہے کہ ملازمتوں کی طلب اب بھی مضبوط ہے اور معیشت کو فوری طور پر شرح سود میں کمی کی ضرورت نہیں۔

اپریل میں امریکا میں نئی ملازمتوں کے مواقع 5 برسوں کی بلند ترین رفتار سے بڑھے، جس کے بعد سرمایہ کاروں نے شرح سود میں کمی کی توقعات مزید کم کر دی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر آنے والے روزگار کے اعداد و شمار توقعات سے بہتر رہے تو امریکی مرکزی بینک فیڈرل ریزرو مستقبل میں شرح سود مزید بڑھا سکتا ہے، جس سے امریکی ڈالر کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔

ادائیگیوں کے ادارے کور پے کے ایشیا پیسیفک کرنسی اسٹریٹجسٹ پیٹر ڈراگیسیوچ کے مطابق 2026 کے ابتدائی مہینوں میں امریکی معیشت کی رفتار بہتر ہونے کے آثار ہیں، جس کے نتیجے میں روزگار کے اعداد و شمار مارکیٹ کی موجودہ توقعات سے زیادہ مضبوط آ سکتے ہیں۔

عالمی کرنسی منڈیوں کی صورتحال

غیر ملکی زرِ مبادلہ کی منڈیوں میں نسبتاً استحکام دیکھا گیا۔ یورو 1.1627 ڈالر پر ٹریڈ ہوا جبکہ امریکی ڈالر 159.86 ین کی سطح پر برقرار رہا۔

ادھر آسٹریلیا کے معاشی اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ مارچ کی سہ ماہی کے دوران ملکی اقتصادی ترقی کی رفتار سست رہی۔ اگرچہ ڈیٹا سینٹرز میں سرمایہ کاری بڑھی، لیکن درآمدات میں اضافے نے مجموعی نمو پر دباؤ ڈالا۔ اس کے باوجود آسٹریلوی ڈالر 0.7177 امریکی ڈالر کی سطح پر مستحکم رہا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایران امریکا جنگ کرپٹو کرنسی

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
  • امریکا ایران کشیدگی کے اثرات: تیل کی قیمتوں میں تیزی، بٹ کوائن 2 ماہ کی کم ترین سطح پر
  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟