لاہور:

پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں خودکشی کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہونے لگا  ہے اور رواں ماہ کے پہلے  23 دنوں میں مختلف وجوہات پر 12 افراد نے خودکشی  کی ہے۔

ترجمان ایدھی  فاؤنڈیشن کے مطابق مختلف علاقوں میں خودکشی کرنے والوں میں ایک خاتون اور  11 مرد شامل ہیں۔ 2 مئی کو برکی کے علاقے پیراگون سٹی میں 40 سالہ امداد حسین نے خود کو گولی مار کر خودکشی کی۔  اسی طرح 2 مئی کو کاہنہ میں 22 سالہ آفتاب میو نے گندم میں رکھنے والی گولیاں کھا کر اپنی جان لی۔

علاوہ ازیں 5 مئی کو جعفریہ کالونی شیراکوٹ میں 40 سالہ رضا عباس نے سر میں گولی مار کر اپنی جان اپنے ہاتھوں گنوائی۔ 6 مئی کو ہربنس پورہ پیر نصیر روڈ پر 30 سالہ عمر نے اپنے سینے میں گولی مار کر خودکشی کی۔

13 مئی کو سندر کے علاقے میں سابق کسٹم آفیسر عثمان نے اپنی اہلیہ عائشہ کو زخمی کرنے کے بعد سر میں گولی مار کر خودکشی کرلی۔ 16 مئی کو گلستان کالونی باغبانپورہ میں 40 سالہ عبدالغفار نے گندم میں رکھنے والی گولیاں کھا کر اپنی جان لی۔

18 مئی کو شاہدرہ کی چوکی سگیاں کے علاقے میں 35 سالہ نجمہ بی بی نے خود سوزی کی۔ 18 مئی کو اعوان مارکیٹ نشتر کالونی میں 21 سالہ عادل نے گلے میں پھندا ڈال کر اپنی جان  لی اور 19 مئی کو باٹا پور میں نعمان نامی نوجوان نے 24 سالہ نمرہ کو زخمی کرنے کے بعد اپنے سر میں گولی مار کر خودکشی کرلی۔

اسی طرح  20 مئی کو یوسف نگر شیراکوٹ میں 24 سالہ سفیان منظور نے زہریلی گولیاں کھا کر اپنی جان لی۔ 20 مئی ہی کو باٹا پور کے علاقے میں 22 سالہ نعمان نے عشق کی ناکامی پر خود کو گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کر لیا۔

ترجمان ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق 21 مئی گجر پورہ چائنہ اسکیم 35 سالہ زوہیب نے نامعلوم وجوہات پر لکڑی کے آرے سے شہ رگ کاٹ کر زندگی کا خاتمہ کر لیا۔

خودکشی کے واقعات میں گھریلو تنازعات اور ذاتی نوعیت کے محرکات کار فرما رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: گولی مار کر خودکشی میں گولی مار کر کر اپنی جان کے علاقے مئی کو

پڑھیں:

اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔

اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔

انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔

سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • اٹلی‘ 4 پاکستانی قتل: مکمل معلومات نہیں ملیں: دفتر خارجہ 
  • اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
  • گلشن اقبال میں تیز رفتار ڈمپر الٹ گیا، شہری معجزانہ طور پر محفوظ، مشتعل افراد کا کلینر پر تشدد
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق