پاکستان کو قسط جاری کرنے کا فیصلہ ایگزیکٹو بورڈ نے باہمی رضا مندی سے کیا، ڈائریکٹر کمیونیکیشن آئی ایم ایف
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
جولی کوزیک— فائل فوٹو
عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) ڈائریکٹر کمیونیکیشن جولی کوزیک نے کہا ہے کہ قسط جاری کرنے کا فیصلہ ایگزیکٹو بورڈ نے باہمی رضا مندی سے کیا۔
واشنگٹن میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے جولی کوزیک کا کہنا تھا کہ قرض کی قسط کےلیے ایگزیکٹو بورڈ کی ووٹنگ خفیہ رکھی جاتی ہے، ایگزیکٹو بورڈ کے ممبر کی تقرری اور استعفیٰ کسی بھی ملک کا اپنا اختیار ہے، ایگزیکٹو بورڈ میں بھارتی ممبر کے استعفے سے بورڈ کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔
نیوز کانفرنس میں جولی کوزیک سے بھارتی صحافی نے اپنی مرضی کا سوال کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ کیا پاکستان آئی ایم ایف کا پیسہ سرحد پار دہشتگردی میں استعمال کرسکتا ہے؟
اس پر جولی کوزیک نے کہا کہ قرض پروگرام پاکستان میں صرف زرمبادلہ کے ذخائر کے لیے ہے، آئی ایم ایف کا قرض پروگرام پاکستان میں بجٹ سپورٹ کےلیے نہیں، رقم صرف اسٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر کےلیے دی گئی ہے۔
جولی کوزیک نے کہا کہ رقم بیلنس آف پیمنٹ کےلیے ہے، حکومت پاکستان کے بجٹ کےلیے نہیں، قرض کی رقم سے حکومت پاکستان کو فنڈنگ نہیں ہوسکتی، پروگرام کی شرط ہے کہ حکومت پاکستان اسٹیٹ بینک سے قرض نہیں لے سکتی۔
اسلام آباد عالمی مالیاتی ادارے نے پاکستان کے.
جولی کوزیک نے کہا کہ حکومت پاکستان کی اسٹیٹ بینک سے بارؤنگ زیرو ہے، پاکستان نے موجودہ قرض پروگرام کےلیے تمام شرائط پوری کیں، پاکستان کےلیے قرض کے قسط جاری کرنے کا فیصلہ میرٹ پر کیا گیا، پاکستان نے آئی ایم ایف کا موجودہ قرض پروگرام ستمبر 2024 میں لیا تھا۔
جولی کوزیک کا کہنا تھا کہ پاکستان نے قرض پروگرام کے تمام معاشی اہداف حاصل کیے ہیں، پاکستان نے معاشی اصلاحات کے تمام ٹارگٹس حاصل کیے ہیں، پاکستان کی معاشی کارکردگی ایسی تھی کہ قسط جاری کرنے میں کوئی مشکل نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ معاشی کارکردگی کی بنیاد پر پاکستان کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ کیا گیا تھا، پاکستان اور بھارت کی حالیہ جنگ میں انسانی جانوں کے ضیاع کا بڑا دکھ ہے، توقع ہے کہ پاکستان اور بھارت حالیہ کشیدگی کا پُرامن حل تلاش کرلیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: حکومت پاکستان ایگزیکٹو بورڈ قرض پروگرام ا ئی ایم ایف پاکستان نے پاکستان کے پاکستان ا نے کہا کہ
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
پنجاب حکومت (Punjab Government)نے یکم اور 2 اگست کو ہفتہ اور اتوار کی سرکاری تعطیلات کے پیش نظر صوبے کے سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی تنخواہیں، الاؤنسز اور پنشن مقررہ تاریخ سے قبل ادا کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
محکمہ خزانہ پنجاب کے مطابق تمام سرکاری ملازمین کو جولائی کی تنخواہیں اور واجب الاؤنسز 31 جولائی کو ادا کیے جائیں گے، جبکہ صوبے کے تمام پنشنرز کو بھی اسی روز جولائی کی پنشن جاری کر دی جائے گی۔
محکمہ خزانہ نے بتایا کہ اس سلسلے میں گورنر پنجاب (Governor of Punjab) نے 31 جولائی کو تنخواہوں، الاؤنسز اور پنشن کی قبل از وقت ادائیگی کی منظوری دے دی ہے تاکہ تعطیلات کے باعث ادائیگی میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہو۔
مزیدپڑھیں:دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
فیصلے پر عملدرآمد کے لیے محکمہ خزانہ نے اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب (Accountant General Punjab)، تمام ضلعی ٹریژری دفاتر اور ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس افسران کو باضابطہ ہدایات جاری کر دی ہیں۔ اس کے ساتھ متعلقہ بینکوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 31 جولائی کو سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنرز کی پنشن کی بروقت ادائیگی کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کریں۔
حکام کے مطابق یکم اور 2 اگست کو ہفتہ اور اتوار کی تعطیلات کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو بروقت ادائیگی یقینی بنائی جا سکے اور انہیں مالی معاملات میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔